حکومت میں 3 بڑے استعفے، وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے سے انکار

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے گرد بحران کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ مقامی انتخابات میں اپنی جماعت کی عبرتناک شکست کے بعد اب انہیں حکومتی صفوں میں بغاوت کا سامنا ہے، جہاں متاثرین کے امور کی وزیر ایلکس ڈیوس جونز اور تحفظ کی وزیر جیس فلپس نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس سے قبل ریاستی وزیر میاتا فانبولیہ نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اسٹارمر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا، تاہم برطانوی وزیر اعظم نے ’حکومت جاری رکھنے‘ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ میاتا فانبولیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے استعفے میں اسٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ ملک اور پارٹی کے مفاد میں درست قدم اٹھائیں اور اقتدار کی منظم منتقلی کے لیے ٹائم فریم مقرر کریں تاکہ نئی ٹیم ان تبدیلیوں پر عمل کر سکے جن کا ہم نے ملک سے وعدہ کیا تھا۔

دوسری جانب اسٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنے وزراء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عوام حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنا کام جاری رکھے۔ حکومتی بیان کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ میں یہی کر رہا ہوں اور بطور حکومت ہمیں یہی کرنا چاہیے۔

اپنے استعفے کے مطالبات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کے پاس لیڈر کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ کار موجود ہے اور وہ طریقہ کار ابھی تک فعال نہیں کیا گیا ہے۔

70 سے زائد ارکانِ پارلیمان کی مخالفت

خبر رساؓں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کیر اسٹارمر سے استعفے کے مطالبات ایک ایسے وقت میں زور پکڑ رہے ہیں جب امریکہ میں سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن کی تعیناتی کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے تعلقات جنسی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ تھے۔

یہ سیاسی ہیجان مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی شکست کے بعد پیدا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود لیبر پارٹی کے 403 ارکان میں سے 80 سے زائد ارکانِ پارلیمان نے اسٹارمر سے فوری استعفے یا رخصتی کے لیے ٹائم فریم دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پارٹی نظم و ضبط کے ساتھ نیا لیڈر منتخب کر سکے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق نائب وزیر اعظم ڈیوڈ لیمی اور وزیر خارجہ ایویٹ کوپر سمیت کئی سینیئر وزراء نے اسٹارمر سے ان کی پوزیشن کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق گذشتہ شام وزیر داخلہ شبانہ محمود وہ سب سے اعلیٰ حکومتی شخصیت بن گئیں جنہوں نے اسٹارمر کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔

اس کے باوجود وزیر اعظم نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے لڑنے کا عہد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کے اندر اپنے ناقدین کو غلط ثابت کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سیاسی بحران کا آغاز 7 مئی سنہ 2026ء کو برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد ہوا، جس کے نتیجے میں لیبر پارٹی اپنی تاریخ میں پہلی بار ویلش پارلیمنٹ پر کنٹرول کھو بیٹھی ہے۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کے مختلف قانون ساز اداروں میں پارٹی کو سابقہ پوزیشن کے مقابلے میں 1400 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسٹارمر نے اس انتخابی شکست کی ذمہ داری تو قبول کی ہے لیکن وہ مستعفی ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *