تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
4 جون بروز جمعرات، سرزمینِ پشین ایک عظیم، تاریخ ساز اور فقید المثال عوامی اجتماع کی میزبانی کرنے جا رہی ہے، جو “تحفظِ مدارس و حقوقِ بلوچستان” کے عنوان سے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہوگا۔ اس عظیم الشان جلسے کے مہمانِ خصوصی قائدِ جمعیت و ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہوں گے، جبکہ اس تاریخی اجتماع کی قیادت صوبائی امیر و سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کر رہے ہیں۔
یہ جلسہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام، دینی مدارس اور صوبے کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط عوامی آواز ثابت ہوگا۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں بلوچستان کے عوام کے مسائل، وسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور جراتمندانہ کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی صوبائی امیر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی مدبرانہ، بےباک اور عوام دوست قیادت میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے عوامی مسائل، دینی مدارس کی بندش، نوجوانوں کے مستقبل اور صوبے کے وسائل کے تحفظ کے حوالے سے ہر سطح پر بھرپور آواز بلند کر رہی ہے، جو یقیناً قابلِ تحسین اور باعثِ فخر امر ہے۔
پشین کا یہ عظیم الشان اجتماع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہوگا کہ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق، وسائل اور دینی تشخص کے حوالے سے مکمل طور پر بیدار ہیں اور وہ ایسی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں جو ان کے احساسات، امنگوں اور مسائل کی حقیقی ترجمان ہے۔ جمعیت علماء اسلام وہ واحد جماعت ہے جو نہ صرف وفاقی سطح پر بلکہ بلوچستان کی سطح پر بھی صوبے کے وسائل کو بلوچستان کے عوام کا حق سمجھتی ہے اور ہر فورم پر اس مؤقف کی بھرپور وکالت کر رہی ہے۔
یقیناً 4 جون کا یہ جلسہ بلوچستان کے کامیاب ترین، منظم ترین اور تاریخی عوامی اجتماعات میں شمار ہوگا، جہاں عوام کی بھرپور شرکت یہ پیغام دے گی کہ بلوچستان کے عوام اپنے دینی تشخص، مدارس کے تحفظ اور صوبے کے بنیادی حقوق کے معاملے پر متحد، بیدار اور پُرعزم ہیں۔
عوام الناس، بالخصوص جمعیت علماء اسلام کے کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرنے والے تمام ساتھیوں سے اپیل ہے کہ اس عظیم الشان جلسے کی افادیت، اہمیت اور پیغام کو فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ابلاغی پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کریں، تاکہ جلسے کی تشہیری مہم مزید مؤثر اور تیز ہو سکے۔ یہ وقت اتحاد، شعور، بیداری اور اجتماعی جدوجہد کو مضبوط بنانے کا ہے۔
ان شاء اللہ العزیز، پشین کا یہ عظیم الشان اور تاریخ ساز اجتماع بلوچستان کی سیاسی، دینی اور عوامی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ثابت ہوگا اور یہ جلسہ عوامی قوت، اتحاد اور شعور کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آئے گا۔