حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی اثاثے منتقلی کا رجحان بعض امیر ایشیائی سرمایہ کاروں میں دیکھا جا رہا ہے۔
جمعہ کے روز سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق دبئی میں مقیم کچھ کاروباری افراد نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی رقوم دوسرے ممالک منتقل کرنے کی کوشش کی۔
دبئی میں رہنے والے دو بھارتی کاروباری افراد نے اپنے مقامی بینک کھاتوں سے ایک ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم سنگاپور منتقل کرنے کی کوشش کی۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔
تاہم ابتدائی طور پر یہ دبئی اثاثے منتقلی مکمل نہ ہو سکی۔
کاروباری افراد کے مطابق حملوں کے بعد بینکاری نظام میں تکنیکی مسائل پیدا ہو گئے جس کے باعث رقم کی منتقلی میں رکاوٹ آئی۔
دونوں افراد نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران اس طرح کی دبئی اثاثے منتقلی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔
جب کسی خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار عموماً اپنی رقوم سنگاپور یا سوئٹزرلینڈ جیسے محفوظ مالیاتی مراکز میں منتقل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
دبئی کو طویل عرصے سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ مالیاتی مرکز سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد کچھ سرمایہ کار اپنی مالی حکمت عملی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔