اختیارات کے ناجائز استعمال اور عدالتی فیصلوں کی کھلی بے توقیری کی داستان

( رپورٹ: نظام الدین)

لائینز ایریا پریڈی اسٹریٹ کے لنک روڈ پر قائم یہ دو بلند و بالا عمارتیں بظاہر صرف کنکریٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ کراچی میں سرکاری زمینوں پر ہونے والے مبینہ کھیل، چائنا کٹنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عدالتی فیصلوں کی کھلی بے توقیری کی داستان سنارہی ہیں۔ دونوں عمارتیں ایک، ایک ہزار گز کے (FL) پلاٹ پر قائم ہیں، مگر حیران کن طور پر ایک عمارت دوسری کے مقابلے میں دونوں طرف سے زیادہ باہر نکلی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جو خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اسی متنازع زمین پر ماضی میں 32، 32 گز کی جعلی دکانیں بنا کر ان کی فائلیں مبینہ طور پر “چائنا کٹنگ” کے ذریعے فروخت کی گئیں۔ بعدازاں ایک نجی بلڈر نے “برج الامین” کے نام سے کمرشل منصوبے کی تعمیر شروع کردی۔ معاملہ جب سنگین نوعیت اختیار کرگیا تو نیب نے ریفرنس نمبر 49/2015 دائر کیا اور تحقیقات کے بعد احتساب عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملوث افراد کو 7، 7 سال قید اور فی کس 50،50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ زمین واگزار کرکے دوبارہ لائینز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (LARP) کے حوالے کی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کس اختیار، کس قانون اور کس طاقت کے تحت اسی متنازع سرکاری زمین کو دوبارہ نجی بلڈر کے حوالے کردیا گیا؟
الزام ہے کہ پروجیکٹ کے بعض افسران نے لائینز ایریا پروجیکٹ کے “بائی لاز”، سرکاری قواعد اور عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے نہ صرف اس زمین کو اصل حالت میں بحال نہیں کیا بلکہ پبلک آکشن (عوامی نیلامی) جیسے قانونی تقاضے کو بھی نظر انداز کردیا۔ حیرت انگیز طور پر وہی متنازع منصوبہ نئے نام “برج الجنت” کے ساتھ دوبارہ زندہ کردیا گیا اور تعمیرات کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔
یہ سوال اب صرف ایک پلاٹ یا ایک بلڈنگ کا نہیں رہا بلکہ یہ پورے کراچی کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر عدالت کے فیصلے، نیب کے ریفرنس اور سرکاری بائی لاز بھی چند بااثر عناصر کے سامنے بے معنی ہوجائیں تو پھر قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ جب لائینز ایریا پروجیکٹ کے دیگر معاملے پر آواز اٹھائی گئی اور مبینہ کرپشن کی نشاندہی کی گئی تو لائینز ایریا پروجیکٹ کے قائم مقام “پی ڈی” کے ایک مبینہ گماشتے کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ رویہ نہ صرف آزادیِ صحافت پر حملہ ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت سمجھا جارہا ہے کہ شاید کچھ حلقے سچ سامنے آنے سے خوفزدہ ہیں ۔ یہ معاملہ صرف ایک صحافی، ایک کالم نگار یا ایک ادارے کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر شہری کے حقِ ملکیت، حقِ معلومات اور حقِ انصاف کا مسئلہ ہے۔ اگر آج سوال پوچھنے والوں کو خاموش کرایا گیا تو کل ہر وہ شخص نشانے پر ہوگا جو سرکاری زمینوں، قبضہ مافیا، چائنا کٹنگ یا مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھائے گا۔
متعلقہ اداروں، عدلیہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام کو فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر ایک عدالتی فیصلے کے باوجود متنازع زمین دوبارہ انہی ہاتھوں میں جاسکتی ہے تو پھر کراچی میں سرکاری زمینوں کا مستقبل کس کے رحم و کرم پر ہے؟ کراچی پہلے ہی قبضہ مافیا، غیرقانونی تعمیرات، چائنا کٹنگ اور بدترین شہری بدانتظامی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے میں اگر سوال اٹھانے والوں کو دھمکیوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جائے تو اس سے عوام کے شکوک مزید گہرے ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو دبانے کی ہر کوشش آخرکار ایک بڑے سوال میں بدل جاتی ہے، اور جب سوال عوام کے ذہن میں اتر جائے تو پھر طاقتور سے طاقتور دیوار بھی اسے روک نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *