آزاد کشمیرمیں الیکشن کی آمد

پاکستان میں روزِاول سے جمہوریت، مداری کے کھیل میں ایک کردار ”بچہ جمہورا“کی سی ہے۔جب الیکشن کاوقت آتا ہے،سرمایہ دار،جاگیردار،داداگیر،ڈیرے دار، بڑی برادری والے،اپنی اپنی ڈگڈی اوربچے جمہورے لے کرعوام کے لیے پنڈال سنبھال لیتا ہے۔جوپچھلی حکومت میں ساتھ ہوتا ہے،وہی پچھلی حکومت کی کرپشن کی کہانیاں سنارہاہوتا ہے،اوربچے جمہورے سے پوچھتا ہے بتاوکیاایساہی ہے نا۔اوربچہ جمہورااس کی بات کی تائید ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اس کی وضاحت بھی کردیتا ہے،ہاں اسی لیے آپ نے وہ پارٹی چھوڑدی ہے،اوراندھے عوام اس پرتالیاں بجاتے ہیں۔اورپچھلی پارٹی چھوڑ کرنئی پارٹی میں شمولیت کرکے اپنے گلے میں خودہی ہار ڈال لیتے ہیں۔اورکچھ بے چارے سیدھے سادھے یا پاگل قسم کے نظریاتی کارکن جب ان نئے لوگوں کوااپنی جگہ لیتے دیکھتے ہیں توگجرات کے ایک غریب شاعر کی طرح سٹیج پرچڑھ کراپناغصہ نکال کرچلے جاتے ہیں۔کہتے ہیں گجرات میں شاعروں نے ایک اپنی انجمن بنائی اس میں بڈھے بڈھے شاعر جومزدوریا”چھیڑو“قسم کے تھے انہوں نے بھوکے ننگے اس انجمن کوچلایا جب حالات بہترہوگئے توذرااپٹوڈیٹ قسم کے شعراء نے اس کوسنبھال لیا،اب وہ بھینسیں چرانے والے بابوں سے چوری چوری ہی مشاعرے کروانے لگے،ایک مشاعرے کے دن ایک بابے کوکسی نے بتایا کہ آپ کی انجمن کے تحت مشاعرہ ہے بابے نے بھینسیں وہاں بیلے ہی میں کسی کے سپردکیں،اورمشاعرے کوچل دیا صرف تہبند بندھاہوااوراوپرسے ننگا”ہاکوپھوکی“ پسینے میں شرابورمشاعرے میں آپہنچا،پرانابانی انجمن تھااسے دیکھ کرسب خاموش ہوگئے،وہ سیدھاسٹیج پرچڑھاسیکرٹری سے مائیک چھینا،اورکلام پیش کیا،”اسیں تُرتُرکے تُرے ہوگئے،کھُنڈے وانگ قصائیاں دے چھُرے ہوگئے،کل جہڑے بہن فلاں نہیں سی چنگے،اج اوچنگے تے اسیں برے ہوگئے،“ساتھ ہی بابے نے ہاتھ اٹھایااورکہاالسلام علیکم،اورمائیک دیا سیکرٹری کو اورسٹیج سے اترکربیلے کی طرف چل دیا۔آزاد کشمیرمیں الیکٹیبل کے لیے تویہ ایک معمول کی بات ہے،کہ ہرالیکشن میں ایک نئی پارٹی کے ساتھ ہوتے ہیں،لیکن عام غریب اورپاگل قسم کاووٹرہرباریہی کہتا ہے ”اج اوچنگے تے اسیں برے ہوگئے“۔چونکہ آزاد کشمیرمیں حکومت کاقیام بیس کیمپ کے طورپر کیاگیا تھاکہ جدوجہدِ آزادی کوچلایا جاسکے،لیکن ہوایہ کہ یہاں جمہوریت کے نام پرچندخانداانوں نے اپنا کاروبارچلالیا،پاکستان کے ضلع روالپنڈی کے مطابق رقبے اورشاید آبادی اس سے بھی کم ہوکے دس ضلعے اورکئی تحصیلیں بنالی گئیں،کیونکہ ہمارے پاس کاروبارکے لیے سیاست اورملازمت کے علاوہ اورکچھ بھی نہیں،لہذاہماری جدوجہد آزادی صرف اسی میں ہے کہ ہم پاکستان سے زیادہ سے زیادہ بجٹ لے سکیں،اوراس بجٹ کوکاغذوں میں کھپانے کے لیے ہمارے پاس ایسے کھاتے ہونے چاہییں کہ ہم اسے کھاتے بھی رہیں لیکن اس کا پتانہ عوام کو چلے نہ پاکستانی حکمرانوں کو۔،پچھلے چندبرسوں میں پاکستان کے محب ِ پاکستان اداروں کے اندرکچھ ایسے بزرجمہردر آئے،جنہوں نے پاکستان کوپرامن اورسوٗٹرزلینڈطرزکاملک بنانے کاکام شروع کردیااب اس کے لیے اسی قسم کے محب ِپاکستان سیاست دانوں کی بھی ضرورت تھی،توانہوں نے نیا پاکستان بنانے کے لیے پرانے مستری اورمزدورایک ٹھیکیدارکی فرم میں جمع کردئیے،عالمی انجینیرامریکہ کونگرانی سونپ دی گئی،ٹھیکیدارنے امریکی صدرسے کھلے ڈھلے ملاقات کی اورورلڈکپ جیتااورواپس آگئے،جشن منائے جانے لگے،انڈین وزیراعظم بھی امریکہ گئے اوروہ بھی نمستے نمستے کہتے ہنستے واپس آگئے،اب پاکستان نیا بن رہاتھاکہ انڈیانے متنازع منظورشد کشمیرکواپنے آئین سے متنازع ریاست کی شقیں ختم کرکے کشمیرکواپنا صوبہ قراردے دیا،نئے پاکستان کے بانیوں نے چوں تک بھی کرناگوارہ نہ کیاعوام اورآزادکشمیرکی حکومت جونئے پاکستان کے ٹھیکیدارکی پارٹی کی نہیں تھی،انہوں نے کچھ جزبزکی توکشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے پاکستان کی قیادت مظفر آبادمیں تشریف لائی جوامریکی صدرسے ملاقات کرکے آئی تھی،مظفر آباد کے لیے اس سے بڑی اعزازکی کیا بات ہوتی،اب قیادت نے مظفر آباد اسمبلی میں کھڑے ہوکرفرمایاانڈیا کی طرف جانے کی کوشش نہ کرناوہاں نولاکھ فوج ہے،توانڈیاولوں نے کارٹون چلادیاوزیراعظم پاکستان بھاگتے ہوے کہہ رہے ہیں اُدھرنولاکھ فوج ہے۔ اس کے بعدآزاد کشمیرمیں الیکشن آگئے،کرناخداکاکیا ہواآزادکشمیرکے اکثرالیکٹیبلزنئے پاکستان کی ٹیم میں شامل ہوگئے،کسی شاعرنے یہ غزل شایدپاکستان کے الیکٹیبلزکے بارے میں ہی کہی ہوگی،”یاں جانے کو سب یاربیٹھے ہیں،کچھ توچلے گئے باقی تیاربیٹھے ہیں“۔اورآج کل اس غزل کامطلع پھرگنگنایا جارہا ہے،اللہ خیرکرے۔اورعوام سے گزارش ہے خداراجمہوریت کا منہ کالا نہ کریں،آپ بھی ان الیکٹیبلز کی طرح جونقدرقم دے اس کے ساتھ اعلان کرتے جائیں،اورمہرلگاتے وقت آنکھیں بندکرکے لگائیں کہ جس کوقضانے ہمارے سرپرمسلط کرناہوگااس پرمہرلگ جائے گی۔سب کا بھلا سب کی خیر،وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *