حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلام کی تاریخ میں ایک ایسے روشن مینار کی مانند ہے جہاں علم، شجاعت، زہد اور عدالت یکجا نظر آتے ہیں۔ آپؓ نہ صرف نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، بلکہ اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد اور “باب العلم” (علم کا دروازہ) بھی .
حضرت علیؓ کی ولادت مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ آپؓ نے بچپن سے ہی نبی کریم ﷺ کے زیرِ سایہ پرورش پائی، جس کی وجہ سے آپ کے اخلاق و عادات میں نبوی تربیت کا عکس نمایاں تھا۔ جب حضور ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا، تو بچوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ نے لبیک کہا (اس وقت آپ کی عمر تقریباً 10 سال تھی)۔
آپؓ کو “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) اور “حیدرِ کرار” کے القاب سے نوازا گیا۔ میدانِ جنگ میں آپ کی تلوار “ذوالفقار” نے بڑے بڑے سورماؤں کو پچھاڑ دیا۔
ہجرت کی رات: اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نبی ﷺ کے بستر پر لیٹ گئے تاکہ آپ ﷺ بحفاظت ہجرت کر سکیں۔
غزوات: بدر، احد، خندق اور خاص طور پر خیبر میں آپ نے وہ کارنامے انجام دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ قلعہ خیبر کا بھاری دروازہ اکیلے اکھاڑ دینا آپ کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔ آپؓ قرآنی علوم، فقہ، اور عربی لغت کے ماہر تھے۔ آپ کے خطبات اور اقوال حکمت و دانائی سے بھرپور ہیں، جو آج بھی “نہج البلاغہ” جیسی کتب میں محفوظ ہیں۔خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپؓ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔
آپؓ پیوند لگے کپڑے پہنتے اور بازار میں عام لوگوں کی طرح چلتے تھے۔
آپؓ کا قول تھا: “دنیا ایک مردار کی طرح ہے، جو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اسے کتوں کے ساتھ صبر کرنا پڑے گا”۔ یعنی آپ نے کبھی دنیاوی جاہ و حشم کو اہمیت نہیں دی۔آپؓ کے دورِ خلافت میں انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک بار آپ کا مقابلہ ایک یہودی سے عدالت میں ہوا، تو قاضی نے آپ کے حق میں فیصلہ دینے کے بجائے ثبوت مانگے، اور ثبوت نہ ہونے پر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ یہ دیکھ کر وہ یہودی متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا”میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا” (ابو داؤد)نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“علی سے محبت مومن کی نشانی ہے اور علی سے بغض منافق کی نشانی ہے۔”نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“علی سے محبت مومن کی نشانی ہے اور علی سے بغض منافق کی نشانی ہے” (صحیح مسلم)
نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا.
“کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰؑ کے لیے ہارونؑ تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں؟”
غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا:”کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں”
پھر جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا گیا۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
نبی ﷺ نے فرمایا:
“میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”(ترمذی)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔
اے اللہ! جو اس سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما،
اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔”
نبی ﷺ نے فرمایا:
“اے علی! تم سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو گا اور تم سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو گا۔”
مسند احمد، صحیح مسلم (معنی)
نبی ﷺ نے دعا فرمائی:
“اے اللہ! علی کے دل کو ہدایت سے بھر دے اور اس کی زبان کو حق پر قائم رکھ۔: حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلام کی تاریخ میں ایک ایسے روشن مینار کی مانند ہے جہاں علم، شجاعت، زہد اور عدالت یکجا نظر آتے ہیں۔ آپؓ نہ صرف نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے، بلکہ اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد اور “باب العلم” (علم کا دروازہ) بھی .
حضرت علیؓ کی ولادت مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ آپؓ نے بچپن سے ہی نبی کریم ﷺ کے زیرِ سایہ پرورش پائی، جس کی وجہ سے آپ کے اخلاق و عادات میں نبوی تربیت کا عکس نمایاں تھا۔ جب حضور ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا، تو بچوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ نے لبیک کہا (اس وقت آپ کی عمر تقریباً 10 سال تھی)۔
آپؓ کو “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) اور “حیدرِ کرار” کے القاب سے نوازا گیا۔ میدانِ جنگ میں آپ کی تلوار “ذوالفقار” نے بڑے بڑے سورماؤں کو پچھاڑ دیا۔
ہجرت کی رات: اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نبی ﷺ کے بستر پر لیٹ گئے تاکہ آپ ﷺ بحفاظت ہجرت کر سکیں۔
غزوات: بدر، احد، خندق اور خاص طور پر خیبر میں آپ نے وہ کارنامے انجام دیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ قلعہ خیبر کا بھاری دروازہ اکیلے اکھاڑ دینا آپ کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔ آپؓ قرآنی علوم، فقہ، اور عربی لغت کے ماہر تھے۔ آپ کے خطبات اور اقوال حکمت و دانائی سے بھرپور ہیں، جو آج بھی “نہج البلاغہ” جیسی کتب میں محفوظ ہیں۔خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپؓ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔
آپؓ پیوند لگے کپڑے پہنتے اور بازار میں عام لوگوں کی طرح چلتے تھے۔آپؓ کا قول تھا: “دنیا ایک مردار کی طرح ہے، جو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اسے کتوں کے ساتھ صبر کرنا پڑے گا”۔ یعنی آپ نے کبھی دنیاوی جاہ و حشم کو اہمیت نہیں دی۔آپؓ کے دورِ خلافت میں انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک بار آپ کا مقابلہ ایک یہودی سے عدالت میں ہوا، تو قاضی نے آپ کے حق میں فیصلہ دینے کے بجائے ثبوت مانگے، اور ثبوت نہ ہونے پر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ یہ دیکھ کر وہ یہودی متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا”میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا” (ابو داؤد)نبی کریم ﷺ نے فرمایا“علی سے محبت مومن کی نشانی ہے اور علی سے بغض منافق کی نشانی ہے۔”نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“علی سے محبت مومن کی نشانی ہے اور علی سے بغض منافق کی نشانی ہے” (صحیح مسلم)نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا.“کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰؑ کے لیے ہارونؑ تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں؟”غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا:”کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں”
پھر جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا گیا(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
نبی ﷺ نے فرمایا:”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”(ترمذی)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔
اے اللہ! جو اس سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما،
اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔”نبی ﷺ نے فرمایا:“اے علی! تم سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہو گا اور تم سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو گا۔”
مسند احمد، صحیح مسلم (معنی)
نبی ﷺ نے دعا فرمائی:
“اے اللہ! علی کے دل کو ہدایت سے بھر دے اور اس کی زبان کو حق پر قائم رکھ۔” حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت 21 رمضان 40ھ (661ء) کو کوفہ میں ہوئی، جب آپ نمازِ فجر کے دوران عبدالرحمن بن ملجم نامی خارجی کے زہر آلود خنجر کے حملے سے زخمی ہوئے۔ آپ چوتھے خلیفہ راشد تھے، جنہیں شیرِ خدا اور حیدرِ کرار جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی عمرِ مبارک تقریباً 62-63 سال تھی۔
عبدالرحمن بن ملجم خارجی، جس نے کوفہ کی مسجد میں نماز کے دوران حملہ کیا۔
وقت و مقام: 19 رمضان کو صبحِ صادق کے وقت مسجدِ کوفہ میں حملہ کیا گیا اور آپ 21 رمضان 40ھ کو شہید ہوئے۔آپ کا دورِ حکومت 35ھ سے 40ھ تک