تحریر: محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
بلوچستان کا علاقہ ریکوڈک دنیا کے اہم ترین معدنی ذخائر میں شمار ہوتا ہے، جہاں تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نصف صدی سے زائد عرصے تک سالانہ تقریباً دو لاکھ ٹن تانبا اور ڈھائی لاکھ اونس سونا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔
ریکوڈک منصوبہ صرف معاشی لحاظ سے اہم نہیں بلکہ اس کے ساتھ سیاسی اور قانونی تنازعات کی ایک طویل تاریخ بھی جڑی ہوئی ہے۔ 1993 میں بلوچستان اور وفاقی حکومت نے معدنیات کی تلاش کے لیے ایک غیر ملکی کمپنی، ٹیتھیان کاپر کمپنی (Tethyan Copper Company)، کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ کمپنی دراصل چلی کی اینٹوفاگاستا اور کینیڈا کی بیرک گولڈ پر مشتمل ایک کنسورشیم ہے۔
18 فروری 2008 کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کی اتحادی حکومت قائم ہوئی، جس کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی بنے۔ اس دور میں جمعیت علماء اسلام حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت تھی۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد جب صوبوں کو زیادہ خودمختاری حاصل ہوئی تو ریکوڈک منصوبہ بلوچستان اسمبلی میں ازسرِ نو زیرِ بحث آیا۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام نے اس معاملے کو شفاف انداز میں اسمبلی کے فلور پر پیش کیا اور اس پر تفصیلی بحث کروائی۔
اسی دوران جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات (P&D) اور سینیئر وزیر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے معاہدے کے کئی اہم پہلوؤں پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ منصوبے میں بلوچستان کا حصہ صرف 25 فیصد جبکہ 75 فیصد غیر ملکی کمپنی کا رکھا گیا ہے، جبکہ اخراجات کا بوجھ صوبائی حکومت پر ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ تمام اخراجات کمپنی برداشت کرے اور معاہدے سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
چونکہ، غیر ملکی کمپنی کی جانب سے اربوں ڈالر کی پیشکش کی گئی اور یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ ادائیگیاں بیرونِ ملک—جیسے آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ—میں کی جا سکتی ہیں۔ تاہم جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ایک اصولی اور جراتمندانہ مؤقف اپناتے ہوئے اس پیشکش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وسائل بلوچستان کے عوام کی امانت ہیں اور ان پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔
جب مذاکرات ناکام ہوئے تو بلوچستان حکومت نے کمپنی کے لائسنس کی تجدید سے انکار کر دیا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چلا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے 1993 کے معاہدے کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے بلوچستان حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔
سیاسی سطح پر بھی اس معاملے کے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ اس وقت کی اتحادی حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا، جسے متعدد دانشوروں اور سیاسی مبصرین نے ریکوڈک معاملے سے جوڑا۔ بعد ازاں بھی جمعیت علماء اسلام کو صوبائی حکومت سے دور رکھا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس تمام عمل میں حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کا کردار نہایت کلیدی اور فیصلہ کن رہا۔ ایک زیرک، دوراندیش اور مدبر سیاستدان کے طور پر انہوں نے نہ صرف معاہدے کی خامیوں کی نشاندہی کی بلکہ بلوچستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور اور مؤثر آواز بلند کی۔ انہوں نے ہر فورم پر بلوچستان کے عوام کے حقوق کا مقدمہ لڑا—چاہے وہ قومی اسمبلی کا فلور ہو یا ایوانِ بالا (سینیٹ)۔
حال ہی میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے اس امر پر زور دیا کہ ریکوڈک آج بھی بلوچستان کے مستقبل، وسائل کی ملکیت اور وفاق و صوبوں کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبوں میں مکمل شفافیت، آئینی تقاضوں کی پاسداری اور مقامی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تاکہ حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی ممکن ہو سکے۔