(24نیوز)بلوچستان میں ایران سے متصل سرحدی اور ساحلی ضلع گوادر میں ایرانی پیٹرول مزید مہنگا،ایرانی پیٹرول کی قیمت 30 سے 40 روپے فی لٹراضافہ ہوگیا۔
گوادر میں تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ حکومت پاکستان کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں کیے جانے والے اضافے کی وجہ سے نہیں بلکہ سرحدی علاقے کنٹانی ہور پر کاروبار کی بندش کی وجہ سے ہوا ۔
مکران ڈویژن میں سرکاری حکام نےبھی کنٹانی ہور کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے وفاقی اتھارٹیز نے بند کیا ہے۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ ایران سے متصل جیونی کے علاقے میں واقع کنٹانی ہور کے علاقے سے سمندر کے راستے ایرانی تیل گوادر میں آتا ہے۔
گوادر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ ایک شخص ماجد اصغر کے مطابق پہلے گوادر میں ایرانی پیٹرول فی لیٹر 170 روپے سے 180 روپے میں فروخت ہو رہا تھا لیکن کنٹانی ہور کی بندش کی اطلاعات کے بعد فی لیٹر قیمت 200 روپے سے 210 روپے تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد حکومت کی جانب سے اس ہفتے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی تجارتی رپورٹ کے مطابق برطانوی خام تیل برینٹ 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 101 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جمعہ کے روز ہونے والے جائزے میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے سبب پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 10 روپے اضافے کا اعلان کیا جائیگا۔