انعامات کا مقصد شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بنانا ہے، اگر کوئی شخص دوردراز علاقے سے کرپشن کے مستند ثبوت لے کرآتا ہے تو حکومت اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا پیغام
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 14 مئی 2026ء ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں کرپشن کے ثبوت فراہم کرنے والوں کیلئے انعامات کا اعلان کیا جائےگا، انعامات کا مقصد شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی سے متعلق اہم پیغام میں کہا کہ عوام یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ حلف اٹھانے کے دن سے آج تک چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ اب تک تقریباً 49 افسران کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں، 19 افراد کو معطل کیا جا چکا ہے جبکہ 17 اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید 47 افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر 150 سے زائد کیسز مختلف مراحل میں ہیں اور احتساب کا عمل مسلسل جاری ہے۔ حکومت چونکہ گراس روٹ لیول سے آنے والے لوگوں پر مشتمل ہے، اس لیے نظام میں موجود خرابیوں اور کرپشن کے تمام راستوں کا بخوبی علم ہے۔ خیبرپختونخوا میں پہلے بھی حکومت کا حصہ رہنے والے سینئر افراد کی مشاورت سے کرپشن کے مختلف ذرائع کی نشاندہی کی گئی اور الحمدللہ ان میں سے بیشتر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ماضی میں بعض عناصر اپنے اصل فرائض کے بجائے حکومتی معاملات میں مداخلت کرتے تھے۔ افسران پر دباؤ ڈالا جاتا تھا، دھمکیاں دی جاتی تھیں اور پوسٹنگ و ٹرانسفر سے متعلق معلومات پہلے ہی لیک ہو جاتی تھیں تاکہ ذاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں۔ اب اس نظام کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب پوسٹنگ اور ٹرانسفر مکمل طور پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے تحت شفاف انداز میں ہو رہی ہیں۔ تعینات ہونے والے افسران کو بھی پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہی شفافیت نظام کو بہتر بنانے اور غیر ضروری مداخلت کے خاتمے کا سبب بن رہی ہے۔ حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کیلئے بعض کالے چینلز لانچ کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان چینلز پر تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جن کا مقصد صوبائی حکومت پر کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ کالے چینلز کون سے ہیں۔ اسی طرح تقریباً 150 صحافیوں سے فارم ہاؤسز پر ملاقاتیں کی گئیں، جہاں انہیں مالی فوائد دے کر حکومت کے خلاف بیانیہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔ روزانہ کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں، لیکن جب ثبوت مانگے جاتے ہیں تو کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ دوسری جانب 5300 ارب روپے کی کرپشن ایسی ہے جس کی نشاندہی آئی ایم ایف رپورٹ میں کی گئی، اور یہ کرپشن وفاقی حکومت کے نمائندوں سے منسلک ہے، مگر اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ جبکہ یہاں اگر کوئی ایک بھی مستند ثبوت لے آئے تو فوری کارروائی کی جائے گی۔ کرپشن کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ چاہے کوئی ایم پی اے ہو، ایم این اے، سینیٹر، پارٹی عہدیدار، بیوروکریٹ، دوست یا رشتہ دار، ہر شخص قانون کے سامنے برابر ہوگا۔ اسی طرح بیوروکریسی کو ڈرانے یا دباؤ ڈالنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوام کی سہولت کیلئے جلد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے خصوصی نمبرز جاری کیے جائیں گے تاکہ جس کسی کے پاس بھی کرپشن کے مستند ثبوت ہوں، وہ براہِ راست رابطہ کر سکے۔ حکومت خود کارروائی کرے گی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے دروازے عوام کیلئے کھولے جائیں گے۔ اگر کوئی شخص دور دراز علاقے سے تعلق رکھتا ہو اور خود نہ آ سکتا ہو تو اس کے آنے جانے کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر گاڑی بھی بھیجی جائے گی، لیکن شرط صرف یہ ہے کہ کرپشن کے مستند ثبوت فراہم کیے جائیں۔ یہ چیئرمین عمران خان کا وژن ہے کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اسی لیے جس کسی کے پاس بھی کرپشن کے مستند ثبوت ہوں، وہ ہم تک پہنچائے۔ حکومت نہ صرف آنے جانے کے اخراجات برداشت کرے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر گاڑی بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کرپشن کے ثبوت فراہم کرنے والوں کیلئے انعامات کا بھی اعلان کیا جائے گا، تاکہ صوبے میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔