(رپورٹ ، نظام الدین)
میں ایک لکھاری ہوں اور جب کبھی مجھے یہ خوش فہمی حد سے زیادہ ہونے لگتی ہے کہ محکمہ پولیس میں میرے بہت سے دوست ہیں، تو یہ خوش فہمی اسی لمحے چکنا چور ہو جاتی ہے جب میں کسی بے گناہ کی مدد یا کسی جائز کام کے لیے اپنے ان دوستوں سے رجوع کرتا ہوں۔ اس وقت مجھے شدت سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوستی اور تعلقات اپنی جگہ، مگر ‘سسٹم’ اپنی جگہ۔ یہ سسٹم کسی کا دوست نہیں، اسی لیے میں اکثر اپنے دوستوں سے کہتا ہوں:
“پولیس کا بیڑا، نہ تیرا نہ میرا”
حال ہی میں جب برگیڈ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی زد میں خود میرے دوستوں کی دکانیں آئیں، تو میں خود تھانے جا پہنچا۔ تھانے کا ماحول ہمیشہ کی طرح بظاہر خاموش مگر اندرونی بے چینی سے لبرہیز تھا۔ ایس ایچ او صاحب سے ملاقات ہوئی، گفتگو کا سلسلہ چلا اور درپیش مسائل زیرِ بحث آئے۔ انہوں نے جرائم میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ نفری کی کمی کو قرار دیا۔ یہ بات ایک حد تک درست ہو سکتی ہے، کیونکہ کراچی جیسے پھیلے ہوئے میگاسٹی میں محدود وسائل اور کم نفری کے ساتھ امن و امان قائم رکھنا آسان کام نہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف نفری کی کمی ہی جرائم کی اصل وجہ ہے؟ میں نے ایس ایچ او صاحب سے عرض کیا کہ اگر پولیس عوام سے اپنے روابط مضبوط کرے، شہریوں کا اعتماد بحال کرے اور انہیں احساسِ تحفظ دلائے، تو آدھے جرائم خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ جرائم صرف پولیس کی تعداد بڑھانے سے نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد سے رکتے ہیں۔ جب محلے کا دکاندار اور عام شہری پولیس کو اپنا محافظ اور ساتھی سمجھے گا، تو وہ جرائم پیشگی کی اطلاع بھی دے گا اور مشکوک افراد کی نشاندہی بھی کرے گا، جس سے مجرموں کے لیے زمین تنگ ہو جائے گی۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تھانے کا تصور آج بھی خوف، سفارش اور بے بسی کے گرد گھومتا ہے۔ ایک عام آدمی پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ اگر پولیس اور عوام کا یہی فاصلہ مٹ جائے، تو جرائم پیشہ عناصر کی سب سے بڑی طاقت ، یعنی عوام کی خاموشی ،ٹوٹ سکتی ہے۔ آج کراچی کو صرف زیادہ نفری کی نہیں، بلکہ زیادہ ‘اعتماد’ کی ضرورت ہے۔ اگر پولیس اور عوام حریف کے بجائے رفیق بن جائیں، تو شاید دکانوں کے شٹر خوف سے نہیں بلکہ سکون سے بند ہوں گے۔ شہر صرف سنگینوں کے سائے میں نہیں، بلکہ مضبوط تعلق سے محفوظ ہوتے ہیں۔ ستیزن پولیس لائزن کمیٹی (CPLC) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ہی 5,500 موبائل فون، 600 کاریں اور 13,000 موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی جا چکی ہیں۔ اسٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت پر 175 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ بھتہ خوری کی 60 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ ہولناک اعداد و شمار ہیں جو صرف ایف آئی آر (FIR) کی صورت میں ریکارڈ پر آئے، جبکہ حقیقی صورتحال اس سے کہیں زیادہ تلخ اور سنگین ہے۔ اصل مسئلہ صرف ڈاکو نہیں، بلکہ وہ کھوکھلا نظام ہے جس میں شہری اور پولیس کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ تھانے اب انصاف کے مراکز کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کے اڈے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام جرائم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہی نہیں کہ ان کی فریاد پر کوئی منصفانہ کارروائی ہوگی۔کراچی میں ایک عجیب تضاد بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب کوئی سیاسی جلسہ ہو، وی آئی پی (VIP) موومنٹ ہو، یا کسی حساس علاقے میں احتجاج کا خدشہ ہو، تو پولیس کی بھاری نفری اچانک نمودار ہو جاتی ہے۔ مگر جب کسی عام شہری کی زندگی بھر کی جمع پونجی یا دکان لٹ جائے، تو پولیس نفری کی کمی کا رونا روتی ہے۔ یہ سوال اب عوام کے ذہنوں میں کھل کر گردش کر رہا ہے کہ کیا حکومتی ترجیحات عوامی تحفظ کے بجائے صرف سیاسی تحفظ تک محدود ہو چکی ہیں؟
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سندھ میں پولیسنگ کا پورا نظام سیاسی دباؤ، اندرونی کمزوریوں اور ناقص حکمت عملی کا شکار ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد یہ شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ جرائم کے سدِباب کے لیے کوئی ٹھوس اور مستقل پالیسی بنانے کے بجائے، صرف وقتی اور نمائشی اقدامات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ شہر میں رینجرز کی مستقل موجودگی کے باوجود اسٹریٹ کرائم پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر شہر میں متعدد سیکیورٹی ادارے موجود ہیں، تو پھر بھی عام شہری خود کو اتنا غیر محفوظ کیوں محسوس کرتا ہے؟ آج کراچی کا سب سے بڑا بحران اسلحہ بردار ڈاکو نہیں، بلکہ ‘کمزور گورننس’ ہے۔ جب ریاست کی گرفت کمزور پڑتی ہے، تو جرائم پیشہ عناصر خود بخود طاقتور ہو جاتے ہیں۔ جب حکومت عوام کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے صرف اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھی رہے، تو شہر آہستہ آہستہ خوف کے سائے میں چلے جاتے ہیں۔ سندھ حکومت کو اب یہ حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی شہر میں امن و امان چاہتی ہے یا پھر ایک ایسا نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے جہاں عوام خوفزدہ رہیں اور اقتدار کی بساط خاموشی سے بچھتی رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جائے، تو صرف جرائم نہیں بڑھتے، بلکہ خود ریاست کی ساکھ بھی خاک میں مل جاتی ہے۔
برگیڈ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ڈکیتی کی بڑھتی وارداتیں
