حکمرانی ہرجاندارکے اندرایک چھپی ہوئی خواہش ہے۔جس کے لیے زمین پربسنے والی ہرجاندارمخلوق اس کے لیے جنگ وجدل میں مصروف رہتی ہے۔ہوسکتاہے ہماری زمین کے باہرکی مخلوق بھی اسی بکھیڑے میں ہو،لیکن ہم تواس زمین کے اندرکے اس خواہش کے ماروں ہی کی مارسے جوبچیں توکہیں اورکی سوچیں نا۔ہمارے نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے ”کلکم راع وکلکم مسؤلون“تم سارے کے سارے حکمران ہواورتم سارے پوچھے جاوگے۔یعنی اسلام میں توگھرباراہل وعیال جوکہ قدرت کی طرف سے بندے کوودیعت ہوتے ہیں،ان کوبھی رعایا کودرجہ دیا گیا ہے،اوران کے بارے میں بھی پوچھا جانے کاڈرسنایا گیا ہے،لیکن کیاہم قوم ہیں کہ جن کواس کے باوجودحکمرانی کا شوق ہے،اورہم کئی قسم کے جتن کرکے اس منصب کو پانے کی کوشش کرتے ہیں،اورپھرایسے لوگ بھی جن کواپنا گھرتوچلانانہیں آتاوہ ملک کوچلانے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔اورہرایک کی صرف خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیاراپنی مرضی سے استعمال کرسکے،علاوہ اس کے حکمرانی کے جوحقوق ہیں ان سے اسے کسی شدبدکی ضرورت نہیں۔ ہمارے علاقے میں ایک باباجواپنے زمانے میں چورتھااس سے تقدیرکے موضوع پرکوئی بندہ بات کررہا تھا،تواس نے پوچھابھائی تم بتاوکہ چوراللہ نے تقدیراًچورہی بنائے تھے اس نے کہانہیں بات یہ ہے کہ االلہ نے چوروں کی تقدیرمیں بادشاہت لکھی تھی،لیکن دنیا میں اتنے بادشاہ بننے کی گنجائش نہیں تھی،تواب وہ فطری طورپربادشاہ پیداہونے والوں سے کام کاج توہونہ سکتا تھا،لہذاوہ چوربن گئے۔علامہ اقبال نے بھی سکندراوربحری قزاق کاایک مکالمہ لکھاہے کہ،اس کا آخری شعر ہے،”تیراپیشہ ہے سفاکی،میراپیشہ ہے سفاکی،کہ قزاق ہیں دونوں،تومیدانی میں دریائی“تولگتا ہے کہ ہمارے والے چوربابے کی بات بھی صحیح ہی تھی۔تواس منصب وجاہ کے لیے جوشعورہے وہ انبیاء علیھم السلام سے ہی حاصل ہوسکتا ہے،توخاتم النبیینﷺ نے انبیاء کے بارے میں فرمایاہے،کہ انبیاء نے اپنے بچپنے میں بکریاں ضرورچرائی ہیں،یعنی کسی کوبھی حکمرانی کے لیے رعایاکے کمزورترین طبقہ میں عملی اقدام سے آگاہی کا ہونا ضروری ہے،یعنی بکریاں چرانانہایت بے سروسامانی کے عالم میں جنگل وصحراوپہاڑوں میں بسرکرناپڑتاہے،اوربندے کے علم میں آتا ہے کہ زندگی کن مشکلات میں سے گزرتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں اللہ کرے جنہوں نے کبھی بکری دیکھی بھی نہیں ہوتی،وہ سوٹ بوٹ پہن کرعوام کے لیے اس حکمرانی کی مشکلات اٹھانے نکل کھڑے ہوتے ہیں،اورکچھ نہ جاننے کی وجہ سے کسی بیوروکریت کے مشورہ پربکریوں پرپابندی لگادیتے ہیں،کہ بکریا ں درختوں کوکھاجاتی ہیں،لہذابکریاں نہیں بھیڑیں پالو،شایدیہ حکم ایوب خان کے دورکاہے، جبکہ بزدارکا دوراس کے بہت بعدمیں آیاتھا،ہمارے شوقیہ حکمرانوں نے ایسے کئی کام کیے ہیں،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف اختیارہی چاہیے ہے اقتدار نہیں،وہ اصل میں ان کے ملازموں کے پاس ہی رہتا ہے۔انگریزکے دور سے ہمارے یہاں اختیارکی خواہش میں ہمارے لوگوں نے ملازمت اختیارکرلی،اورانگریز نے بھی ملازمین کوعوام پروہ اختیاردے دیے کہ لوگ انہیں ہی حکمران سمجھنے لگے،اوروہ بھی کماحقہ حکمران ہی بن گئے،چوکیدار سے لے کرچیف سیکرٹری تک ہربندہ درجہ بدرجہ حکمران ہی ہے،اس لذت کے لیے کئی ”کمی“ یعنی چھوٹی برادریوں کے لوگوں نے بھی اپنے بچوں کوتعلیم دلا کرملازمت میں لگادیا کہ رزق کی آسانی کے ساتھ حکمرانی کاکچھ حصہ توہمیں بھی حاصل ہوسکے نا،ان میں سے بہت سے لوگ بڑے بڑے عہدوں پرپہنچ جاتے،لیکن ان کے اندروہ چھوٹی برادری ہونے کا خوف ویسے کاویسا ہی رہتا،جس سے قانون کے نفاذمیں تفاوت ہونے لگی،کوئی بڑی برادری کا بندہ یا مالدار آدمی اگرجرم کرے تواسے قانونی رعایتیں دی جاتی اوراگرکوئی چھوٹی برادری کا یا غریب آدمی کوئی جرم کربیٹھے تواسے عبرت ناک سزادی جاتی،اب عوام میں وہ طبقاتی سماج اسی طرح قائم ہے،لوگ جمہوریت کے جھوٹے نظام کے باوجود اسی طبقاتی تفاوت میں جی رہے ہیں،اس کی وجہ صرف اورصرف شوقِ حکمرانی اور اختیارکی خواہش ہے،جس کے لیے جمہوریت نے ایک دجلانا نظام دے رکھا ہے جس میں عوام کی رائے سے حکومت بنانے کا تصوردیا گیا ہے،جوکہ بظاہرحق وانصاف پرمبنی لگتا ہے،لیکن اصل میں یہ طاقت ور،مالدار،بڑے طبقات کے لیے آسانی کے ساتھ عوام پرمسلط ہونے کا ایک ذریعہ ہے،اوراس سے ایسے ایسے”ولایوڑ“قسم کے ساجھے ماجھے بھی اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچ جاتے ہیں،جوصرف لذتِ اختیار لینا چاہتے ہیں،اوراس لذت میں چاہے ملک ہی گنوادیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں،کہتے ہیں ایک جولاہے کا لڑکاانگریزدورمیں ریلوے کے سگنل پربھرتی ہوگیا،اب وہ سگنل تبدیل کرنے پراختیاررکھتاتھا،ایک دن باپ اس کے پاس ملنے کے لیے آیاتوباپ نے بیٹے سے پوچھا،پتریہاں تجھے کیا اختیارحاصل ہیں،اس نے کہا ابا ابھی دکھاتا ہوں،اوراتنے میں گاڑی آرہی تھی اس نے سگنل سرخ کر دیا،گاڑی رک گئی،اور ڈرائیورنے ہارنا دینا شروع کردئیے،اوراسی طرح کئی منٹ گزرگئے،توبیٹے نے باپ سے کہا ابادیکھا ہے میرااختیاراگرمیں اجازت نہ دوں گا تویہ یہاں کھڑی اسی طرح ”ڑانگتی“ رہے گی۔آج کل ہمارے بھی شوقِ اقتدار والے اسی طرح عوام کو بلاوجہ ستاستاکر”ڑانگنے“ پرمجبورکرتے ہیں،اورلذت لیتے ہیں۔اورعوام ہے کہ ایک سے ”ڑانگنے“ سے جی نہیں بھرتاتودوسرے کے پیچھے لگ جاتے ہیں،کہ آوے ہی آوے،اب وہ آتا ہے توپہلے کوکوستا گالیاں دیتا،اورعوام کے دکھ دردگنواتاہے، اورجب وہ سنگھاسن پر آتا ہے تووہ پہلے سے زیادہ عوام کوکاٹ کھاتا ہے، اوران پریہی احسان جتلاتے رہتا ہے،کہ میں نے ان پہلوں سے تمہیں نجات دلائی،اورساتھ ہی عوام پرمہنگائی بے روزگاری، ناانصافی کانیا دورجاری کردیتا ہے،توعوام پھرپہلے کویادکرنے لگتے ہیں،اسی طرح سے یہ پون صدی گزرگئی عوام کبھی ایک کے پیچھے کبھی دوسرے کے پیچھے،لیکن آج تک وہ باریاں بدلنے والے جوں کہ توں ہی ہیں، کیوں ؟اس لیے کہ اس قوم کو یہ علم نہیں کہ حکمرانی اورشوقِ حکمرانی دوالگ چیزیں ہیں،اورکوئی بھی حکمران جودولت اورخاندان کے بل بوتے پرحکمران بنے وہ کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں کرسکتا، لہذاپاکستانی قوم جب تک اسلامی نظام کونافذکرانے کے لیے جدوجہدنہیں کرتی اس وقت تک انہیں سوائے بھوک وننگ،بے روزگاری، ناانصافی کے اورکچھ نہیں ملنا،اللہ تعالیٰ اس قوم پررحم فرمائے اورنہیں اسلام کے لیے جدوجہدکرنے کی توفیق عنایت فرمائے آمین،وماعلی الاالبلاغ۔
شوقِ حکمرانی اورشعورِ حکمرانی
