آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟

تحریر ِ:
انسان کیا سے کیا بننے کی کوشش میں پریشان حال ہے یہ پریشان حال ختم کیوں نہیں کر دیتے اس سوچ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو ایسے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش چھوڑ ہی دی جائے جس کے لیے آپ بنے ہی نہیں۔اور اگر کسی مصنوعی ڈانچے میں ڈال بھی لیا تو کیا کوئی یہ نہیں جان پائے گاکہ آپ وہ ہیں نہیں جو بننے کی ادکاری کررہے ہیں اداکاری کی بجائے کردار سازی پر محنت کیجئے انمول و خوش حال ہو جائیں گئے۔تلخ تجربے سے بچنے والوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آپ جیسے بھی ہیں ہمیشہ وہی رہیں۔انسانی وجود پر آفاقی اصول یہی ہے اسے تسلیم و عمل میں رکھیں اگر آپ وہ بنیں گئے جو آپ نہیں ہیں تو نفسیاتی اور اعصابی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گئے خود کو بدقسمت سمجھنے والا شخص ہی وہ بننا چاہتا ہے جو وہ جسمانی و دماغی اعتبار سے ہے ہی نہیں۔
شوبز کی دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے۔عوام ان کے ایک روپ کا زائقہ چکھ چکے ہیں اب نئے روپ میں ڈھل رہے ہیں روپ بدلتے بدلتے اپنی حقیقت بہت پیچھے رہ جاتی ہے انہیں اپنے آپ کو پہچاننے کے قابل بنانا بھی اک زہنی علاج کا تقاضا کرتا ہے جو بھی اپنی زات کی حقیقت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرئے گا وہ فطرت کے خلاف جا رہا ہے اب انسان بندر کی طرح نقل اتارکر کامیابی تو حاصل نہیں کر سکتانہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔جو بھی وہ بننے کی کوشش کر رہاہے جو وہ نہیں ہے تواسے جلدی علیحدہ کر دینا بڑا سودمند رہتا ہے کیونکہ نقل پانے کے عمل میں اصل کھو جاتا ہے۔
دنیا کے بازار میں کتنے ہی ایسے لوگ پھرتے ہیں جو اپنے آپ کا پہچانتے ہی نہیں ریاکاری کا لبادہ اُڑھ کر صاف گو بننے کی اداکاری کرتے ہیں لیکن کھوٹے سکے سے مستقل کام نہیں چلتا۔ایک غریب گھر کی لڑکی گلوکارہ بننا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ رُکاوٹ بنا ہوا تھا اس کے چوڑے منہ سے لمبے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے وہ لوگوں کے سامنے گاتے وقت دلکش نظر آنے کے لیے اُوپر کا ہونٹ نیچے کھینچ کر دانت چھپانے کی کوشش کرتی تو گانے کی ترتیب بگڑ جاتی نتیجہ فنی ناکامی میں نکلتا۔ایک انسانی قدروں سے واقف شخص نے قیافہ شناسی سے ا سے کہا کہ تمہارے بننے میں تمہارا کوئی قصور نہیں شرمندگی کے احساس سے خودکو آزاد کرکے پورے جوش اور دھیان سے گاؤتمہارے دانت تمہاری قسمت کے معاون بن جائیں گئے اس نے مخلص مشورے پہ عمل کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں پا تے ہوئے فلموں اور ریڈیو کی چوٹی کی سٹار بن گئی۔انسانی کمزوریاں غیرمتوقع طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔
اوسط درجے کے شخص اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے دس فیصد حصے کو پروان چڑھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور نہیں پہچان پاتے۔جو کچھ ہم ہیں اور جو کچھ ہمیں ہونا چاہیے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف نیم بیدار لوگ ہیں جو اپنی حدود سے بہت دُور نکل چکے ہیں جبکہ ہم مختلف قسم کی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں ان انسانی قوتوں کو سمجھنے والا کبھی لوگوں کی مانند بننے میں وقت ضائع نہیں کرتاہر انسان اس دنیا میں نئی چیز ہے آغاز کائنات سے روز قیامت تک اس جیسا پیدا نہ ہوانہ ہوگا۔
انسان میں تعجب خیز خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں منفی کو مثبت میں بدل دینے والی قوت موجود ہے۔ کسی بند کمرے کی کھڑکی سے زمین کے کیچڑ کو دیکھنے کی بجائے آسمان کے ستاروں بھی تودیکھے جا سکتے ہیں۔بہترین چیزیں انتہائی مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔
ہر انسانی وجود زندگی کی سڑک پر چلتے ہوئے حالات کی گاڑیوں سے ٹکرائے بنا منزل پر نہیں پہنچ پاتامگر زخمی کر نے والے حادثات بھی ایک نئی سمت پر ڈال دیتے ہیں اور انسان نتیجہ دیکھ کر شکوئے کی بجائے شکر کرنے لگتا ہے۔صدمے اور افسردگی پر غالب آنے والوں کے لیے نئی دنیا میں داخل ہونا ہے جب میرے ساتھ ہوا تو میں مطالعے میں ادبیات عالیہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھنے لگاکتابوں نے نئی دنیا ؤں کے دروازے کھولے زندگی پرسکون، مسرت بخش،نئے ولولے اور جوش سے لبریز ہو گئی خیال کے نئے جہان مل گئے اپنی زندگی کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور قدروں کے صحیح احساس حاصل ہونے میں کامیابی ملی اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سی چیزیں جن کے پیچھے میں بھاگا رہا وہ درحقیقت غیر اہم اور بے وقعت تھیں۔
آپ کو گرانے کے لیے کھڈا کھودا گیااور آپ گر بھی گئے اب حاسدوں کو کوسنے اور خود کو ڈانٹنے کی بجائے اس کھڈے کوحکمت عملی اور دانائی کے اوزاروں سے اتنا گہرا کیجئے کہ زمینی خزانے آپ کا استقبال کریں یعنی حالات آپ کو نیبو دے تو زندگی کھٹی کرنے کی بجائے اس کا شربت بنائیے۔اندھا انسان شاعری کے زریعے آنکھوں والوں کو خیال کے رنگوں کی نشاندہی کروا سکتا ہے۔ایک بہرا آدمی موسیقی کی آفاقی دھنیں بنا سکتا ہے۔کتنے ہی ایسے تقدیر کی گاڑی تلے آئے اپاہج انسان اس دنیا میں موجود ہیں جن کی درخشاں حیات کے پیچھے عدم بصارت بہرا پن لولے لنگڑے جیسے اعضاء کی محرومی کے حادثات کا ہاتھ ہے کیا پتا شاید میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہوا ہو جو دل کی گہرائیوں سے یہ پھڑ پھڑانے والے الفاظ ابھرتے ہوئے تحریر میں آجاتے ہیں۔
اپنے اوپر ترس کھاکر پھولوں کی سیج کے آرزو مندبنے رہنے کی بجائے زہن سے خوف کا پردہ ہٹا کر ہمت کے ہتھیار سے وہ کانٹے کاٹ ڈالیے جو آپ کوپھولوں کی پنکھڑیوں پر خوشبودار بسیرے سے محروم رکھتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی پوری ایمانداری محنت اور اسلوب سے کرنے کا مزہ لیجئے مجھے ایک دفعہ بیوی کی غیر موجودگی میں گھر کے کام کرنے کا موقع ملا میں نے برتن دھوئے جس سے میرے وجود اند ر عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا صابن کی رنگین روئیں دار جھاگ سے کھیلنے کا لطف اندوز نظارہ رونما ہو اصابن میں ہاتھ ڈبوتا تو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی گیندیں بن جاتیں انہیں اُٹھا کر روشنی میں دیکھتا ہر بلبلے میں چھوٹے پیمانے کی دھنک کے شوخ اور دلکش رنگوں نے دنیا ہی بھلا دی کچن کی کھڑی سے باہر دیکھا تو فضا میں اڑتے پرندوں کے خاکستری پر پھڑ پھراتے نظر آئے چڑیوں بلبلوں کو دیکھ کر وجد طاری ہوا تو خدا کا شکر بجا لانے لگا جس نے مجھے زندگی حسن اوررعنائی کی سر زمین پر بسر کرنے کے لیے قدرتی نظارے دیکھنے والی آنکھیں عطا کیے اور نہ اتنا سیراب کیا کہ میں مزید لطف اندوز نہ ہو سکوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *