تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
عقیدت کے دعوے سے اتباع کے سفر تک
محبت انسان کے دل کی وہ کیفیت ہے جو اس کے خیالات، ترجیحات اور کردار پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ دنیا میں انسان بہت سی محبتوں سے وابستہ ہوتا ہے مگر ایک مسلمان کے لیے سب سے پاکیزہ عظیم اور مقدس محبت اپنے رب اور اس کے محبوب رسول صلى الله عليه واله وسلم کی محبت ہے۔ یہی محبت ایمان کو جلا بخشتی، دل کو زندہ کرتی اور زندگی کو ایک واضح سمت عطا کرتی ہے۔آپ صلى الله عليه واله وسلم کی ذات مبارکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ صلى الله عليه واله وسلم نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، زندگی گزارنے کا سلیقہ دیا اور ایسا کامل نمونہ پیش فرمایا جس کی پیروی قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے کامیابی کا راستہ ہے۔
محبت رسول کا ذکر کرتے ہوئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں۔ حقیقی محبت انسان کے عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں کسی سے محبت ہو تو وہ محبوب کی پسند کو اپنی پسند پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کی بات توجہ سے سنتا ہے اور اس کے طریقے کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان کے لیے رسولِ پاک صلى الله عليه واله وسلم سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ آپ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ آپ کی تعلیمات کو اپنے معاملات میں نافذ کرے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے۔
قرآن مجید نے محبت کے اس معیار کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں رسول کی پیروی کرنی چاہیے۔ تب اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرمائے گا۔ گویا محبت کا دعویٰ اتباع کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے آج ہمیں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ زبان سے محبت کا اظہار آسان ہے لیکن سنت کو اختیار کرنا، اخلاق کو سنوارنا، معاملات کو درست کرنا اور خواہشات کو شریعت کے تابع کرنا حقیقی امتحان ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محبت رسول کی عملی تصویر تھے۔ ان کے دلوں میں ایسی عقیدت تھی کہ وہ اپنی جان، مال، اولاد اور دنیا کی ہر محبوب چیز سے بڑھ کر رسول پاک صلى الله عليه واله وسلم کو عزیز رکھتے تھے۔ ان کی محبت صرف محفلوں تک محدود نہ تھی بلکہ میدان عمل میں نمایاں ہوتی تھی۔ وہ آپ کے فرمان کو اپنی زندگی کا اصول سمجھتے۔آپ کی سنت پر عمل کرتے اور آپ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی آج بھی محبت رسول کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی اصلاح اور امت کی خیر خواہی میں گزاری۔ مکہ مکرمہ میں شدید مخالفت، طعن و تشنیع اور تکالیف برداشت کیں مگر دعوت حق کا راستہ نہ چھوڑا۔ طائف میں سنگ باری کا سامنا ہوا تو انتقام کے بجائے خیر خواہی کا جذبہ سامنے آیا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ایمان، اخوت، عدل، امانت، مساوات اور انسانی احترام پر تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر اختیار اور قوت حاصل ہونے کے باوجود عام معافی کا اعلان کرکے دنیا کو بتایا کہ حقیقی عظمت انتقام میں نہیں بلکہ معافی اور درگزر میں ہے۔
آج اگر ہم محبت رسول کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اخلاق کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہماری زبان سچ بولتی ہے؟ کیا ہمارے معاملات میں دیانت ہے؟ کیا ہم وعدہ پورا کرتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہمارے پڑوسی ہماری زبان اور ہاتھ سے محفوظ ہیں؟ کیا ہم والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں؟ کیا ہم چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا احترام کرتے ہیں؟ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہوں تو ہماری محبت کا اثر ہماری زندگی میں دکھائی دیتا ہے ورنہ ہمیں اپنے دعوے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
رسول اکرم صلى الله عليه واله وسلم نے حسن اخلاق کو بڑی اہمیت دی ہے۔ آپ کی زندگی میں نرمی، عاجزی، سخاوت، صبر، برداشت، رحم دلی اور عفو و درگزر نمایاں تھا۔ آپ کسی کمزور کو حقیر نہ سمجھتے، ضرورت مند کی حتی الوسع مدد فرماتے اور لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتے۔ اس لیے محبت رسول کا ایک خوبصورت تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو سیرتِ طیبہ کے مطابق بنائیں۔
آج معاشرے میں غصہ، بدزبانی، حسد، بغض، دھوکا، جھوٹ اور بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے دلوں میں محبت مصطفیٰ رکھتے ہیں تو ہمیں ان برائیوں کے خلاف اپنے نفس سے جہاد کرنا ہوگا۔
محبت رسول کا تعلق عبادات سے بھی ہے۔ نماز کی پابندی، قرآن مجید سے تعلق، ذکر و اذکار، درود و سلام، دعا، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال زندگی کا حصہ بنانا اسی محبت کے تقاضوں میں شامل ہے۔ خاص طور پر نماز کو اپنی زندگی میں مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے کیونکہ جو ہستی ہمیں نماز کی اہمیت سمجھا کر گئی، اس کی تعلیمات سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نماز کو اپنی ترجیحات میں سب سے آگے رکھیں۔
ہمیں اپنی نئی نسل کے حوالے سے بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ بچوں کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ نبی کریم صلى الله عليه واله وسلم ہمارے محبوب ہیں، بلکہ انہیں سیرت کے واقعات، اخلاق، معاملات اور رحمت و شفقت کے واقعات بھی سنائے جائیں۔ جب بچوں کو سیرت طیبہ کے روشن پہلو عملی انداز میں سمجھائے جائیں گے تو ان کے دلوں میں محبت صرف ایک نعرہ نہیں رہے گی بلکہ ایک زندہ جذبہ بن جائے گی۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں محبت کے اظہار کے ذرائع بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔ لوگ چند الفاظ لکھ کر یا خوبصورت تصاویر بنا کر یا پیغامات شیئر کرکے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ اچھی باتیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سب سے مؤثر اظہار ہمارا کردار ہے۔ اگر ہماری سوشل میڈیا پوسٹ میں محبت رسول کا ذکر ہو لیکن ہماری زندگی میں جھوٹ، بددیانتی، بدزبانی اور حقوق العباد کی پامالی موجود ہو تو ہمیں اپنے طرز عمل کی اصلاح کرنی چاہیے۔
ہماری گفتگو اور عمل خود اسی عظیم سیرت کی ترجمانی کریں جس سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محبت رسول کسی مخصوص دن یا مخصوص مہینے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کا عہد ہے۔ ہماری صبح سنت کے مطابق ہو،ہماری شام سنت کے مطابق ہو، ہماری تجارت میں امانت ہو، ہماری معاشرت میں عدل ہو اور ہماری عبادت میں اخلاص ہو۔ یہی وہ عملی تبدیلی ہے جو محبت کے دعوے کو حقیقت میں تبدیل کرتی ہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے یہ وعدہ کرنا چاہیے کہ محبت رسول کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں گے، سنتوں کو سیکھیں گے، درود پاک کو معمول بنائیں گے، نماز اور عبادات کی پابندی کریں گے، والدین اور اہل خانہ کے حقوق ادا کریں گے، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کریں گے۔معاملات میں دیانت اختیار کریں گے اور اپنے اخلاق کو اسوۂ حسنہ کے مطابق بنانے کی مسلسل کوشش کریں گے۔
یہی عقیدت کا حقیقی حسن ہے، یہی محبت کا سچا تقاضا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمارا کردار بھی سنور سکتا ہے اور ہمارا معاشرہ بھی۔
محبت، اطاعت اور اتباع
