عظمت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
تاریخ انسانیت میں بہت سے حکمران، فاتح اور قائد گزرے ہیں، لیکن چند ہی شخصیات ایسی ہیں جن کے نام کے ساتھ عدل، دیانت اور خدمت خلق کا تصور خود بخود ذہن میں آ جاتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہی عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی عملی تعلیمات کو نافذ کرکے ایک ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہے گی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے جلیل القدر صحابی، دوسرے خلیفہ اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا فتح تھا، ان کی ہجرت نصرت تھی اور ان کی خلافت رحمت تھی۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی: اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے جسے تو زیادہ پسند کرتا ہے اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔
اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول فرمایا اور ان کے ذریعے اسلام کو نئی قوت، عزت اور استحکام عطا ہوا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ایک عظیم فضیلت وہ ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان جب عمر کو کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مضبوط ایمان، بلند کردار اور تقویٰ کی واضح دلیل ہے۔
اسی طرح ایک موقعہ پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک خواب کا ذکر فرمایا کہ مجھے دودھ پیش کیا گیا، میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی، پھر باقی ماندہ دودھ عمر بن خطاب کو دے دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: علم۔
یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم، فہم اور دینی بصیرت کے بلند مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر پہلو امت کے لیے تربیت کا سامان ہے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں قحط کا زمانہ آیا۔ اس دوران آپ نے اپنے اوپر گھی، گوشت اور عمدہ کھانے پینے کی اشیاء استعمال کرنا ترک کر دیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک عام مسلمان خوشحال نہیں ہو جاتے، عمر بھی خوشحالی اختیار نہیں کرے گا۔ روایت میں آتا ہے کہ مسلسل سادہ غذا کھانے کی وجہ سے آپ کا رنگ بھی بدل گیا تھا، لیکن آپ نے اپنی ذات کو عوام کے حالات سے الگ نہ ہونے دیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو رعایا کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتی ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کے دور میں عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ کسی ضرورت مند، یتیم یا مظلوم کی خبر لے سکیں۔ ایک رات آپ نے ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ آپ فوراً بیت المال تشریف لے گئے، آٹا اور دیگر ضروری سامان اپنی پیٹھ پر اٹھایا اور خود اس گھر تک پہنچایا۔ جب ایک ساتھی نے عرض کیا کہ میں یہ بوجھ اٹھا لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا: کیا قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟
یہ الفاظ ایک ایسے حکمران کے تھے جو اپنی ذمہ داری کو اقتدار نہیں بلکہ امانت سمجھتا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عدل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے یکساں طور پر مستفید ہوتی تھی۔ آپ کے نزدیک قانون سب کے لیے برابر تھا۔ کوئی گورنر، سردار یا بااثر شخص قانون سے بالاتر نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا آج بھی “عدل فاروقی” کو انصاف کی ایک مثالی علامت کے طور پر یاد کرتی ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ وسیع سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود لباس میں پیوند ہوتے، رہائش سادہ تھی اور دنیاوی آسائشوں سے دوری اختیار کرتے تھے۔ اقتدار نے آپ کے اندر تکبر پیدا نہیں کیا بلکہ آپ کا خوف خدا اور احساس جواب دہی مزید بڑھ گیا تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمیں اپنا محاسبہ کرواتی ہے کہ ایک مسلمان کی اصل کامیابی اقتدار، مال یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، عدل، دیانت اور خدمت خلق میں ہے۔ آج امت مسلمہ کو جس اخلاص، انصاف، احساس ذمہ داری اور کردار کی ضرورت ہے، وہ سب ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے راضی ہو، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *