ترتیب ۔نظام الدین
راقم الحروف 1982ء میں بھارت میں ہونے والے ایشین گیمز دیکھنے گیا۔ ان کھیلوں کا بنیادی مرکز نئی دہلی کا ‘جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم’ تھا، مگر میری توجہ کا مرکز ایشین گیمز کے لوگو پر ‘جنتر منتر’ کا عکس تھا۔
جنتر منتر بھارت میں واقع قدیم فلکیاتی رصد گاہوں کا ایک تاریخی مجموعہ ہے۔ ان تاریخی مقامات کو راجپوت بادشاہ اور ماہرِ فلکیات مہاراجہ سوائی جئے سنگھ دوئم نے 18ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کروایا تھا
جنتر یہ سنسکرت زبان کے لفظ ‘ینتر’ کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس کا مطلب ‘آلہ یا مشین’ ہے۔ منتر یہ لفظ ‘منترا’ سے نکلا ہے، جس کے معنی ‘مشورہ کرنا، پیمائش کرنا یا حساب لگانا’ کے ہیں۔
یہاں بڑے بڑے پتھروں اور چونا گچ سے بنے 19 فلکیاتی آلات موجود ہیں۔ ان کی مدد سے جدید دوربین کے بغیر، محض ننگی آنکھ سے وقت، ستاروں کی پوزیشن، گرہن اور سیاروں کی حرکت کا بالکل درست حساب لگایا جاتا تھا۔
آج مجھے جنتر منتر کا خیال کیوں آیا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ وہاں ہونے والے انوکھے اور جدید احتجاج ہیں۔ بھارتی حکومت، وہاں کا الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور بعض دانشور، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کی تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی” کو غدار اور ‘پاکستانی ایجنٹ’ قرار دے کر ان پر تشدد اور مقدمات درج کر رہے ہیں۔
یہ تحریک دراصل ایک طنزیہ جملے سے شروع ہوئی تھی، جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک سنجیدہ اور منظم رخ اختیار کر لیا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جئے مالا پر مشتمل بنچ ایک ایسے وکیل کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا، جس نے خود کو ‘سینئر ایڈووکیٹ’ کا درجہ دینے کی استدعا کی تھی۔ درخواست کو قابلِ اعتناء نہ سمجھتے ہوئے چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا”معاشرے میں پہلے ہی ایسے پیراسائٹس (طفیلیے) موجود ہیں جو نظام پر حملے کرتے ہیں، اور آپ بھی ان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ کچھ نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں، جنہیں نہ کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا، آر ٹی آئی (RTI) فعال پسند یا دیگر متحرک کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔”
چیف جسٹس سوریہ کانت کے ان ریمارکس پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ متعدد سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا گروپس اور سول سوسائٹی نے اس بیان کو انتہائی نازیبا، غیر انسانی اور افسوس ناک قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے پہلے مزدوروں اور اب ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو نشانہ بنا کر متاثرین ہی کو قصوروار ٹھہرانے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ ”کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) کا قیام
اس طنز کے جواب میں بے روزگار نوجوانوں اور صحافیوں نے “کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) کی بنیاد رکھی۔ لفظ ‘CJP’ کا انتخاب چالاکی سے کیا گیا، کیونکہ بھارت میں ‘CJ’ کا مخفف عام طور پر ‘چیف جسٹس’ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس گروپ نے خود کو “نوجوانوں کے ذریعہ، نوجوانوں کے لیے ایک سیاسی، سیکولر، سوشلسٹ اور جمہوری ‘سست’ محاذ” قرار دیا ہے۔ سی جے پی (CJP) نے دعویٰ کیا کہ قیام کے چند ہی گھنٹوں کے اندر 40 ہزار سے زائد افراد اس غیر سرکاری محاذ میں شامل ہو چکے ہیں۔ گروپ نے رکنیت کے لیے کچھ دلچسپ اور طنزیہ شرائط بھی جاری کی ہیں، درخواست دہندہ کا “مجبوری، اپنی پسند یا اصولوں” کی بنیاد پر بے روزگار ہونا ضروری ہے۔’سست’ ہونے کا مفہوم اس سے مراد صرف جسمانی سرگرمی میں کمی ہے۔
آن لائن موجودگی اراکین کا روزانہ کم از کم 11 گھنٹے “ہمیشہ آن لائن” رہنا لازمی ہے (جس میں باتھ روم بریک بھی شامل ہے)۔
ان میں “پیشہ ورانہ انداز میں غصے کا اظہار” کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
رکنیت کے عمل میں مذہب، ذات یا جنس کی کوئی قید نہیں ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج اتنی بڑی تعداد میں لوگ سوشل میڈیا پر کیوں متحرک ہیں؟ شاید حکمران طبقہ اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد بے روزگار صحافیوں اور ڈگری ہولڈر طلباء کی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مین اسٹریم میڈیا کے بہت سے قابل اور تجربہ کار صحافی صرف اس وجہ سے معطل یا برطرف کر دیے گئے کہ وہ حکومتی بیانیے کی مکمل تقلید پر آمادہ نہیں تھے۔ بے روزگار ہونے کے بعد انہوں نے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آزاد صحافیوں کے طور پر اپنا پیشہ ورانہ سفر جاری رکھا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بعض اراکینِ پارلیمان نے بھی اس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی، جس پر گروپ نے جواب دیا
“ہم تمام آزاد اور جمہوری فکر رکھنے والے افراد کو کاکروچ جنتا پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔”
گروپ کا مزید کہنا تھا”سی جے پی کے لیے بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کے پیشِ نظر ہمیں کامل یقین ہے کہ ہمیں ختم کرنے اور سماج دشمن عناصر کے طور پر پیش کرنے کی حکومتی کوششیں کی جائیں گی۔ ہم یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ CJP بھارتی آئین پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ہمیشہ اس کی اقدار کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔” دوسری جانب، بھارتی حکمران جماعت اور اس کا حامی میڈیا اس احتجاج اور تحریک کا تعلق ‘پاکستانی ایجنسیوں’ سے جوڑ کر مداخلت کے الزامات عائد کر رہا ہے۔ تاہم، کاکروچ جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ حکومت اپنی معاشی ناکامیوں، بے روزگاری اور نظام کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے روایتی سیاسی چالیں چل رہی ہے۔
