مہنگائی کے طوفان میں 7 فیصد اضافہ، ملازمین کے زخموں پر نمک

تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

بلوچستان حکومت ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے ملازمین کے جائز حقوق، ڈی آر اے (DRA)، ایڈہاک الاؤنس اور کنوینس الاؤنس کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ بلوچستان حکومت نے وفاقی طرز پر صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔

کل بلوچستان حکومت نے مالی سال کا بجٹ منظور کیا، تاہم صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا، جو موجودہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات کے تناظر میں نہایت ناکافی اور مایوس کن ہے۔ یہ اقدام ملازمین کے ساتھ ایک نامناسب رویے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ صوبے کے سرکاری ملازمین طویل عرصے سے اپنے جائز حقوق اور بہتر مراعات کے منتظر ہیں۔

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ صوبے کے سرکاری امور اور عوامی خدمات کا نظام ملازمین کی انتھک محنت، دیانت داری اور مسلسل خدمات کی بدولت چل رہا ہے۔ اس کے باوجود انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش امر ہے۔

بلوچستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک منتخب حکومت ملازمین کے ساتھ اس قدر ناروا رویہ اختیار کرے اور ان کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کرے۔ ماضی میں مختلف ادوارِ حکومت، حتیٰ کہ مارشل لا کے ادوار میں بھی ملازمین اور عوام کے ساتھ ایسا غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گیا جیسا کہ آج دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کی کابینہ سے پُرخلوص اپیل ہے کہ وہ صوبائی ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کریں اور ان کے جائز حقوق، خصوصاً ڈی آر اے، ایڈہاک الاؤنس اور کنوینس الاؤنس کی فوری منظوری اور ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے معقول اضافہ کیا جائے، تاکہ ان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور وہ مزید دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *