یکم جولائی ​ڈاکٹرز ڈے

ترتیب
نظام الدین

​اگر میں بیمار ہوکر تاج میڈیکل اسپتال میں داخل نہ ہوتا تو شاید مجھے کبھی معلوم ہی نہ ہوتا کہ یکم جولائی کو برصغیر سمیت دنیا کے کئی ممالک میں “ڈاکٹرز ڈے” منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان تمام ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو ہماری زندگیاں بچانے اور انہیں بہتر بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔
​لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اسپتال کی یہ باقاعدہ اور منظم روایت کہاں سے آئی؟ مفت علاج، ماہر اطباء، ادویہ سازی (فارمیسی) اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال، یہ سب محض جدید دور کے خیالات نہیں ہیں۔
​آج سے ایک ہزار سال پہلے اسلامی دنیا میں ایک ایسی ادارہ جاتی روایت نے جنم لیا تھا جسے “بیمارستان” کہا جاتا تھا۔ یہ صرف علاج گاہیں نہیں تھیں، بلکہ رحمت، شفقت، سائنس اور انسانیت کا ایک حسین امتزاج تھیں۔ ڈاکٹرز ڈے کے موقع پر آئیے ان بیمارستانوں کی کہانی جانتے ہیں جنہوں نے دنیا میں اسپتال کے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ ​بیمارستان لفظی و ادارہ جاتی آغاز
​”بیمارستان” فارسی زبان کا لفظ ہے۔ “بیمار” یعنی مریض، اور “ستان” یعنی جگہ یا مقام؛ گویا “مریضوں کے رہنے کی جگہ”۔ یہ کوئی عام پناہ گاہیں نہیں تھیں بلکہ اعلیٰ درجے کے منظم طبی مراکز تھے۔ یہاں مختلف امراض کے لیے الگ الگ وارڈز قائم تھے، اپنی فارمیسی ہوتی تھی اور باقاعدہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور نرسیں خدمات انجام دیتی تھیں ،​اگرچہ قدیم یونان اور روم میں بھی علاج کے معابد اور فوجی شفا خانے موجود تھے، لیکن اسلامی دنیا نے اسپتال کو عام عوام کے لیے ایک منظم، جامع اور فلاحی ادارے کی شکل دی۔
​بیمارستان کی ابتدائی شکل رسولِ اکرم ﷺ کے زمانے میں، تقریباً 627 عیسوی (غزوۂ خندق) کے دوران نظر آتی ہے۔ حضرت رفیدہ الاسلمیہؓ نامی خاتونِ اسلام نے میدانِ جنگ میں ایک خیمہ اسپتال قائم کیا تھا جہاں زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی کی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ تصور ترقی کرتا گیا۔ چلتے پھرتے طبی مراکز اور موبائل کلینکس مستقل اسپتالوں میں تبدیل ہوگئے۔ شہروں کے قلب میں قائم ان شفا خانوں میں جڑی بوٹیوں سے تیار ادویات، دوا ساز اور ماہر طبیب ہمہ وقت موجود ہوتے تھے۔
​غیر امتیازی خدمت اور نظامِ وقف ​بیمارستان کی سب سے منفرد خصوصیت یہ تھی کہ وہاں سے کسی مریض کو مایوس واپس نہیں لوٹایا جاتا تھا۔ مذہب، نسل، ذات، جنس یا بیماری کی نوعیت کی بنیاد پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ذہنی اور متعدی امراض کے مبتلا مریضوں کا بھی یکساں احترام اور توجہ کے ساتھ علاج کیا جاتا تھا۔ ​تاریخِ اسلام میں کئی عظیم بیمارستان قائم ہوئے۔ پہلا باقاعدہ بڑا بیمارستان 706 عیسوی میں دمشق میں بنو امیہ کے دور میں قائم ہوا۔ اس کے بعد بغداد، قاہرہ اور غرناطہ میں بھی شاندار اسپتال تعمیر کیے گئے۔ پندرھویں صدی تک مسلم قرطبہ (اسپین) میں ہی صرف 40 سے 50 کے قریب بڑے اسپتال کام کر رہے تھے۔
​دمشق میں سلطان نور الدین زنگی کا قائم کردہ “بیمارستانِ نوری” (1154ء) اتنا کامیاب ماڈل ثابت ہوا کہ یہ بیسویں صدی کے آغاز تک فعال رہا۔ اسی طرح مراکش کے شہر فاس میں واقع “سیدی فرج مرستان” (1286،1944) غریبوں اور ذہنی مریضوں کے لیے مخصوص تھا۔ وہاں انسانیت نوازی کا یہ عالم تھا کہ زخمی اور بیمار پرندوں کے علاج اور دیکھ بھال کا بھی الگ سے انتظام موجود تھا۔ ​یہ بیمارستان امراء اور حکمرانوں کی فیاضی اور فلاحی جذبے کے عکاس تھے۔ زیادہ تر اسپتال “وقف” یعنی دینی امانت اور خیراتی فنڈز کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ صاحبِ ثروت افراد کے لیے یہ عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ سماجی عزت کا بھی ذریعہ تھا۔ وقف کے تحت باقاعدہ قانونی دستاویزات تیار کی جاتی تھیں تاکہ یہ ادارے سیاسی تغیر و تبدل سے محفوظ رہ کر ہمیشہ سب کے لیے کھلے رہیں۔ ​علمِ طب میں انقلابی پیش رفت
​قرونِ وسطیٰ کی اسلامی دنیا نے طب کے میدان میں کئی انقلابی ایجادات کیں۔ جراحی (سرجری)، تشریح الاعضا (انباٹمی)، امراض کی تشخیص اور ادویہ سازی میں نمایاں ترقی ہوئی۔ خصوصاً آنکھوں کی جراحی اور موتیا بند کے علاج میں مسلمان اطباء دنیا بھر میں سب سے آگے تھے۔
​حکیم ابوالقاسم الزہراویؒ نے جراحی پر مشتمل تیس جلدوں پر محیط ایک عظیم الشان کتاب “التصریف” تصنیف کی، جو یورپ کی جامعات میں اٹھارویں صدی تک نصاب کا حصہ رہی۔
​ذہنی صحت اور ماحول کے ذریعے علاج
​بیمارستانوں میں ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے الگ وارڈز مختص ہوتے تھے۔ وہاں علاج صرف ادویات تک محدود نہیں تھا، بلکہ آس پاس کے ماحول کو بھی شفایابی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ روشنی، بہتے پانی کی آواز، مدہم موسیقی، تازہ ہوا اور معالجین کی خوشگوار گفتگو کو علاج کا حصہ بنایا جاتا تھا۔ ان کا اصول تھا کہ جب تک مریض مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو جائے، اسے رخصت نہیں کیا جائے گا۔ یہ ایک نہایت جدید سوچ تھی، کیونکہ مغربی دنیا میں ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کا رواج بیسویں صدی میں جا کر عام ہوا۔
​ان بیمارستانوں کا طرزِ تعمیر بھی نفسیاتی علاج کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا تھا۔ انہیں باغات، سبزہ زاروں اور فواروں کے قریب تعمیر کیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر ترکی کے شہر ادرنہ میں سلطان بایزید ثانی کا قائم کردہ “دارالشفا” شہر کے شور و غل سے دور ایک پرسکون ماحول میں بنایا گیا تھا، جہاں خوشبوؤں اور پانی کی لہروں کی آواز سے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ ​اطباء کی خدمات اور علم و دین کا ملاپ ​مسلم علماء اور اطباء نے انسانی نفسیات پر گراں قدر کام کیا۔ بوعلی سینا نے ذہنی بیماریوں کی سائنسی درجہ بندی اور تشریح پیش کی، ان کی مشہورِ زمانہ کتاب “القانون فی الطب” صدیوں تک دنیا بھر میں طبی علم کا منبع رہی۔ ابو زید البلخی نے نویں صدی میں ذہنی صحت پر “مصالح الابدان والأنفس” (جسم اور روح کی شادابی) کے نام سے ایک مایہ ناز کتاب لکھی۔ انہوں نے افسردگی (ڈپریشن) کو ماحولیاتی اور حیاتیاتی اسباب میں تقسیم کیا اور ہر حالت کے لیے الگ علاج تجویز کیے۔
​اسلامی تہذیب میں موسیقی کو بھی شفائی اثرات کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ معلمِ ثانی الفارابی نے موسیقی کے نفسیاتی اثرات پر تفصیلی تحقیق کی اور بتایا کہ مختلف دھنیں کس طرح انسانی جذبات پر اثرانداز ہوتی ہیں اور جسمانی و ذہنی توازن بحال کرتی ہیں۔ بعد میں عثمانیوں نے اس روایت کو باقاعدہ نظام میں ڈھالا؛ فالج، بے خوابی اور دیگر اعصابی امراض کے لیے الگ الگ راگ اور دھنیں مخصوص کی گئیں۔ اسی عثمانی روایت نے آگے چل کر یورپ میں “میوزک تھراپی” کے تصور کو جنم دیا۔
​بیمارستان صرف اسپتال نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ مدارس (میڈیکل کالجز)، کتب خانے اور مساجد بھی متصل ہوتی تھیں۔ یہاں علاج اور تعلیم ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ مریض کی جسمانی صحت کے ساتھ اس کی روحانی اور نفسیاتی حالت کا بھی پورا خیال رکھا جاتا تھا، کیونکہ اسلامی فکر میں علمِ ابدان (سائنس) اور علمِ ادیان (روحانیت) کو ایک دوسرے سے جدا نہیں دیکھا جاتا تھا۔
​جدید طبی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ​بیمارستانوں کی اسی روشن روایت نے آج کے جدید اسپتالوں کی بنیاد رکھی۔ بلا امتیاز علاج، ذہنی صحت کی اہمیت، قدرتی ماحول اور موسیقی و خوشبو کے ذریعے علاج جیسے تصورات آج بھی جدید طبی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
​مغربی طب میں اب ان روایات کی اہمیت کو دوبارہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر لندن کے کنگز کالج اسپتال میں قائم کیا گیا پہلا “اوپن ایئر آئی سی یو (ICU) وارڈ” اور گارڈن چھت، جہاں مریضوں کو کھلی فضا اور خوشبو دار درختوں کے درمیان رکھا جاتا ہے، دراصل اسی قدیم بیمارستان کے تصور کا احیاء ہے۔ ​یہ بیمارستان صرف اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں تھے بلکہ ایک فکر اور ایک نظریہ تھے؛ ایسا نظریہ جو ہر انسان کو عزت، احترام اور ہمدردی کے ساتھ علاج فراہم کرنے پر یقین رکھتا تھا۔ آج ڈاکٹرز ڈے کے موقع پر ہمیں اس عظیم تاریخی ورثے سے یہی سبق ملتا ہے کہ شفا صرف دوا دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ خدمت، ہمدردی اور پوری انسانیت کے لیے ذمہ داری کے احساس کا دوسرا نام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *