تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
بجلی کا سنگین بحران، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کسی بھی معاشرے کے لیے کڑا امتحان ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں وہی قیادت عوام کے دلوں میں جگہ بناتی ہے جو محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کی کوشش کرے۔ ضلع قلعہ سیف اللہ میں سینیٹر و صوبائی امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے بجلی کے بحران کے دوران عوامی ریلیف کی فراہمی کے لیے جو عملی اقدامات کیے ہیں، وہ خدمتِ خلق، عوامی ذمہ داری اور فلاحی قیادت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ہمیشہ ضلع قلعہ سیف اللہ کے عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی سیاسی و سماجی جدوجہد کا بنیادی محور بنایا ہے۔ آپ نے بلاامتیاز غریب، نادار، بے سہارا اور مستحق افراد کے مسائل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ یہی اوصاف آپ کو ایک عوام دوست، درد مند اور عملی خدمت پر یقین رکھنے والی قیادت کے طور پر ممتاز کرتے ہیں۔
ضلع بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور شدید گرمی سے پیدا ہونے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے اپنے خصوصی فنڈز سے دو ہفتے قبل یونین کونسل کان مہترزئی کی 70 مساجد کے لیے مکمل سولر سسٹمز فراہم کیے۔ یہ اقدام محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ عبادت گاہوں کو توانائی کی مستقل سہولت فراہم کرنے اور عوامی مشکلات میں کمی لانے کی ایک مؤثر کاوش ہے۔ جماعتی ذمہ داران نے نہ صرف ان سولر سسٹمز کی تقسیم کو یقینی بنایا بلکہ ان کی تنصیب بھی مکمل کرائی، جس سے مقامی آبادی اور نمازیوں کو فوری اور دیرپا سہولت میسر آئی۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گزشتہ روز تحصیل شنکی کے یونین باتوزئی کے آٹھ یونٹس اور تحصیل شنکی کے چار دیگر یونٹس میں مستحق خاندانوں کو مکمل ہوم سولر سسٹمز فراہم کیے گئے۔ یہ اقدام اس حقیقت کا غماز ہے کہ عوامی خدمت کا سفر محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں عوام کو ریلیف پہنچانے کا تسلسل برقرار ہے۔
ان شاء اللہ العزیز، مستقبل قریب میں ضلع قلعہ سیف اللہ کی دیگر تحصیلوں اور یونین کونسلوں میں بھی ضرورت اور ترجیح کی بنیاد پر ایسے فلاحی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ بجلی کے بحران سے متاثرہ زیادہ سے زیادہ خاندان اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ یہ اقدامات اس امر کی دلیل ہیں کہ عوامی خدمت کے لیے اخلاص، بصیرت اور عملی حکمتِ عملی ناگزیر ہوتی ہے۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی شخصیت خدمت، دیانت، ایثار، تدبر اور عوامی ہمدردی کا ایک روشن استعارہ ہے۔ آپ نے ہمیشہ ذاتی مفادات پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے منصوبوں کی سرپرستی کی ہے جو براہِ راست عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل ایک ذمہ دار، باوقار اور عوامی قیادت کی حقیقی شناخت ہوتا ہے۔
اس موقع پر یونین کونسل کان مہترزئی اور تحصیل شنکی کے عوام نے سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی خدمات کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جب عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ایسے فلاحی اقدامات امید، اعتماد اور عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مولانا عبد الواسع صاحب کی یہ خدمات ضلع قلعہ سیف اللہ کی اجتماعی تاریخ میں ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔
بلاشبہ، بجلی بحران کے اس کٹھن دور میں عوامی ریلیف کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور محروم طبقات کی دستگیری کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ خدمتِ خلق ہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی رہنما کو عوام کے دلوں میں دائمی مقام عطا کرتا ہے۔ عملی قیادت کی یہی روایت معاشروں کی تعمیر، عوامی اعتماد کے استحکام اور فلاحی ریاست کے تصور کو تقویت بخشتی ہے۔
