​مرنا ہے تو،اسپتال کیوں جاؤں؟

​ترتیب
نظام الدین

​انسان جب ماں کی آغوش سے دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی ایک طویل سفر ہے، ایک ایسا سفر جس کی کوئی انتہا نہیں۔ بچپن کی شوخیاں، جوانی کی امنگیں، خواہشات کی چکاچوند اور کامیابیوں کی دوڑ انسان کو اس قدر اپنے حصار میں لے لیتی ہے کہ وہ اکثر بھول جاتا ہے یہ دنیا مستقل قیام گاہ نہیں، بلکہ ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ وقت خاموشی سے گزرتا رہتا ہے، عمر ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتی چلی جاتی ہے۔ انسان اپنی مصروفیات میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ صحیفۂ عمل کااقتباس بن جاتا ہے۔ ​اس حقیقت کا عملی احساس مجھ پر اس وقت ہوا جب میں پہلی مرتبہ تاج میڈیکل اسپتال میں داخل ہوا۔ جہاں ایک طرف مخلص دوستوں نے میرا حوصلہ بڑھایا، دعائیں دیں، وہاں اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے نے بلخصوص میرے “بچوں” نے میری تیمارداری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ میں ان سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ” ادا کرتا ہوں۔ ​سچ تو یہ ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے سے پہلے میری سوچ اسپتالوں سے متعلق زیادہ مثبت نہیں تھی۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا “جب مرنا ہی ہے، تو پھر اسپتال کیوں جاؤں؟”مگر اسپتال کے ماحول کو قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ میری اس قسم کی سوچ اور باتوں میں کوئی منطقی یا اخلاقی وزن نہیں تھا۔ دراصل یہ میری ایک بہت بڑی غلط فہمی تھی، اور آج میں اپنی اسی غلط فہمی اور منفی رویے کی تردید کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ​کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا صحت مند انسان یہ دعویٰ نہیں کرتا وہ کبھی نہیں مرے گا۔ لیکن “مرنا تو ہے” کہہ کر علاج سے انکار کرنا ایک منفی پیغام دیتا ہے؛ یعنی اس طرزِ عمل میں ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزارنے کی کوشش کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ موت کب آئے گی اور زندگی کا چراغ کب گل ہوگا، یہ ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن اس زندگی کو “کیسے” گزارنا ہے، یہ کافی حد تک ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ ​صحت مند عادات اپنانے اور بروقت علاج کروانے کا اصل مقصد موت سے بھاگنا نہیں، بلکہ ایک باوقار بڑھاپا حاصل کرنا ہے۔ اگر ایک شخص مکمل صحت مند اور فعال زندگی گزار کر 60 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو جائے، تو یہ اس کے لیے ایک بڑی عافیت ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص اپنی بے احتیاطی کے باعث 90 سال تک تو جی جائے، لیکن زندگی کے آخری 25 سال مستقل بیماریوں، ہسپتالوں کے چکروں، بھاری اخراجات اور اپنی اولاد پر بوجھ بن کر گزارے، تو یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک کیفیت ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں کوئی زبان سے کہے یا نہ کہے، خود اولاد مسلسل اذیت اور مجبوریوں کے باعث دل سے اس کرب کے خاتمے کی منتظر رہتی ہے،
​زندگی گزارنے کا ایک انتہائی اہم اصول ‘رسک مینجمنٹ’ (مستقبل کی منصوبہ بندی) ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز سو فیصد یقینی نہیں ہوتی۔ اس بات کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ ایک انتہائی بے احتیاط شخص بغیر کسی بیماری کے بہترین بڑھاپا گزار لے، اور اس بات کا بھی پورا امکان ہے کہ انتہائی محتاط لائف اسٹائل اور متوازن خوراک کے باوجود کسی کو کسی بھی عمر میں کوئی موذی مرض لاحق ہو جائے۔ ​چونکہ زندگی میں کچھ بھی یقینی نہیں ہے، اس لیے ہم بطور انسان صرف یہ کر سکتے ہیں کہ حقیقی حقائق اور ڈیٹا کی بنیاد پر ان امکانات کا جائزہ لیں جن سے اچھی صحت حاصل ہو سکتی ہے، اور پھر ان کے مطابق اپنی زندگی کے لیے بہترین انتخاب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود کو ذہنی اور معاشی طور پر اس بات کے لیے بھی تیار رکھنا چاہیے کہ اگر حالات ہماری پلاننگ کے مطابق نہ رہے، تو ہمارا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ حقیقی ڈیٹا اور طبی سائنس یہی بتاتی ہے کہ متحرک طرزِ زندگی اور خوراک کی بہتر منصوبہ بندی سے ایک باوقار بڑھاپے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ​غیریقینیت زندگی کا لازمی حصہ ہےچاہے معاشی معاملات ہوں، سماجی مسائل ہوں، سیاسی حالات ہوں یا صحت۔ لیکن اس غیریقینیت کو بنیاد بنا کر زندگی کو بے لگام اور لاپروا چھوڑ دینے کی وکالت ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ ​ ​زندگی محض سانسیں لینے کا نام نہیں؛ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں سب سے زیادہ سانسیں لینے والے جاندار سب سے کامیاب کہلاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کردار کا نام ہے، احساس کا نام ہے، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔
​ایک شخص برسوں زندہ رہ کر بھی مردہ دل ہو سکتا ہے، اور ایک انسان چند دن جینے کے باوجود صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں دھڑکتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنی مختصر زندگی کو اپنے بہترین اعمال سے ایک خوبصورت صحیفہ بنا دیا ہوتا ہے۔ ​کتنا عجیب المیہ ہے کہ انسان دوسروں کی موت دیکھ کر عبرت تو حاصل کرتا ہے، مگر اپنی موت کو بھول جاتا ہے۔ جنازے روز اٹھتے ہیں، قبرستان روز آباد ہوتے ہیں، اور مٹی روزانہ انسانوں کو اپنی آغوش میں لیتی ہے، مگر اس کے باوجود بعض انسان اپنے غرور اور غفلت کے حصار سے باہر نہیں آتے۔ وہ یوں جیتے ہیں جیسے انہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ انسان کی زندگی ایک مختصر سی کہانی ہے جس کا آخری صفحہ اچانک بند ہو جاتا ہے۔
​یاد رکھیے، بڑھاپا اور بیماری کا جو وقت ہمیں ملتا ہے، وہ دراصل قدرت کی طرف سے ایک ‘الٹی میٹم’ اور سنبھلنے کا آخری موقع ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *