دنیاحسدوبغض کی جگہ ہے،جہاں انسان کیاہرجانداراس بیماری میں مبتلا ہے،انسان روزِ اول سے شیطان کے حسدوبغض کانشانہ بناتاامروزاس میں مبتلا ہے۔انسان کوچاہے اللہ کی طرف سے پیدائشی کوئی عنایت ہویااسباب سے انسان نے کسی امتیازکوحاصل کیا ہوایک فرد سے لے کرایک قوم تک کواس پہ حسدوبغض کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔موجودہ زمانے میں جہاں طاقت کی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہ سمجھی جاتی ہے نہ مانی جاتی ہے،افراد سے لے کراقوام تک کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ طاقت سے لبریز ہوں،ورنہ زندگی ہمہ وقت خوف وبھوک میں مبتلاہے گی۔بحیثیت قوم پاکستان کامعرضِ وجودمیں لانا بھی یہی تھاکہ طاقت حاصل کی جائے،کہ علامہ اقبال نے فرمایا تھا،کہ ”اعصانہ ہوتوکلیمی ہے کارِ بے بنیاد“۔لہذامسلمانانِ ہندنے اپنے لیے طاقت حاصل کرلی،پوری دنیا نے اس غیریقینی چیز کوبے دلی سے تسلیم توکرلیا لیکن اس کے بارے میں کئی طرح کے خدشات کااظہارکیا،اوراس امید میں رہے کہ یہ آج گیا کہ کل،لیکن قدرت کوشاید یہ منظورنہ تھا،توباقاعدہ پاکستان کے خلاف سازشیں رچی جانے لگیں،گوکہ اس قوم نے کامیابی پاتے ہی اپنے ”منجھے“ ڈیلے کرلیے اورخوابِ خرگوش میں چلے گئے۔لیکن قدرت جن کو بچانا چاہتی ہے،انہیں خواب میں بھی ہاتھ پاوں مارنے کے جھٹکے دیتی رہتی ہے،کشمیرکی تحریکِ آزادی جوکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق الحاقِ پاکستان تھی،روزِاول سے ہی پاکستان کے لیے ایک طاقت کے توازن کاچرکاتھا،جس کے لیے پاکستانی قوم نے اپنے دفاع کواپنی باقی ضروریات پرترجیح دی،چھوٹی موٹی جنگی تحریکوں کے بعدکماحقہ جنگ 1965میں پہلی بارپوری قوم کویکجان ہوکراپنے ازلی دشمن کا مقابلہ کرنا پڑااوراللہ نے ایک عالمی حمایت یافتہ بہت بڑی طاقت کوایک چھوٹے سے ملک کے ہاتھوں شکست دے دی،اب عالمی سازشیوں نے سمجھاکہ اس طرح اس قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی توانہوں نے اندرونی انتشاروخلفشارکواپنا ہتھیاربنایا،پاکستان کے ایک حصے کودوسرے حصے کے خلاف ابھارنا شروع کردیا،جس کے دوران ہمارے اربابِ بست وکشاداوردانشوران قوم سوئے رہے کہ اس طرح کی باتوں کا جواب دینااورعوام کو سمجھانایاایسے فلسفے بھگارنے والوں کوبروقت عوام پرواضح کرنا کہ ان کے مقاصد کیا ہیں،اوران کے فلسفوں کے نتائج کیا ہوں گے،یہ عوام پرواضح کرنے کے بجائے،اس وقت تک منتظررہے جب تک عوام بھی ان فلسفوں پرچلنے لگی،اوراب سوائے طاقت کے استعمال کے پھرکیا باقی تھا،ادھرطاقت کا استعمال ہونے لگا ادھرہندوستان نے طبلِ جنگ بجا دیا،اورآدھا پاکستان دنیا کے نقشے سے غائب ہوگیا،اب بقیہ پاکستان نے اپنی طاقت کا توازن بنانے کے لیے ایٹمی قوت بننے کی خفیہ کوشش شروع کردی،جو مختلف عالمی سازشوں کے باوجودبالآخرپایہ تکمیل کوپہنچ گئی، لیکن عالمی سازشیں اندرونی خلفشاریوں کواس طرح مصروف رکھے ہوے تھیں،کہ کوئی بھی حکومت اس کا اظہارکرنے سے خائف تھی، بالآخر بھارت کی جرات کہ اس نے ایک اور ایٹمی دھماکہ کردیا،توپاکستان کی حکومت نے بھی کسی بھی دباوکوخاطرمیں نہ لاتے ہوے،28مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کرکے،انڈیا پربرتری اورپوری دنیا میں اپنے آپ کوایٹمی طاقت منوالیا۔عالمی سازشیوں نے اس گستاخی پرایک سال کے گزرتے ہی حکومت کا دھڑن تختہ کرادیا،اورپھرعوام اوراداروں کے درمیان مقابلہ شروع ہوگیا،اوران چاہے اورانجان لوگوں کوعنانِ حکومت دے دی گئی،ادھرافغانستان اورامریکہ جنگ شروع کرادی گئی،پھردودھائیوں تک پاکستان میں حکمرانی کے مختلف تجربات ہوے،بالآخراسٹیبلشمنٹ نے اعلان کردیا کہ ہم مداخلت نہیں کرتے،توعالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے سیاستدانوں نے خوداسٹیبلشمنٹ کوگھسیٹنا شروع کردیا کہ ہم سے بات کرو،ہم ان کے علاوہ کسی حکومت وپارٹی سے بات نہیں کرنا چاہتے،اور حکومت بھی اندرونی انتشاروخلفشارپھیلانے والے عالمی سازشیوں سے اسی طرح آنکھیں چرائے ہوے ہے جیسے سقوطِ ڈھاکہ میں تھے۔گوکہ بیرونی طورپراللہ نے پاکستان کو پہلی بارانڈیا پرجنگی برتری بھی ایسے عطافرمائی کہ چارگھنٹوں کے اندراندرہی انڈیا نے عالمی سطح پرفریادشروع کردی خدارابچاواوربالآخر امریکی صدرکی فرمائش پرپاکستان نے جنگ بندی کرلی،اس کے ساتھ ہی ایران اسرائیل امریکہ جنگ چھڑگئی جس کوپاکستان نے اپنے کردار سے پہلے سست کرایا بالآخرجنگ بندی کراکرمصالحت کے لیے ثالثی کاکردار شروع کردیا،جس سے عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ تقریباًختم ہوگیا،گوکہ آج پاکستان دنیا بھرکی نظروں میں ایک امن کی امیدہے، لیکن اس کے باوجود عالمی سازشی پاکستان کے اندرکے عاقبت نااندیشوں اورذاتی مفاد پرستوں اورباطنی طور پرپاکستان دشمن لوگوں کواستعمال کرکے ملک کے اندرخلفشار اوردہشت گردی کروارہے ہیں،اس میں سب سے بڑا کردارسوشل میڈیا پرمذہبی،اورعلاقائی تعصب اورمذہبی مقدسات کی توہین اورنفرت بھرے پیغامات ہیں جوآج کسی بھی سیدھے سادھے مسلمان اورپاکستانی کی برداشت کے قابل نہیں،لہذامضبوط دفاعی قوت،اورعالمی تعلقات کے باوجود اگرااندرونی خلفشاریوں اورغداروں کوقابونہ کیا گیا توکہیں بہادرشاہ ظفر کی طرح خود بھی توپ کاگولہ چلایاتوشاہی قلعے کی دیوار سے باہرتک ہی آئے گا،کیونکہ غداروں نے اس کے بارودمیں سرسوں کے بیج بھردیئے تھے،یہ بھی اللہ کا شکرہے کہ گولہ دیوارکے باہرگراتھا کہیں اندرہی گرجاتا توانگریزوں کوبہادرشاہ کورنگون نہ لے جانا پڑتا۔لہذاہماری گزارش ہے کہ موجودہ حکومت کواللہ نے جویہ مقام دیا ہے،اسے باقی رکھنے کے لیے اندرونی خلفشاریوں کونظرمیں رکھے،چاہے مذہبی منافرت پھیلارہے ہیں یاعلاقائی یاسیاست کے نام پرقوم سے کھلواڑکررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کوتاروزِ قیامت قائم ودائم رکھے آمین۔وماعلی الاالبلاغ۔
مقام پانااتنامشکل نہیں ہوتاجتنامقام بچانا
