خطابیات
عمرخطاب
ہمارے معاشرے کی پہچان ہمیشہ سے اعلیٰ اخلاقی اقدار، بڑوں کے احترام اور عوامی مقامات کے تحفظ سے رہی ہے، لیکن سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں سستی شہرت کی ہوس نے ان تمام روایات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو نظر سے گزری جس نے دل خون کے آنسو رلا دیا: چند نوجوان ایک پبلک پارک میں لگے کوڑے دان یعنی ڈسٹ بن کو اپنی مہارت دکھانے کے لیے لاتیں مار کر گھما رہے تھے اور اس تخریبی عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے محظوظ ہو کر اس کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ یہ منظر محض دو منٹ کی ویڈیو نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری نوجوان نسل میں تفریح اور جہالت کے درمیان لکیر مٹ چکی ہے۔
اس افسوسناک عمل کو دیکھ کر ایک مہذب شہری کو افسوس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آتا ہے کہ کتنا اچھا ہوتا اگر یہی نوجوان پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی صحت مند سرگرمیوں کی ویڈیو بناتے یا آس پاس پڑا کچرا اٹھا کر کوڑے دان میں ڈال کر صفائی کا پیغام عام کرتے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک تعمیری اور مثبت پیغام پھیلتا جو معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنتا۔ مگر افسوس کہ ایک مہذب انسان بن کر قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کے بجائے، ان نوجوانوں نے عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے منحوس عمل کی تشہیر کو اپنی کامیابی سمجھ لیا۔ یہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے کہ آج کا نوجوان سمجھ بیٹھا ہے کہ عزت کردار سے نہیں بلکہ وائرل ہونے اور لائکس ملنے سے ملتی ہے۔
جب کوئی نوجوان عوامی املاک، ہسپتال، پارک، انتظار گاہ، سکول یا کالج کی بینچوں یا کوڑے دانوں کو توڑتا ہے، تو وہ تین بڑے نقصان کرتا ہے: پہلا مالی نقصان کیونکہ وہ ٹیکس کا پیسہ ہے جو دوبارہ اسی پر لگے گا؛ دوسرا قومی ساکھ کا نقصان کیونکہ ایسی ویڈیوز عالمی سطح پر ہمارے معاشرے کی منفی تصویر پیش کرتی ہیں؛ اور تیسرا کردار کا نقصان کیونکہ جو آج کوڑے دان توڑ رہا ہے، وہ کل گھر کی دیواریں توڑنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اس اخلاقی بحران کا سب سے بڑا حل والدین کی تربیت میں چھپا ہے۔ اصلاح کا آغاز گھر سے ہی ہونا چاہیے جہاں والدین اپنے بچوں کے موبائل فون کے استعمال اور ان کے دوستوں کے حلقے پر کڑی نظر رکھیں۔ ہر باپ کو اپنے بیٹے کو یہ سنہری اصول سکھانا ہوگا کہ “بیٹا! جہاں سے گزرو، اس جگہ کو پہلے سے بہتر کر کے جاؤ”۔ اگر گھر میں یہ احساس پیدا کر دیا جائے کہ عوامی مقامات سرکار کی نہیں بلکہ ہماری اپنی ملکیت ہیں، تو یہ توڑ پھوڑ خود بخود رک جائے گی۔ معاشرتی اصلاح کے خاطر علماء کرام کے لیے اس موضوع پر بیانات کے ساتھ ساتھ اصلاحی ورکشاپس بھی کرنا چاہیے جو موبائل فون کے غلط استعمال کے نقصانات اور مثبت استعمال کی ترغیب پر مشتمل ہو۔
علاوہ ازیں بطور ایک مہذب شہری ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ایسی جاہلانہ ویڈیوز کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ ایسی ویڈیوز کو لائک یا شیئر کر کے ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں، بلکہ کمنٹس میں عزت کے ساتھ انہیں روکیں تاکہ سستی شہرت کے بھوکے ان عناصر کو معلوم ہو کہ بدتہذیبی کوئی ہیرو ازم نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ بگاڑ صرف سوشل میڈیا پر شور مچانے والی اقلیت یعنی زیادہ سے زیادہ دس فیصد افراد کا ہے، جبکہ نوجوانوں کی اکثریت اب بھی بااخلاق ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے دکھ کو ڈیوٹی میں نہ بدلا، یعنی افسوس کے بجائے معاشرے کی اصلاح کے لیے میدان میں نہ نکلیں تو یہ موبائل کلچر ہماری تہذیب اور حیا کو نگل جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے اور عزت، غیرت، حمیت، دیانت و نظم و ضبط کی طرف واپس لائیں۔
