عید الاضحیٰ آرہی ہے،ہرصاحب حیثیت واستطاعت قربانی کی تلاش میں ہے۔علماء قربانی کے مسائل وفضائل بتانے میں لگے ہوے ہیں۔صاحب حیثیت ”ناک ونمائش“کے لیے اچھے سے اچھاخوب صورت تگڑا،کان کھردُم سلامت ہو”دوندا“ہوڈھونڈھ رہے ہیں۔خریدنے کے بعد حمائل گھنگروں پائل اورپتانہیں کیاکیا سج دھج کرکے گھرلاتے ہیں،صبح و شام محلے اورشہرمیں ڈھول باجے کے ساتھ گھماتے ہیں،لوگ دیکھ کرمبارک بادیاں دیتے ہیں،اورخیال ہی خیال میں مالک قربانی کے جانورپرسوار ہوکراسی طرح چھن چھن کرتے پل صراط سے گزررہا ہوتا ہے۔قربانی جس نبی علیہ الاسلام کی سنت ہے،اللہ نے اس اپنے خلیل سے فرمایا میری راہ میں پیاری چیز قربان کروخلیل علیہ السلام نے مال اللہ کی راہ میں دے دیا،پھرحکم ہواپیاری چیز قربان کرو،خلیل علیہ السلام نے اپنے جانورقربان کردیئے،پھرحکم ہوااپنی پیاری چیز قربان کرو،اب اللہ کے خلیل نے اپنی نسل کے اکیلے وارث کوذبح کرنے کاارادہ کرلیا،لیکن اس سے پہلے اپنے اس لختِ جگرکوبتایا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں اللہ کے لیے ذبح کررہا ہوں،توبیٹے نے ؑعرض کیا آپ کواللہ نے جوحکم دیا ہے اسے کرگزروان شاء اللہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔توحضرتِ خلیل علیہ السلام نے اللہ کے اس حکم کوپوراکرنے کاعمل شروع کیا تواللہ نے دیکھاکہ میرے خلیل نے اسباب ومال اورتمام دنیاوی مال ومتاع کومیری راہ میں قربان کردیا ہے،اوراب اپنی نسل کے وارث کو بھی میری راہ میں واقعتاقربانً کرنے لگے ہیں توجلالت ایزدی نے فرمایا”و فدینٰہ بذبح عظیم“ہم نے اسمعیل کوبچانے کے لیے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دیا،تواسمعیل بچ گئے،وہ فدیہ آج بھی سنت ابراہیمی کے نام سے امت میں جاری وساری ہے،لیکن کیا آج یہ امت اس قربانی کوہی صرف دے کراللہ کے ہاں سرخروہوجائے گی،حضرتِ ابراہیم نے توتمام خواہشات ومال ودولت جانوروں کوپہلے اللہ کی راہ میں قربان کیا،پھرسب سے بڑی محبت اوراپنی نشانی کواللہ کی راہ میں قربان کرنے لگے،تب جاکراللہ نے قبولیت کے ساتھ اپنی طرف سے فدیہ دے کراپنے محبوب خلیل کی آزمائش ختم فرمائی۔لیکن آج ہم ہرطاقت ورکمزورکی قربانی دے کراپنے مال ومتاع اپنی اولادوعزت کوبچارہا ہے،حکومت ہے تووہ اپنے غریب ومظلوم عوام کوقرباانی کا بکرابنائے ہوے ہے،سرمایہ دارمزدورکو،جاگیردار ہاری ومزارع کو،پیرمریدکو،توکیاایسے میں ہماری یہ عیدالاضحیٰ کی قربانیاں اللہ کے ہاں قبول ہوجائیں گی۔ہمارے گاوں میں ایک سیانا سا بندہ جونسلا چوہدری تھا،وہ کہیں اوائل پاکستاان میں انگلینڈ چلا گیا،بیس پچیس سال تک انگلینڈکمایا پھرجب پاکستان آیا تووہ ایک اچھے اخلاق والا بندہ تھا۔میرے والدصاحب بتاتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنی بھینس قبرستان میں چرارہا تھا،اورخودایک پکی قبرپربیٹھاہواتھا،والدصاحب نے اس سے کیا لالا نبی پاک ﷺنے قبرپربیٹھنے سے منع فرمایا ہے تومعذرت کرتے ہوے اٹھ کھڑاہوا، پھرگپ شپ شروع ہوگئی تووالدصاحب نے کہالا لا آپ نمازپڑھتے ہیں،اورپڑھے لکھے بھی ہیں صاحبِ استطاعت ہیں،توآپ نے حج کیوں نہیں کیا؟تووہ بولاصوفی صاحب سچی بات یہ ہے کہ میں سود لیتا ہوں تواب تم ہی بتاوکے سود کے پیسے سے حج جائزہے،تووالدصاحب نے کہایہ توجائزنہیں توپھراس نے کہا بتاومیں پیسہ بھی ضائع کروں،اورحج کے ثواب کے بجائے گناہ کیوں اٹھاوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی اگرلوگ ایساکچھ سوچیں توشایدمحلے میں کسی کوایک قربانی بھی دیکھنے کونہ ملے،جانوروں کوقربان کرنے والوں کواپنی جھوٹی شان وشوکت،اپنی خواہشات،غروروتکبر،اپنے اختیارات اورطاقت کوپہلے قربان کرناچاہیے پھرکسی بے زبان کے گلے پر چھری چلائیں،اللہ تعالیٰ مسلمانوں کودینِ حقہ کی مکمل، پیروی کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین،وماعلی الاالبلاغ۔
حکیم قاری مجمدعبدالرحیم
اللہ کوپیاری ہے قربانی
