تحریر: محمد منصور ممتاز
جب معاشرے میں سچ بولنے والے خوفزدہ کر دیے جائیں، جب قلم اٹھانے والوں کو خاموش کرانے کے لیے دھمکیوں کا سہارا لیا جائے، جب کرپشن کو بے نقاب کرنے والوں کی جانیں خطرے میں ڈال دی جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف، جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کا ہے۔
سینئر صحافی رضوان اسلم گوندل کو مبینہ کرپشن کی رپورٹنگ پر سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ خبر صرف ایک صحافی کے خلاف دھمکیوں کی خبر نہیں بلکہ ان تمام اہلِ قلم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو عوامی مفاد کے لیے سچ کو منظرِ عام پر لانے کی جرات کرتے ہیں۔
صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے۔ اگر اس ستون کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تو پوری عمارت لرز اٹھتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی بااثر یا کرپٹ عنصر کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے تو سب سے پہلے صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دھمکیاں دی جاتی ہیں، دباؤ ڈالا جاتا ہے، کردار کشی کی جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جاتا ہے۔
رضوان اسلم گوندل آج جس صورتحال سے گزر رہے ہیں، وہ کسی ایک صحافی کی آزمائش نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کا امتحان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کرپشن کے خلاف خبر دینے والے صحافی محفوظ نہیں تو پھر احتساب کون کرے گا؟ اگر سچ لکھنے والوں کی جان و مال محفوظ نہیں تو عوام تک حقائق کون پہنچائے گا؟
اس وقت رضوان اسلم گوندل ہی نہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ بھی شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایک دھمکی صرف ایک شخص کو نہیں لگتی بلکہ اس کے بچوں، والدین، بھائیوں اور پورے خاندان کے سکون کو چھین لیتی ہے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے ان شہریوں کو تحفظ فراہم کرے جو معاشرے کی اصلاح اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگاتے ہیں؟
ہم حکومتِ پنجاب، کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رضوان اسلم گوندل کو فوری اور مؤثر سکیورٹی فراہم کی جائے۔ دھمکیوں میں ملوث عناصر کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے مثال قائم کی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص صحافیوں کو دھمکانے کی جرات نہ کر سکے۔
صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں، وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے پر خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ آج اگر رضوان اسلم گوندل تنہا رہ گئے تو کل کوئی اور صحافی نشانہ بنے گا، اور پھر شاید سچ بولنے والے ختم ہو جائیں گے۔
ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سچ کا ساتھ دے گی یا سچ کو دبانے والوں کا۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ دھمکی دینے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، نہ کہ سچ لکھنے والوں کو خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے۔
رضوان اسلم گوندل کا تحفظ صرف ایک صحافی کا تحفظ نہیں، بلکہ آزادیٔ صحافت، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ ہے۔ قوم کی نظریں متعلقہ اداروں پر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا جائے کہ پاکستان میں قلم کی حرمت اور صحافیوں کی جان کی قیمت موجود ہے۔
کیونکہ جب قلم خاموش ہو جاتا ہے تو معاشرے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
