​جنگل کا قانون

​ترتیب , نظام الدین

​جب کسی معاشرے، شہر یا ریاست میں قانون کی حکمرانی کمزور ہو جائے، طاقتور افراد یا گروہ اپنی مرضی مسلط کرنے لگیں، کمزور اور غریب افراد کو انصاف نہ ملے، اور فیصلے اصول و قانون کے بجائے طاقت، دولت یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہونے لگیں تو کہا جاتا ہے وہاں’’جنگل کا قانون‘‘نافذ ہے۔ “مثلاً
​ کراچی میں حالیہ دنوں میر علی رضا کے قتل کی پردہ پوشی کی گئی، اور ماضی
میں 20 سالہ شاہ زیب کو جاگیردارانہ پش منظر رکھنے والے شاہ رخ جتوئی نے معمولی تلخ کلامی پر قتل کردیا اور صلح کی آڑ میں مجرم کی معافی کی راہ ہموار کی گئی اسی طرح ایک پولیس افسر راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو انکاؤنٹر کردیا اور وہ سزا سے بچ گیا جبکہ عام افراد کو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی عدالت سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس طرح کے حالات پر لوگ بے اختیار کہنے لگے’’کراچی میں تو جنگل کا قانون ہے، اسی طرح اج بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں مسلح گروہ ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کرتے ہیں، اس صورتِ حال کو بھی جنگل کے قانون سے تشبیہ دی جاتی ہے۔​اس کے برعکس، ایک مہذب اور آئینی معاشرے میں تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں۔ وہاں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے، جبکہ فیصلے ذاتی طاقت، دولت یا بندوق کے زور پر نہیں بلکہ عدالتوں اور قانونی اداروں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔​،کیا واقعی جنگل میں کوئی قانون یا نظام نہیں ہوتا؟​حقیقت یہ ہے’’جنگل کا قانون” زیادہ تر انسانی زبان کا ایک استعارہ ہے، جنگلی حیات کی مکمل حقیقت نہیں۔​قدرتی دنیا میں بھی ایک انتہائی پیچیدہ اور منظم نظام موجود ہے۔ ہر جاندار اپنی بقا، افزائشِ نسل اور خوراک کے لیے فطرت کے مقررکردہ حیاتیاتی اصولوں کےتحت زندگی گزارتا ہے۔ وہاں انسانوں کی طرح عدالتیں، تحریری قوانین اور اخلاقی ضابطے تو نہیں ہوتے، لیکن ایک مضبوط ماحولیاتی توازن
ضرور قائم رہتا ہے۔
​قدرت کے اس نظام کو جسے انسان کبھی’’بے رحمی یا ظلم کا نام دیتا ہے، سائنسی زبان میں غذائی زنجیر
قدرتی انتخاب اور ماحولیاتی توازن کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ ​مثلاً، شیر جب کسی ہرن یا دوسرے جانور کا شکار کرتا ہے تو اس کے پیچھے نفرت، انتقام یا لالچ کا کوئی جذبہ کارفرما نہیں ہوتا؛ وہ محض اپنی بقاء کے لیے شکار کرتا ہے۔ شکاری اور شکار کے درمیان یہی تعلق ماحولیاتی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔
​اگر شکاری جانور مکمل طور پر شکار کرنا چھوڑ دیں، تو شکار بننے والے جانوروں کی آبادی غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گی، جس سے نباتات پر دباؤ بڑھے گا اور پورا ماحولیاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
​لہٰذا، فطرت کے اس نظامِ شکار کو انسانی اخلاقی پیمانے سے’’اچھا‘‘یا ’’برا‘‘ قرار دینا درست نہیں، یہ بنیادی طور پر ایک حیاتیاتی اور ماحولیاتی ضرورت ہے۔
​فطرت کے اپنے قوانین
​سائنسی اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے فطرت اپنے اٹل قوانین کے تحت چلتی ہے۔ طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات کے اصول اس نظام کی بنیاد ہیں۔
​بارش، طوفان، زلزلہ یا کسی جانور کا دوسرے جانور کو شکار کر لینا بذاتِ خود اخلاقی طور پر نہ ’’اچھا‘‘ ہے نہ ’’برا‘‘یہ فطرت کے مظاہر ہیں۔ ​لیکن پھر ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے:کیا انسانوں کے شہروں میں قتل و غارت گری کو بھی’’فطرت کا توازن‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے؟​اس کا واضح جواب ہے ،”نہیں۔​کیا انسانی قتل بھی فطرت کا قانون ہے؟
​تاریخِ فلسفہ میں اس سوال پر طویل بحث ہوئی ہے کہ آیا انسان کے تشدد اور قتل کو بھی فطرت کے قانون کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ایسی حالت میں انسان ایک دوسرے کے خلاف خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے، اور اگر کوئی مشترکہ طاقت اسے قابو میں نہ رکھے تو معاشرہ مسلسل تصادم اور جنگ کی طرف چلا جاتا ہے۔
​مگر یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔​جو کچھ فطرت میں ہو رہا ہے، ضروری نہیں کہ وہ انسانوں کے لیے بھی اخلاقی طور پر درست یا جائز ہو۔ فلسفے میں اسے قدرتی مغالطہ کہا جاتا ہے، یعنی محض اس بنیاد پر کہ فطرت میں کوئی عمل ہو رہا ہے، اسے انسانی اخلاق کے لیے سند نہیں بنایا جا سکتا۔​شیر اور انسان میں فرق
​شیر کے پاس شکار نہ کرنے کا کوئی اخلاقی فلسفہ یا انتخاب نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنی حیاتیاتی ضرورت اور جبلت کے تحت عمل کرتا ہے۔​انسان اس کے برعکس عقل، شعور اور ارادے کی آزادی
رکھتا ہے۔​جب انسان کسی دوسرے انسان کا قتل کرتا ہے تو وہ عموماً کسی ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا نہیں کرتا، بلکہ اس کے پیچھے حسد، اقتدار، لالچ، انتقام، نفرت، غصہ یا خوف جیسے انسانی محرکات ہوتے ہیں۔
​یہی وہ مقام ہے جہاں’’جنگل‘‘اور
انسانی معاشرے‘‘کے درمیان بنیادی خطِ امتیاز کھینچتا ہے۔
​جانور فطرت کے حیاتیاتی نظام کا بے بس حصہ ہیں، جبکہ انسان نے اپنی عقل و شعور کے ذریعے اخلاقی اور قانونی نظام تشکیل دیا ہے۔
​صرف انسانی وصف
​رحم، انصاف اور اخلاقیات کو ہم جس شکل میں سمجھتے ہیں، وہ انسانی شعور اور اجتماعی زندگی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔​قدرت جب طوفان لاتی ہے تو وہ امیر اور غریب، ظالم اور مظلوم میں فرق نہیں کرتی۔ زلزلہ کسی عدالت کا فیصلہ نہیں ہوتا اور سیلاب کسی شخص کے جرم کی سزا نہیں ہوتا۔​لیکن انسان نے قدرتی جبر سے خود کو محفوظ رکھنے اور ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کے لیے اخلاق، قانون، عدالت اور ریاست جیسے ادارے قائم کیے۔ انسان نے یہ نظام اس لیے بنایا تاکہ طاقتور شخص محض اپنی جسمانی یا مالی طاقت کے بل بوتے پر کمزور کو ختم نہ کر سکے۔​تہذیب کا سفر
​انسانی تاریخ صرف جنگوں، قتل و غارت اور طاقت کی کشمکش کا نام نہیں ہے؛ بلکہ انسانی تہذیب نے فکر، فلسفے، سائنس، ادب، فنون اور اجتماعی تجربات کے ذریعے ترقی کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔
​انسان نے رفتہ رفتہ یہ سمجھا کہ اگر ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق دوسرے پر ظلم کرنے لگے تو کوئی بھی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔​اسی ضرورت نے اجتماعی معاہدوں ریاستی اداروں، عدالتوں اور قانون کی بالادستی کے تصورات کو جنم دیا۔​یوں انسانی تہذیب کا یہ سفر وحشیانہ طاقت کی جگہ قانون کی حکمرانی اور شخصی اقتدار کے مقابلے میں آئینی و معاشرتی معاہدے کی فتح کا سفر رہا ہے:​اگر انسانی شہروں کو بھی’’جنگل کے قانون‘‘پر چھوڑ دیا جائے، اگر طاقتور کے ہاتھوں کمزور کے قتل کو ’’فطری توازن‘‘ قرار دے دیا جائے، اگر دولت مند قانون سے بالاتر اور غریب قانون کے شکنچے میں سمجھا جائے، اگر بندوق ہی دلیل بن جائے اور عدالتیں بے اثر ہو جائیں ،تو پھر انسانی تہذیب، ریاست اور قانون کے وجود کا مقصد ہی کیا رہ جائے گا؟​جنگل میں شیر کا ہرن کا شکار کرنا فطرت کا نظام ہے؛ لیکن شہر میں طاقتور انسان کا کمزور انسان کو کچلنا فطرت کا قانون نہیں بلکہ انسانی قانون کی ناکامی ہے۔​یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔​فطرت میں طاقت بقاء کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، مگر انسان نے تہذیب کی بنیاد ہی اس لیے رکھی کہ طاقت کے بجائے’’حق اور انصاف‘‘ کا فیصلہ نافذ ہو”جنگل کا قانون‘‘دراصل جنگل کی نہیں، بلکہ انسانی معاشرے کی ابتری کو ظاہر کرنے والی ایک اصطلاح ہے۔​جنگل کا اپنا ایک فطری نظم و ضبط ہے؛ شکاری اور شکار، نباتات اور حیوانات، خوراک اور بقاء ،سب ایک پیچیدہ اور متوازن ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔
​ترقی یافتہ انسانی معاشرے میں انسان کو عقل، شعور، اختیار اور اخلاقی ذمہ داری حاصل ہے۔ اسی لیے انسان کا کمال یہ نہیں کہ وہ کتنا طاقتور بنتا ہے، بلکہ اس کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو قانون اور اخلاق کے تابع کر دے۔
​انسان نے قدرت کے بے رحم جبر کے مقابلے میں اپنے شعور، رحم اور انصاف کے ذریعے ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کی ہے جہاں طاقت کے بجائے ’’حق‘‘ کی بالادستی ہو۔​اور جس دن کسی معاشرے میں حق کی جگہ طاقت، قانون کی جگہ اثر و رسوخ، عدالت کی جگہ بندوق اور انصاف کی جگہ دولت فیصلہ کرنے لگے، اس دن مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ انسان جنگل کی طرف جا رہے ہیں یا نہیں…​مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جنگل خود انسانوں کے شہروں میں واپس لوٹ آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *