ترتیب . نظام الدین
1993 میں پیدا ہونے والی روما مشتاق مٹو نے جب ہوش سنبھالا، توکراچی کا وہ سیاسی جن ملک کے منظرنامے سے عملاً رخصت ہو کر جلاوطنی اختیار کر چکا تھا۔اور روما مشتاق مٹو نے زندگی میں کبھی براہِ راست اس شخصیت کو دیکھا نہ سنا، مگر بجٹ جیسے اہم ترین اجلاس میں اچانک انہیں اس کردار کا خیال کیوں ستانے لگا؟ آخر کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ تقریر ان کے اپنے دماغ کی سیاسی سمجھ بوجھ کا نتیجہ تھی ہی نہیں، بلکہ یہ سراسر بلاول ہاؤس کے بند کمروں میں تیار ہونے والی پارٹی ہائی کمان کی لکھی ہوئی اسکرپٹ تھی، جس پر محترمہ نے طوطے کی طرح رٹا مار کر ایوان میں”ٹو ٹو ٹو”کر دیا۔
سندھ کی سیاسی بساط کے پیچھے چلنے والے اس کھیل کے تانے بانے پیپلز پارٹی کے ان خفیہ پہلوؤں سے ملتے ہیں جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ اس حکمتِ عملی کے دو نمایاں رخ ہوتے ہیں، ڈائیورشن تھراپی یعنی (توجہ ہٹانا)
جب بھی سندھ کے بجٹ پر آڈٹ رپورٹس، کرپشن، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور تھر میں بچوں کی اموات جیسے سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں، تو ہائی کمان اپنے تجربہ کار وزراء کو پیچھے کر کے روما مشتاق جیسے نوآموز اراکین کو آگے کر دیتی ہے۔انہیں باقاعدہ ہدف دیا جاتا ہے کہ وہ ایسا ہنگامہ کھڑا کریں کہ میڈیا بجٹ کی خامیاں دکھانے کے بجائے اس “سیاسی دنگل”کو شہ سرخی بنا دے۔ روما مٹو نے وہی اسکرپٹ نبھایا، جس سے بجٹ کی اصل خامیاں پسِ منظر میں چلی گئیں اور وہ متنازع نام بحث کا مرکز بن گیا۔
نوجوان اراکینِ اسمبلی کو معلوم ہے کہ اگر وہ بجٹ پر کوئی سنجیدہ اور عالمانہ تقریر کریں گے تو شاید ہائی کمان کی نظروں میں نہ آئیں لیکن اگر وہ اپوزیشن کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ممنوعہ نام کو اچھالیں گے تو ان کا سیاسی مستقبل اور اگلا اسمبلی ٹکٹ محفوظ ہو جائے گا۔ المیہ دیکھیے کہ شام تک محترمہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر “ملین ویوز”کی دیوی بن کر ناچ رہی تھی، واہ ری جمہوریت! اور واہ ری قانون کا ترازو،دیکھنے والا عام شہری چائے کی پیالی ہاتھ میں پکڑے، آنکھیں پھاڑے یہ تماشہ دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ جس نام کو ٹی وی اسکرین پر دکھانے سے ‘پیمرا’ کا دل بند ہو جاتا ہے، جس نام کو زبان پر لانے سے اچھے اچھوں کا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے، وہ نام ایوان کے ٹھنڈے اے سی میں اتنے مزے سے چبایا جا رہا ہے جیسے کوئی میٹھا پان ہو،چلو مان لیتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل66 نےان اسمبلی والوں کو ‘پارلیمانی استحقاق’ کا وہ جادوئی لباس پہنا رکھا ہے، جسے پہن کر یہ ایوان کے اندر خون بھی کر دیں تو قانون اندھا ہو جاتا ہے۔ یہ اپنی سیاسی دکانداری چمکانے، قیادت کے شامنے نمبر بنانے، یا اپوزیشن کو مرچیں لگانے کے لیے کسی بھی بھوت کو بوتل سے باہر نکال سکتے ہیں۔
لیکن ذرا ٹھہریے! اب اس اسکرپٹ کا دوسرا رخ دیکھیے۔ یہی نام، یہی تذکرہ، اور یہی نوٹس اگر کراچی کے کسی چائے کے کھوکھے پر یا فیس بک کی کسی وال پر کوئی “عام شہری” غلطی سے بھی کر بیٹھے؟ تو پھر وہ جادوئی لباس غائب ہو جاتا ہے۔ پھر آئین کا وہ خوبصورت آرٹیکل 25جو کہتا ہے کہ ‘سب شہری برابر ہیں’شرم سے منہ چھپا لیتا ہے۔ پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے متحرک ہوتے ہیں جیسے وہ کسی عالمی دہشت گرد کو پکڑنے نکلے ہوں۔ وہ اس غریب کو پاتال سے بھی کھینچ لاتے ہیں اور اگلی صبح وہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا اپنے نصیب کو رو رہا ہوتا ہے۔ ریاست کا معصومانہ عذر یہ ہوتا ہے کہ ایوان میں ہونے والی بات تو سیاسی تنقید ہے، لیکن عام شہری کا تذکرہ ملک دشمنی اور نظریاتی تشہیر ہے!” سبحان اللہ! کیا منطق ہے!
ممنوعہ تشہیر اور ‘اسٹرائیسنڈ ایفیکٹ’
مگر ان عقل کے اندھے سیاست دانوں کو کون سمجھائے کہ اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے شوق میں وہ جس ‘ممنوعہ کردار’ کو مٹانا چاہتے ہیں، اپنی ہی تقاریر سے اس کی مفت تشہیر کر رہے ہیں۔ انگریزی میں اسے ‘اسٹرائیسنڈ ایفیکٹ’ کہتے ہیں؛ یعنی جس چیز پر آپ جتنا اسکول کے ماسٹر کی طرح ڈنڈا لے کر پابندی لگائیں گے، اس کا بار بار کا یہ منفی تذکرہ اسے عوام، بالخصوص نئی نسل کے ذہنوں میں اتنا ہی سنسنی خیز اور زندہ رکھے گا۔
سچ تو یہ ہے کہ سیاست کی اس شطرنج پر اس متنازع شخصیت کی حکمتِ عملی بھی یہ ہی ہو کہ وہ کسی نہ کسی صورت قومی سیاسی مکالمے کا حصہ بنے رہیں۔ وہ شاید یہ جانتے ہوں کہ
جب تک اقتدار کے ایوانوں میں ان پر الزامات کی بوچھاڑ ہوتی رہے گی۔
جب تک میڈیا ان کا نام لینے کے بجائے صرف “متنازع شخصیت” لکھتا رہے گا۔ تب تک تاریخ کا وہ باب نئی نسل کے ذہنوں میں بار بار تازہ ہوتا رہے گا۔ آخرکار، نام کا اسکرین پر آنا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا؛ بعض اوقات نام کو زبردستی اسکرین سے غائب رکھنے کی کوشش ہی اس کی سب سے بڑی تشہیری مہم بن جاتی ہے۔ شاید یہ ہی وہ تضاد ہے جہاں پابندی لگانے والے، غیر ارادی طور پر، اپنی ہی حکمتِ عملی کو کمزور کر دیتے ہیں۔
