​سانحہ بلدیہ غفلت یا سیاست؟

​ ترتیب
نظام الدین

​جب 11 ستمبر 2012 کو علی انٹرپرائزز فیکٹری، بلدیہ ٹاؤن میں یہ قیامت صغریٰ برپا ہوئی، تو میں اس وقت ہفت روزہ رسائل ’کرائم اسٹریٹ‘ اور ’اسٹار ورلڈ‘ میں بطور ایڈیٹر فرائض انجام دے رہا تھا۔ چیف ایڈیٹر نذیر الدین شیخ ان رسائل کے مالک تھے۔ اس سیاہ دن، آفس میں ہمارے ایک دوست رزاق کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی دو سالیاں اسی فیکٹری کے اندر پھنسی ہوئی ہیں اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ فیکٹری کے باہر کھڑے ہیں۔ میں اور نذیر الدین شیخ فوراً بلدیہ فیکٹری پہنچے۔ وہاں کا منظر ہولناک تھا؛ ہر طرف چیخ و پکار اور دھواں تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ رزاق کی سالیوں کو سول اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے، تو معلوم ہوا کہ دونوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔ ہم نے اورنگی ٹاؤن میں ان کی تدفین میں شرکت کی اور اپنے رسالے ’کرائم اسٹریٹ‘ کے فرنٹ پیج پر جلتی ہوئی فیکٹری اور رؤف صدیقی کی تصویر کے ساتھ، ان کے وزارت سے استعفیٰ کی خبر اندرونی صفحات پر شائع کی، اس دن کے بعد سے، میں نے اس کیس کی عدالتی کارروائی اور پسِ پردہ حقائق کو مستقل نوٹ کرنا شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مرکز اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی مخلوط حکومت قائم تھی، اور دوسری طرف پیپلز امن کمیٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان خونی کشیدگی عروج پر تھی۔ 12 ستمبر 2012 کو سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس زاہد قربان علوی کی سربراہی میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن اور پولیس کی ابتدائی تفتیش نے آگ لگنے کی وجوہات میں سول ڈیفنس کے ناقص نظام، فیکٹری مالکان کی غفلت، شارٹ سرکٹ اور فیکٹری کے بند دروازوں و کھڑکیوں کو بنیادی وجہ قرار دیا۔اگرچہ کچھ میڈیا رپورٹس میں اس کا تعلق پیپلز امن کمیٹی سے بھی جوڑا گیا، لیکن کیس کو بنیادی طور پر “انتظامی غفلت اورحادثہ” ہی مانا گیا۔​اس واقعے کے لگ بھگ ڈھائی سال بعد، فروری 2015 میں رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک ملزم رضوان قریشی کی رپورٹ جمع کروائی۔ اس رپورٹ نے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔ پہلی بار یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ یہ آگ حادثاتی نہیں تھی، بلکہ 25 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر کیمیکل چھڑک کر لگائی گئی تھی۔
​اس انکشاف کے بعد یہ کیس “مالکان کی غفلت” سے نکل کر “منظم دہشت گردی اور قتلِ عام” کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ قانون کے تحت تمام سیکورٹی اور خفیہ اداروں پولیس، رینجرز، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک طاقتور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دی گئی۔ جے آئی ٹی کو تفتیش اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے وسیع اختیارات ملے۔ رینجرز اور انٹیلیجنس شواہد کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا اور مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریہ کو گرفتار کیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) اور بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے اسی جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریہ کو سزائے موت سنائی، جبکہ کچھ ملزمان کو ثبوت نہ ہونے پر بری کر دیا۔ ​فیکٹری مالکان ارشد اور شاہد بھائیلا نے اندرونِ سندھ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کے گھر سے حفاظتی ضمانت حاصل کی، عدالت میں پیش ہوئے اور بعد میں ملک سے باہر چلے گئے۔ انہوں نے دبئی سے ویڈیو لنک کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کروایا۔ مالکان نے اعتراف کیا کہ ایم کیو ایم کے تنظیمی عہدیداروں حماد صدیقی اور رحمان بھولا نے ان سے 25 کروڑ روپے بھتہ مانگا تھا اور فیکٹری میں شراکت داری کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ رقم نہ دینے پر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ​عدالت نے مالکان کے بیانات اور جے آئی ٹی شواہد کی روشنی میں یہ تسلیم کیا کہ مالکان اس کیس میں “ملزم یا مجرم” نہیں، بلکہ خود اس بھتہ خور مافیا کے “متاثرین” تھے۔ چنانچہ ٹرائل کورٹ نے انہیں تمام مجرمانہ دفعات سے باعزت بری کر دیا۔ ​سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا ایک انتہائی اہم اور تاریک پہلو اس کا بین الاقوامی کارپوریٹ سپلائی چین سے جڑا ہونا ہے، جسے مقامی میڈیا پر وہ توجہ نہ مل سکی جو ملنی چاہیے تھی۔​جرمن ڈسکاؤنٹ ریٹیلر KiK، علی انٹرپرائزز کا سب سے بڑا گاہک تھا،اور فیکٹری کا تقریباً 70% سے 80% مال صرف اسی ایک جرمن کمپنی کے لیے تیار ہوتا تھا۔ یورپی قوانین اور برانڈ امیج کے مطابق، جرمن کمپنی ایسے کارخانوں سے مال نہیں خرید سکتی تھی جہاں مزدوروں کے حقوق پامال ہوں یا ماحول غیر محفوظ ہو۔ اس قانونی پابندی سے بچنے اور اپنے گاہکوں کو مطمئن رکھنے کے لیے جرمن کمپنی (KiK) نے اطالوی آڈیٹنگ کمپنی RINA کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ فیکٹری کو عالمی معیار کے مطابق SA8000 سرٹیفکیٹ “محفوظ” قرار دے۔ ​کاغذی آڈٹ اور’ڈیتھ ٹریپ’ کا سرٹیفکیٹ ​اطالوی کمپنی RINA کے انسپکٹرز خود اٹلی سے پاکستان نہیں آئے، بلکہ انہوں نے کراچی کی ایک مقامی تھرڈ پارٹی فرم RI&CA ریجنل انسپکشن اینڈ سرٹیفیکیشن ایجنسی کو یہ کام سب کنٹریکٹ پر دے دیا۔ اس مقامی پاکستانی فرم نے فیکٹری کا انتہائی ناقص اور سطحی آڈٹ کیا۔ فیکٹری میں ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے، کھڑکیوں پر لوہے کی مضبوط جالیاں لگی ہوئی تھیں اور فائر فائٹنگ کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود، کاغذات پر سب “اوکے” دکھا دیا گیا۔ اس مبینہ “کاغذی آڈٹ” کی بنیاد پر اطالوی کمپنی نے اگست 2012 میں علی انٹرپرائزز کو بین الاقوامی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جو اس بات کی گارنٹی تھا کہ یہ فیکٹری مزدوروں کے لیے بالکل محفوظ ہے اس سرٹیفکیٹ کے جاری ہونے کے ٹھیک تین ہفتے بعد 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری میں آگ لگی اور وہ عمارت ایک “ڈیتھ ٹریپ” موت کا کنواں ثابت ہوئی، جہاں 250 سے زائد مزدور باہر نکلنے کا راستہ نہ ملنے کے باعث زندہ جل گئے۔
​جب یہ غفلت بے نقاب ہوئی، تو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ( ECCHR) اور متاثرین کی ایسوسی ایشن نے اٹلی اور جرمنی کی عدالتوں میں کیسز دائر کیے۔ طویل قانونی جنگ اور عوامی دباؤ کے بعد، جرمن کمپنی (KiK) نے متاثرہ خاندانوں کے لیے تقریباً 51 لاکھ ڈالر کے معاوضے کی رقم ادا کرنے کا معاہدہ کیا۔ دوسری طرف، اطالوی کمپنی RINA نے شروع میں 4 لاکھ ڈالر ہرجانہ دینے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن بعد میں وہ اپنی قانونی ذمہ داری سے مکر گئی۔ اگرچہ عالمی ادارہ برائے اسناد نے ایکشن لیتے ہوئے RINA کا پاکستان میں آڈٹ کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کر دیا، لیکن پاکستانی تعزیرات (PPC) میں ایسا کوئی سخت قانون موجود نہیں تھا جس کے تحت کسی نجی آڈٹ کمپنی کو غلط سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر اتنے بڑے قتلِ عام کا برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ ​اس کیس کی آڑ میں ہونے والی مبینہ کرپشن اور اداروں کا کردار بھی انتہائی داغدار رہا۔ فائنل جے آئی ٹی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا کہ “ابتدائی پولیس تفتیش رشوت کے تحت کی گئی تھی”واقعے کے بعد تفتیش کو دبانے اور مالکان کو بچانے کے نام پر کروڑوں روپے کی ڈیلیں ہوئیں۔ سول ڈیفنس اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے برسوں تک رشوت لے کر فیکٹری کو غیر قانونی طور پر چلنے دیا تھا۔ فیکٹری میں کوئی فائر ایگزٹ نہیں تھا، لیکن ہر سال فائلیں رشوت کے عوض پاس ہوتی رہیں۔
​دوسری طرف، فیکٹری مالکان بھائلہ برادرز نے فیکٹری کی عمارت اور مشینری کی تباہی کے عوض انشورنس کمپنی سے تقریباً 8 کروڑ روپے کا کلیم تو حاصل کر لیا، لیکن مزدوروں کے گروپ انشورنس اور گریجویٹی کے واجبات کو طویل عرصے تک دبا کر رکھا، جس پر متاثرین کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا۔​جون 2026 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کیس میں ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت اور سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے کر مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریہ کو بری کر دیا۔ دورانِ سماعت ملزمان کے وکیل فروغ نسیم نے مؤقف اپنایا کہ فیکٹری میں اموات کی اصل وجہ کوئی کیمیکل یا دہشت گردی نہیں تھی، بلکہ مالکان کے حکم پر چوری روکنے کے لیے فیکٹری کے دروازے لاک کر دیے گئے تھے اور ہنگامی اخراج کا کوئی انتظام نہیں تھا۔​سپریم کورٹ کی جانب سے ملزمان کی بریت پراسیکیوشن سرکاری وکلاء کی نااہلی اور پولیس کی ناقص تفتیش تھی، جس کی وجہ سے عدالت میں ایسا کوئی ناقابلِ تردید سائنسی ثبوت یا سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کی جا سکی جو ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہوتی۔ تفتیش کے ابتدائی دنوں میں جو شواہد ضائع ہوئے، ان کا خمیازہ 14 سال بعد بھگتنا پڑا۔ جب تفتیش کار عدالت میں ریکارڈ ہی خراب پیش کرے، تو جج کے پاس قانوناً ملزم کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔​کارپوریٹ احتساب کے ماہرین کے مطابق، پاکستان میں مقدمے کا رخ “کارپوریٹ غفلت” سے بدل کر “دہشت گردی” کی طرف کرنے کا سب سے بڑا فائدہ اطالوی ادارے RINA اور جرمن برانڈز کو پہنچا۔ جب یورپی عدالتوں میں ان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی، تو انہوں نے پاکستانی جے آئی ٹی اور مقامی عدالتوں کے دہشت گردی والے بیانیے کا سہارا لیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ فائر سیفٹی کی ناکامی کا حادثہ نہیں، بلکہ ایک “کیمیکل ٹیرر اٹیک” تھا، جسے دنیا کا کوئی بھی فائر سیفٹی آڈٹ نہیں روک سکتا تھا۔ یوں وہ بین الاقوامی سپلائی چین کے احتساب سے صاف بچ نکلے۔ ​چونکہ فیکٹری مالکان کو پاکستان کی عدالتیں پہلے ہی بری کر چکی ہیں اور ریاستی پراسیکیوشن نے ان کی بریت کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا، اس لیے اب ان پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں بچتا۔ تاہم، جون 2026 کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد، پاکستان کی مزدور تنظیموں اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن (NTUF) نے ایک بار پھر اپنا پرانا مطالبہ دہرایا ہے کہ سندھ حکومت اور محکمہ محنت فیکٹری بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی اور انتظامی غفلت پر متعلقہ سرکاری اداروں اور کرپٹ افسران کا دوبارہ احتساب کرے، تاکہ آئندہ کوئی اور فیکٹری معصوم مزدوروں کے لیے مقتل گاہ نہ بن سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *