ڈارک ویب سے بھارتی ایٹمی تنصیبات کو خطرہ

​ترتیب
نظام الدین


​ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ پوشیدہ حصہ ہے جو عام سرچ انجنز (جیسے گوگل یا بنگ) پر نظر نہیں آتا۔ اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک مخصوص اور محفوظ سافٹ ویئر ‘ٹور’ (Tor) استعمال کرنا پڑتا ہے۔
​یہاں کام کرنے والے اور ویب سائٹ بنانے والے، دونوں کی پہچان مکمل طور پر خفیہ رہتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معلوم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ کون کہاں سے انٹرنیٹ چلا رہا ہے۔ ان ویب سائٹس کے نام کے آخر میں معمولی آلات کی طرح .com یا .org کے بجائے .onion لکھا ہوتا ہے۔ یہاں اشیاء اور خدمات کی خرید و فروخت کے لیے ‘بٹ کوائن’ جیسی کرپٹو کرنسی استعمال کی جاتی ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا حکومتیں پیسوں کی منتقلی کا سراغ نہ لگا سکیں۔
​اسی خفیہ نوعیت کے باعث ہیکرز اور سائبر مجرم اکثر اس جگہ کا رخ کرتے ہیں۔ وہ بڑی کمپنیوں، بینکوں یا سرکاری اداروں کا حساس ڈیٹا چوری کر کے یہاں اپ لوڈ کر دیتے ہیں تاکہ متعلقہ اداروں کو بلیک میل کر کے رقم وصول کی جا سکے یا عالمی سطح پر سنسنی
​بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ہیکرز کے ایک بدنام گروپ ‘ورلڈ لیکس’ نے بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ ‘کڈنکلم نیوکلیئر پاور پلانٹ’ سے منسلک تقریباً 19,000 حساس فائلیں ڈارک ویب پر اپ لوڈ کر دی ہیں۔ ​چوری شدہ فائلیں 2016 سے 2025 کے عرصے پر محیط ہیں۔ اگرچہ یہ ڈیٹا کچھ سال پرانا ہے، لیکن اسے جولائی 2026 میں ڈارک ویب پر عام کیا گیا۔ ہیکرز نے براہِ راست ایٹمی پلانٹ کے مرکزی آپریشنل کمپیوٹرز ہیک نہیں کیے، بلکہ پلانٹ کے لیے کام کرنے والی ایک نجی ٹھیکیدار کمپنی ‘ریلائنس انفراسٹرکچر’ کے تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹر سرور کو نشانہ بنایا۔ ریلائنس گروپ نے خود بھی تصدیق کی ہے کہ ان کا ڈیٹا جزوی طور پر چوری ہوا ہے۔جس میں
​پلانٹ کے وینٹیلیشن کولنگ سسٹم کے نقشے
​بلڈنگز کے فلور، لےآؤٹس​سامان فراہم کرنے والے سپلائرز کی معلومات انشورنس پالیسیاں
​روسی اور بھارتی انجینئرز کے درمیان ہونے والی اہم میٹنگز کا ریکارڈ
​’نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا’ اور متعلقہ بھارتی وزیر نے اس حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ اس سائبر حملے سے پلانٹ کی بنیادی سیکیورٹی یا جوہری ردِعمل کو کوئی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ پلانٹ کو چلانے والا آپریشنل سسٹم انٹرنیٹ سے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ تاہم، دفاعی و سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ حساس انفراسٹرکچر کے تفصیلی نقشے لیک ہونا مستقبل میں کسی بھی بڑے تخریب کارانہ حملے یا سبوتاژ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ​ ​کڈنکولم پلانٹ پر حالیہ سائبر حملہ اپنی جگہ، لیکن بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کے چوری ہونے، گم ہونے اور بلیک مارکیٹ میں ڈارک ویب کے زریعے فروخت کے متعدد واقعات بھی سامنے آچکے ہیں، جن پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے:
​مئی 2021 (ممبئی) پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 7 کلوگرام قدرتی یورینیم برآمد کیا۔ بھارت کے ‘محکمہ جوہری توانائی’ نے تصدیق کی کہ یہ قدرتی یورینیم تھا اور اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق اسے بلیک مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
​جون 2021 (جھارکھنڈ) بوکارو کے علاقے میں پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کر کے ان سے 6.4 کلوگرام مادہ برآمد کیا، جسے ملزمان یورینیم کہہ کر فروخت کر رہے تھے۔ تاہم، بعد میں لیبارٹری ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ مادہ یورینیم یا تابکار نہیں تھا، لیکن اس واقعے نے یورینیم کی بلیک مارکیٹ کی کوششوں کو ضرور ننگا کیا۔
​اگست 2021 (کولکاتا) میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کولکاتا سے قدرتی مواد برآمد ہوا۔ واضح رہے کہ قدرتی یورینیم اور ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے اعلیٰ افزودہ یورینیم
میں بڑا فرق ہوتا ہے، لیکن اس کی غیر محفوظ نقل و حرکت بذاتِ خود بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔
​2010 دہلی یونیورسٹی کیس یہ یورینیم کا نہیں بلکہ ‘کوبالٹ-60’ نامی انتہائی خطرناک تابکار مادے کا کیس تھا۔ یونیورسٹی کے ایک پرانے سائنسی یونٹ کے سامان کو غفلت کے ساتھ کباڑ مارکیٹ میں بیچ دیا گیا۔ کباڑ کے کارکنوں کو شدید تابکاری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کئی افراد شدید بیمار ہوئے۔ اس واقعے نے بھارت میں تابکار مواد کو ضائع کرنے اور اس کی حفاظت کے ناقص نظام کا پول کھول دیا۔
​2009 (ممبئی) پولیس نے غیر قانونی یورینیم کی موجودگی کی تحقیقات کیں۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ مواد کسی ایٹمی بجلی گھر سے چوری ہوا تھا، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوا کہ حساس مادہ غیر قانونی چینلز تک پہنچ رہا ہے۔
​بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا ‘انسیڈنٹ اینڈ ٹریفکنگ ڈیٹا بیس’ (ITDB) ایسے تمام واقعات کا ریکارڈ رکھتا ہے جن میں جوہری یا تابکار مواد ریگولیٹری کنٹرول سے باہر ہو جائے جیسے چوری، گمشدگی یا غیر قانونی نقل و حرکت بھارت کے 2021 کے 7 کلوگرام یورینیم کیس کو بھی اس عالمی ڈیٹا بیس میں درج کیا گیا تھا۔
​بعض بھارتی اور بین الاقوامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 1994 سے 2021 کے درمیان بھارت میں درجنوں ایسے واقعات ہوئے جن میں مجموعی طور پر 200 کلوگرام سے زائد مختلف نوعیت کا جوہری یا تابکار مواد چوری یا گم ہوا۔ اگرچہ اب تک کے شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بھارت میں کسی تیار شدہ ایٹمی بم کا مواد مثلاً انتہائی افزودہ یورینیم یا پلوٹونیم چوری ہوا ہو، کیونکہ قدرتی یورینیم کو براہِ راست ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کا غیر محفوظ ہونا تشویشناک ہے۔
​کڈنکولم نیوکلیئر پلانٹ سے حالیہ ڈارک ویب ڈیٹا لیک اور ماضی میں تابکار مواد کی چوری و گمشدگی کے واقعات کو اگر ملا کر دیکھا جائے، تو ایک انتہائی تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کے وسيع جوہری، تابکار اور صنعتی نیٹ ورک میں جہاں سائبر سیکیورٹی کے شدید جھول موجود ہیں، وہیں مادی سیکیورٹی
اور سپلائی چین سیکیورٹی بھی بلاشبہ کمزور ہے۔ اگر ان خامیوں کو وقت پر دور نہ کیا گیا، تو بھارت کا جوہری پروگرام نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک سنگین سیکیورٹی رسک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *