15 جون 2020 ۔۔۔ میری زندگی میں غم اور خوشی لانے والا وہ واحد دن جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا

تحریر: محمد منصور ممتاز

زندگی میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے وجود پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، سال بیت جاتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر کچھ تاریخیں دل کے صفحات پر ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ 15 جون 2020 بھی میری زندگی کا ایک ایسا ہی دن ہے، ایک ایسا دن جس میں مجھے ایک ہی وقت میں غم اور خوشی، جدائی اور زندگی، آزمائش اور رحمت کا احساس نصیب ہوا۔
یہ وہ دن تھا جب میری والدہ محترمہ ایک المناک ٹریفک حادثے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ ایک ایسا سانحہ جس نے میرے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور میری زندگی کا ایک قیمتی سایہ مجھ سے چھین لیا۔
اس حادثے میں والدہ محترمہ کے ساتھ میرے دونوں بیٹے حافظ محمد احمد اور حنظلہ بٹ، میری اہلیہ کی بہن سعدیہ کاشف، اُن کے بچے محمد احمد، آفان اور ارحم جبکہ میرا بھتیجا طٰہٰ بٹ بھی گاڑی میں سوار تھے۔ طٰہٰ گاڑی چلا رہا تھا اور والدہ محترمہ اُس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ سفر معمول کے مطابق جاری تھا کہ اچانک گاڑی کا ٹائر برسٹ ہو گیا۔ گاڑی بے قابو ہو کر کئی قلابازیاں کھاتی ہوئی سڑک سے بائیں جانب گرین ایریا میں جا گری۔
یہ منظر اتنا ہولناک تھا کہ اسے یاد کر کے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کیا گیا، جہاں والدہ محترمہ اور دیگر تمام زخمیوں کا تقریباً دو گھنٹے علاج جاری رہا۔ مگر دورانِ علاج زیادہ خون بہہ جانے کے باعث والدہ محترمہ خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئیں۔
والدہ محترمہ کے بارے میں ایک بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں انہیں کبھی بغیر وضو کے نہیں دیکھا۔ ان کے دیگر اعمال کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر اس حادثے میں زخمی ہونے والے افراد اور عینی شاہدین نے اس بات کی تصدیق کی کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود والدہ محترمہ بے ہوشی کے عالم میں مسلسل کلمۂ طیبہ کا ورد کرتی رہیں:
“لا اِلٰہَ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ”
سبحان اللہ!
اور یہ سلسلہ ان کی آخری سانس تک جاری رہا۔
اللہ اکبر!
اللہ تعالیٰ تمام اُمتِ مسلمہ کو مرتے وقت کلمہ نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین!
بعد ازاں والدہ محترمہ کی میت اور دیگر زخمیوں کو الگ الگ ایمبولینسوں کے ذریعے لاہور منتقل کر دیا گیا۔
اس لمحے میرے لیے دنیا جیسے تھم گئی تھی۔ ماں کا بچھڑ جانا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہوتا۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ محبت، شفقت، قربانی، دعا اور رحمت کا دوسرا نام ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنی خوشیاں اولاد پر قربان کر دیتی ہے، خود تکلیف برداشت کر لیتی ہے مگر اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل موجود ہے، مگر ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔
والدہ محترمہ کی جدائی کا غم میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ تھا، لیکن اسی حادثے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایک اور رنگ بھی دکھایا۔
میرے دونوں بیٹے حافظ محمد احمد اور حنظلہ بٹ، سعدیہ کاشف، محمد احمد، آفان، ارحم اور طٰہٰ بٹ شدید زخمی ہونے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔
الحمدللہ!
ڈاکٹروں کی محنت، دعاؤں کی طاقت اور اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے وہ سب صحت یاب ہو گئے۔
میرا بیٹا حافظ محمد احمد بٹ والدہ محترمہ کی خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اپنی والدہ رابعہ منصور اور مجھ گنہگار کی دعاؤں، اساتذہ کی رہنمائی اور اپنی محنت سے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر چکا ہے اور ہر سال تراویح میں قرآنِ پاک سنانے کی سعادت بھی حاصل کرتا ہے۔
الحمدللہ!
اس پر بے حد خوشی ہوتی ہے، مگر دل میں ایک کسک ہمیشہ باقی رہے گی کہ محمد احمد نے اپنی دادو کی زندگی میں قرآنِ پاک حفظ کرنا شروع تو کیا تھا، لیکن جب یہ عظیم نعمت مکمل ہوئی تو وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات ہر لمحہ، ہر آن اور تا قیامت بلند فرماتا رہے۔
آمین ثم آمین!
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ 15 جون 2020 میری زندگی کا وہ دن ہے جس میں مجھے ایک ہی وقت میں غم بھی ملا اور خوشی بھی۔ ایک طرف ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے باقی تمام عزیزوں کو نئی زندگی عطا فرما دی۔
اس حادثے نے مجھے زندگی کی حقیقت سمجھا دی۔ انسان کتنی ہی منصوبہ بندی کر لے، کتنی ہی احتیاط اختیار کر لے، مگر آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے، جسے چاہے آزمائش دے، جسے چاہے زندگی عطا کرے اور جسے چاہے اپنے پاس بلا لے۔
یہ دنیا عارضی ہے۔ یہاں خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی، ملاقاتیں بھی ہیں اور جدائیاں بھی۔ کبھی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہوتے ہیں اور کبھی غم کے۔ لیکن ایک مومن کا ایمان یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہے۔
آج اس سانحے کو کئی سال گزر چکے ہیں، مگر والدہ محترمہ کی یادیں آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں۔ ان کی دعائیں، نصیحتیں، محبت، مسکراہٹ اور شفقت آج بھی میرے وجود کا حصہ ہیں۔ وقت زخموں کو بھر دیتا ہے، لیکن ماں کی جدائی کا خلا کبھی پُر نہیں ہوتا۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے اس کڑے امتحان میں مجھے صبر عطا فرمایا اور باقی تمام عزیزوں کو زندگی کی نعمت سے نوازا۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ سمیت تمام اُمتِ مسلمہ کے مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں تمام دوستوں، عزیزوں اور اہلِ ایمان سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اپنے مرحوم والدین، عزیز و اقارب اور تمام اُمتِ مسلمہ کے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ، تین مرتبہ سورۂ اخلاص اور اول و آخر درودِ پاک ضرور پڑھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنے، ان کی خدمت کرنے اور ان کے لیے دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *