محرم: جب وقت رک گیا اور ضمیر جاگ اٹھا

ناصریات از قلم ناصر چوہدری

محرم الحرام صرف اسلامی سال کا پہلا مہینہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت کے ضمیر کی وہ صدا ہے جو صدیوں سے گونج رہی ہے۔ تاریخ میں بے شمار جنگیں ہوئیں، سلطنتیں بنیں اور مٹ گئیں، مگر محرم ایک ایسا باب ہے جسے وقت آج تک بند نہیں کر سکا۔

کربلا ایک میدان کا نام نہیں، یہ انسان کے اندر برپا ہونے والی اس جنگ کا نام ہے جو حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، ضمیر اور مفاد کے درمیان ہر لمحہ جاری رہتی ہے۔

عاشورہ کے دن سورج صرف آسمان پر نہیں تھا، بلکہ وہ ہر اس دل میں طلوع ہوا جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ امام حسینؑ نے تلوار سے زیادہ طاقتور چیز کا استعمال کیا: کردار۔ انہوں نے ثابت کیا کہ فتح لشکروں کی تعداد سے نہیں بلکہ مقصد کی سچائی سے حاصل ہوتی ہے۔

محرم ہمیں رونا نہیں سکھاتا، بلکہ جاگنا سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھی خاموش رہنا بھی ظلم کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان حق پر اکیلا بھی ہو تو وہ شکست خوردہ نہیں ہوتا۔

آج کی دنیا میں یزید صرف ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ سوچ یزیدیت ہے جو طاقت کو انصاف پر ترجیح دے، اور حسینیت ہر وہ کردار ہے جو سچ کے لیے نقصان برداشت کرنے پر آمادہ ہو۔

محرم کا چاند نظر آتے ہی فضا میں غم ضرور پھیلتا ہے، مگر یہ غم کمزوری کا نہیں، شعور کا غم ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کے مال، عہدے اور شہرت میں نہیں بلکہ اس اصول میں ہے جس کے لیے وہ کھڑا ہوتا ہے۔

کربلا میں پانی بند کیا گیا، مگر حسینؑ نے حق کا دریا جاری کر دیا۔ خیمے جلائے گئے، مگر سچائی کی روشنی بجھ نہ سکی۔ جسم زخمی ہوئے، مگر پیغام امر ہو گیا۔

اگر محرم کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے:

“محرم وہ مہینہ ہے جس میں تاریخ نے دیکھا کہ سر کٹ سکتے ہیں، مگر اصول نہیں؛ خیمے جل سکتے ہیں، مگر سچائی نہیں؛ اور وقت گزر سکتا ہے، مگر حسینؑ کا پیغام نہیں۔”

اسی لیے محرم ہر سال نہیں آتا، بلکہ ہر دور کو آئینہ دکھانے آتا ہے کہ وہ حسینؑ کے ساتھ کھڑا ہے یا یزید کے ساتھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *