کراچی
(خصوصی رپورٹ)
—
کراچی کے مستقبل، شہری حقوق، اختیارات کی تقسیم اور سندھ کے انتظامی ڈھانچے پر ایک اہم اور غیر معمولی مکالمہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب سینیئر سیاستدان اور چیئرمین MIT ڈاکٹر سلیم حیدر کی دعوت پر “کراچی؛
حقائق اور حل” کے موضوع پر ایک نیشنل ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔
اس نشست میں مختلف سیاسی، سماجی، ادبی، ثقافتی، کاروباری اور صحافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور کراچی کو درپیش سنگین مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
تقریب میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے سربراہ محمود مولوی، سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، CPLC کے بانی صدر ناظم ایف حاجی، رفیق پشتون، رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت، سابق بیوروکریٹ مظفر عالم صدیقی، آشکار داور، سردار اقبال، اشرف جبار قریشی، وسیم آفتاب، ساجد احمد، سیف یار خان، یوسف امام، کاشف زئی، جمیل احمد خان، شیخ صلاح الدین، انوار احمد خان، اخلاق سونی، خواجہ سلمان، ظفرالجمیل شیخ، جاوید صدیقی، شیخ صادق، سلیم تاجک، رونق حیات، مسرور ہاشمی، اختر روہیلہ، عارف پرویز نقیب، ساجد رضوی، نسیم نازش، فہیم برنی، ارشاد محمد خان، امتیاز بخاری، نعیم طفی، احمد شکیل، عمیر علی انجم، ڈاکٹر سکندر مطرب، سید جعفر علی، شیخ اسماعیل عظیم اور دیگر نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے،
جو قومی محصولات میں تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ،
وفاقی ٹیکس وصولیوں میں 80 فیصد سے زائد حصہ، ملکی برآمدات میں تقریباً 55 فیصد حصہ اور بینکاری و مالیاتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہونے کے باوجود بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہے۔
شہر کو پانی کی شدید قلت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، ناقص سیوریج، کچرے کے انبار، ٹرانسپورٹ بحران، تجاوزات، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
اجلاس میں مختلف آراء سامنے آئیں۔
بعض مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کے مسائل کا حل صرف انتظامی اصلاحات میں نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تمام شہری برادریوں کی مؤثر سیاسی نمائندگی میں مضمر ہے۔
بعض شرکاء نے یہ بھی رائے دی کہ شہری آبادی، خصوصاً مہاجر برادری، کو شراکتِ اقتدار میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے اور زمین، ترقیاتی منصوبوں اور شہری انتظام سے متعلق پالیسیوں میں ان کی آواز کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔
یہ آراء اجلاس میں شریک بعض مقررین کی جانب سے پیش کی گئیں۔
اجلاس میں کراچی کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن میں:
سر فہرست نیی مردم شماری کا مطالبہ تھا
اس کے بعد بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بلدیاتی نظام۔
کراچی کے لیے آئینی و انتظامی اختیارات میں اضافہ۔
این ایف سی اور پی ایف سی ایوارڈ میں آبادی اور ریونیو کی بنیاد پر منصفانہ حصہ۔
پانی، ٹرانسپورٹ، سیوریج اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے ہنگامی منصوبہ۔
پولیس اور شہری اداروں میں میرٹ پر بھرتیاں۔
صنعتوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور سرمایہ کاری کے خصوصی پیکیجز۔
زمینوں کے ریکارڈ میں شفافیت اور شہری منصوبہ بندی کی اصلاح۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء کے درمیان غیر رسمی تبادلۂ خیال بھی ہوا، جبکہ مہمانوں کی حلیم اور حلوہ سے تواضع کی گئی۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کے مسائل پر مکالمے کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ قابلِ عمل سفارشات مرتب کرکے متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا سکیں۔
