ایران کے ساتھ منجمد اثاثوں کا طریقہ کار طے ہوگیا، اثاثوں کی بحالی کا امریکی کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا

ایران امریکی سویا بین اور گندم بھی خریدے گا، چاہتے ہیں ایران کے اثاثے بحال ہوں تو یقینی بنایا جائے کہ رقم دہشتگردی کی فنڈنگ میں استعمال نہیں ہوگی۔ جےڈی وینس کی میڈیا سے گفتگو

واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 22 جون 2026ء ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں ایران کے اثاثے بحال ہوں تو یقینی بنایا جائے کہ رقم دہشتگردی کی فنڈنگ میں استعمال نہیں ہوگی ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں وائٹ ہاؤس میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اسرائیل کی سلامتی اور لبنان کی خودمختاری دونوں کا تحفظ چاہتا ہے،اسرائیل نے واضح کیا ہے جنوبی لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں کے خدشات کے باعث وہاں موجود ہیں۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ منجمد اثاثوں کا طریقہ کار طے ہوگیا، اثاثوں کی بحالی کا امریکی کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا ، ایران امریکی سویا بین اور گندم بھی خریدے گا۔ چاہتے ہیں کہ ایران کے اثاثے بحال ہوں تو یقینی ہوکہ رقم ایرانی عوام کی فلاح پر خرچ ہو، چاہتے ہیں ایرانی اثاثوں کی بحالی پر رقم دہشتگردی کی فنڈنگ میں استعمال نہ ہو۔ مزید برآں امریکی میڈیا کے مطابق امریکا نے ایران کو خام تیل پید اوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دے دی ،امریکا نے ایران کیلئے عارضی طور پر60دن کا جنرل لائسنس جاری کردیا ہے، ایران کو خام تیل پیداوار، ترسیل اور فروخت کی باقاعدہ اجازت ہوگی۔ لائسنس کے تحت ایران پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل کی فروخت کرسکے گا۔ ایران 21اگست تک خام تیل ، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل فروخت کرسکے گا۔ ایران سے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی امریکا میں برآمد کی اجازت ہوگی۔خریدار ایران کو تیل کیلئے ادائیگی امریکی ڈالر میں کرسکیں گے۔ ایرانی تیل بردار جہازوں کی لنگرانداز ی ، مرمت اور عملے کی حفاظت کی اجازت ہوگی، بحری جہازوں کا انتظام ، انشورنس ایندھن کی فراہمی اوررجسٹریشن سمیت متعلقہ خدمات کی اجازت ہوگی۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل وحمل کی یقین کرادی ہے، ایران نے آئی اے ای اے انسپکٹرز سے جوہری تنصیبات کے معائنے کی یقین دہانی کرائی۔ اہم سفارتی کامیابیوں سے دنیا کو مزید محفوظ اور خوشحال بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *