انتہاپسندی کے خاتمے اور متعدل اسلامی معاشرے کی تشکیل کیلئے منبر و محراب کا کردار بنیادی ہے: مولانا طارق جمیل
لاہور (محمد منصور ممتاز سے )
عالمی مبلغ اسلام اور معروف اسلامی اسکالر مولانا طارق جمیل سے مرکزی علماء کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے ملاقات کی جس میں مختلف دینی، علمی اور فکری امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران مولانا طارق جمیل نے کہا کہ متحرک معاشروں میں جامعات، علماء کرام اور دانشور کسی بھی قوم کے لیے ایک اجتماعی ادارے اور تھینک ٹینک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی ادارے ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لے کر ان کے مستقل حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہاء پسندی کے خاتمے اور اسلام کے زریں اصولوں کی روشنی میں ایک متعدل اسلامی معاشرے کی تشکیل میں منبر و محراب کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی حالات کا تقاضا ہے کہ نوجوان نسل کو تنگ نظری، نسل پرستی اور ہر قسم کے تعصبات سے نجات دلائی جائے۔
عالمی مبلغ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے سامنے ایسا کامل دین پیش کرنا ضروری ہے جو گروہی، نسلی اور طبقاتی تفریق سے پاک ہو، اور جو انسانیت کو انفرادی و اجتماعی حقوق اور ذمہ داریاں عطا کرے۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو کامل اور جامع پیغام کے ساتھ مبعوث فرمایا۔
مولانا طارق جمیل نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق کی تاثیر نے آپ ﷺ کی دعوت کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا۔ آپﷺ عدل کو پسند کرتے، حق دار کو اس کا حق دیتے اور کمزور و مسکین کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ آپﷺ کے اخلاقِ حسنہ سے متاثر ہو کر بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔
چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے مولانا طارق جمیل کی عالمی سطح پر دینی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی علماء کونسل پاکستان منبر و محراب سے اسلام کے عادلانہ تشخص کو اجاگر کررہی ہے اور وطنِ عزیز میں امن و استحکام کے قیام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔