ٹھاروشاہ (کاشان غفار خانزادہ)
الحاج صوفی حضرت عبدالجلیل رحمت اللہ علیہ المعروف اباجی حضور کا تعلق کشمیر کے علاقے سے تھا ۔آپ کے مرشد حضرت خواجہ شمش الدین رحمۃ اللہ علیہ سید پور مظفرآباد کشمیر سے تعلق رکھتے تھے آپ نے ان کی صحبت میں رہ کر فیض حاصل کیا علوم ظاہری و باطنی سے سرفراز ہوئے اور مدرسہ نعیمیہ مراد آباد انڈیا سے عربی میں خصوصی تعلیم کے ساتھ علم نظامی کی سند حاصل کی ۔
آپ فارسی زبان پہ بھی عبور رکھتے مشہور زمانہ فارسی نعت خواں جامی کی شاعری کو اپنی تقاریر کا حصہ بناتے اور اس کی آسان تشریح کے ساتھ اپنے مریدین و معتقدین کو سمجھاتے اور ہر نماز جمعہ کےدن وعظ و بیان کا اہتمام فرماتے مریدین کو فرائض کی پابندی کے ساتھ ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک ، پڑوسیوں اور مسافروں کا خاص خیال رکھنے کی تلقین فرماتے ۔ آپ انتہائی نرم مزاج ، شفیق ،خوش اخلاق ، مہربان ، مہمان نواز تھے آپ بچوں ،نوجوانوں اور بزرگوں سب سے خوش اخلاقی سے پیش آتے اور ہمیشہ دھیمے لہجے میں گفتگو کیا کرتے ۔ امیر و غریب سے یکساں طور پر پیش آتے آپ نے مسجد میں امامت کے فرائض سر انجام دیتے اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور کتب گرامر صرف و نحو کی تعلیم کے ساتھ اپنے مریدین و معتقدین کو فرائض کے ساتھ اسلام کے واجبات شرعی مسائل کے بارے میں خصوصی نشست کا اہتمام کیا کرتے تھے ۔ اپنے ہر نئے ہونے والے مرید سے پنج وقتہ نماز کی پابندی اور روزانہ بعد نماز عشاء 100 بار درود پاک اور استغفار پڑھنے اور مراقبہ یعنی اللہ اللہ کا ذکر خاموشی کے ساتھ کرنے کی تلقین کرتے ۔کبھی کسی مرید سے چندے کے حصول پر زور نہیں دیا ۔بلکہ اسے دین کی خدمت نماز و قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیتے ۔
شب برات ، شب معراج ، شب قدر پر آپ مریدین و معتقدین کو عبادت کی تلقین کرتے نوافل ، تلاوت قرآن اور صلات تسبیح کا اہتمام فرماتے اور مسجد میں نماز عشاء سے فجر تک عبادت کا سلسلہ جاری رہتا
اور نفلی روزے رکھنے کے اہتمام اور اہمیت کے بارے میں بتاتے اور اس کے علاوہ آپ نے اہل محلہ علاقے کی بے شمار دینی خدمات انجام دیں شادی میں نکاح خواں کے طور پر شریک یوتےاور مریدین آپ کی شرکت کا انتظام کرتے نماز جنازہ بھی پڑھایا کرتے ۔ اخیر عمر میں بزرگی کے باعث یہ ذمہ داری ماسٹر محمد الیاس کے سپرد کیں۔ آپ نے آخری وقت تک مسجد میں باجماعت نماز کا اہتمام فرمایا ۔
مختصراً یہ کہ آپ کے بعد ہم نے آپ سا کوئی دوسرا شخص نہیں دیکھا جو جو کھانے پینے چلنے بولنے اور سماجی روابط اور مجالس و محافل میں سنتوں پر عمل کرتا ہو۔
اللہ تعالیٰ آپ کی مرقد مبارک پر رحمتوں کا نزول فرمائے۔
آمین یارب العالمین