تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
بلوچستان گزشتہ دو، تین ماہ سے مسلسل امن و امان کی سنگین صورتحال، دہشت گردی، قتل و غارت، لوٹ مار اور بے گناہ افراد کے قتل جیسے افسوسناک واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہنہ اوڑک اور زیارت کے سانحات سمیت مختلف واقعات نے صوبے کے عوام میں تشویش اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور نمائندہ قیادت ایک میز پر بیٹھیں، موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور اس کے مستقل و پائیدار حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کریں۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر، محسنِ جمعیت اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی دفتر میں آل پارٹیز اجلاس طلب کیا، جس میں بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، عوام کو درپیش مشکلات اور مستقبل کے سیاسی لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی اتفاقِ رائے سامنے آیا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے آئندہ بھی تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
اس کے بعد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی صاحب کی جانب سے جرگے کا اعلان سامنے آیا۔ جرگہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک مخصوص قبائلی و قومی فورم ہے، جس میں بنیادی طور پر پشتون قبائل اور نمائندہ شخصیات شریک ہوں گی، جبکہ بلوچ اور بلوچستان میں آباد دیگر اقوام کی نمائندہ سیاسی قیادت اس مخصوص جرگے کا حصہ نہیں ہوگی۔ اس لیے جرگے کی اپنی اہمیت اور افادیت کے باوجود اسے پورے بلوچستان کے تمام سیاسی، قومی اور علاقائی مسائل کے جامع حل کا متبادل قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔
اسی تسلسل میں دو روز قبل عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی صاحب کی صدارت میں آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کی موجودہ بحرانی صورتحال، امن و امان، عوام کو درپیش مشکلات اور صوبے کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو موجودہ بحران اور مخدوش حالات کی اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے اور سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔
بعدازاں آل پارٹیز کے رہنماؤں کی موجودگی میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر، محسنِ جمعیت اور سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کسی بھی سیاسی شخصیت یا جماعت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کا حل تمام سیاسی قوتوں کے ایک ساتھ بیٹھنے، باہمی مشاورت اور مشترکہ سیاسی جدوجہد میں ہے، محض کسی ایک مخصوص فورم یا جرگے تک محدود رہنے میں نہیں۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب ایک زیرک اور تجربہ کار سیاستدان کی حیثیت سے بلوچستان کے سیاسی، معاشی، انتظامی اور امن و امان سے متعلق مسائل کا گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف دراصل کسی فرد یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں ایک جامع اور اجتماعی سیاسی راستے کی نشاندہی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ کسی ایک قوم یا ایک مخصوص علاقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ بلوچستان میں بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام آباد ہیں اور سب اپنے اپنے علاقوں میں مختلف سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسائل کو صرف ایک قوم یا صرف پشتونوں کے مسئلے کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
بلوچستان کے مسائل کی جڑیں محض امن و امان تک محدود نہیں بلکہ ان میں سیاسی محرومی، آئینی و انتظامی مسائل، معاشی پسماندگی، روزگار کے مواقع کی کمی، ترقیاتی عدم توازن اور صوبے کے وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے اہم معاملات بھی شامل ہیں۔ ایسے پیچیدہ مسائل کا حل صرف جرگوں یا وقتی اجلاسوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک وسیع البنیاد، سنجیدہ اور مسلسل سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔ جرگے کی اپنی قبائلی، روایتی اور سماجی اہمیت ضرور ہے، لیکن بلوچستان کے مجموعی سیاسی و آئینی مسائل کے حل کے لیے تمام اقوام، سیاسی جماعتوں اور نمائندہ قوتوں کی شمولیت ضروری ہے۔ جو مسئلہ پورے بلوچستان کا ہو، اس کے حل کے لیے مشاورت بھی پورے بلوچستان کی ہونی چاہیے۔
محمود خان اچکزئی صاحب ایک بااثر اور تجربہ کار سیاسی رہنما ہیں۔ اگر وہ بلوچستان کے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز، بلوچ و پشتون قیادت اور دیگر اقوام کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کو بھی ایک مشترکہ فورم پر جمع کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تو یہ یقیناً بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہوگی۔ مختلف سیاسی و قومی فورمز اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن ان تمام کوششوں کو ایک وسیع تر سیاسی مکالمے اور مشترکہ جدوجہد سے جوڑنا ہی بلوچستان کے مفاد میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
آج بلوچستان کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ صوبے کے تمام سیاسی رہنماؤں، قوموں، قبائلی عمائدین، دانشوروں اور نمائندہ قوتوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں ایک مشترکہ سیاسی ایجنڈا تشکیل دینا ہوگا۔ بلوچستان کا حل نہ کسی ایک جماعت کے پاس ہے، نہ کسی ایک قوم کے پاس اور نہ ہی کسی ایک فورم کے پاس۔ بلوچستان کا پائیدار حل تمام اقوام کی مشترکہ سیاسی جدوجہد، باہمی مشاورت، آئینی و جمہوری راستے اور ایک متفقہ سیاسی لائحۂ عمل میں پوشیدہ ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے اقدامات کو متصادم سمجھنے کے بجائے انہیں وسیع تر سیاسی مکالمے کی طرف لے جائیں۔ اگر جرگہ بلوچستان کے کسی ایک طبقے یا قوم کو متحرک کرتا ہے تو اسے بھی ایک وسیع تر سیاسی عمل کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، لیکن اصل ضرورت ایک ایسے جامع سیاسی فورم کی ہے جس میں بلوچ، پشتون اور دیگر تمام اقوام کی حقیقی نمائندہ سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھے، بلوچستان کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرے اور ان کے حل کے لیے متفقہ، آئینی، جمہوری اور قابلِ عمل لائحۂ عمل تشکیل دے۔
بلوچستان کا حل کسی ایک قوم کے جرگے میں نہیں، بلکہ تمام اقوام کی مشترکہ سیاسی جدوجہد، باہمی اعتماد اور متفقہ سیاسی لائحۂ عمل میں ہے۔ یہی راستہ صوبے میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوام کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
