نئے صوبےایک سندھ، ایک پاکستان

ترتیب . نظام الدین

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر داخلہ کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے ہے۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ صوبے بنانا یا نہ بنانا آئی ایس پی آر کا کام نہیں، نہ ہی یہ فوج یا کسی دوسرے ادارے کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے؛ یہ پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کا آئینی معاملہ ہے۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر کا مؤقف یہ تھا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ آئین کے مطابق عوامی اور آئینی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آئی ایس پی آر یعنی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز پاکستان کی مسلح افواج، یعنی پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کا سرکاری شعبۂ تعلقاتِ عامہ ہے۔ اس کا بنیادی کام ملکی دفاع، سلامتی، فوجی سرگرمیوں اور متعلقہ پالیسیوں کے بارے میں مسلح افواج کا مؤقف میڈیا اور عوام تک پہنچانا ہے۔
لہٰذا اگر آئی ایس پی آر کسی سیاسی یا آئینی موضوع پر فوجی ادارے کا مؤقف واضح کرتا ہے تو اس بیان کو محض اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ پارلیمانی ادارہ نہیں۔ البتہ نئے صوبوں کا قیام بہرحال ایک آئینی عمل ہے، جس کا حتمی فیصلہ آئین میں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔
اس معاملے میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی اداروں کے بارے میں گفتگو میں زبان اور لہجے کا معیار بھی برقرار رہنا چاہیے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے، مگر اختلاف کو ادارہ جاتی محاذ آرائی میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔
بہرحال، سندھ کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم موجودہ دور میں یہ سوال ایک مرتبہ پھر اہم ہوگیا ہے کہ کیا کروڑوں کی آبادی رکھنے والے صوبے کو بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی سہولت کے لیے دو یا تین صوبائی اکائیوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟
اگر اس سوال کو صرف لسانی عینک سے دیکھا جائے تو تنازع پیدا ہوگا، لیکن اگر اسے انتظامی، آئینی، معاشی اور تاریخی مسئلہ سمجھ کر دیکھا جائے تو بحث کی نوعیت بالکل مختلف ہوجاتی ہے۔
سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت واضح ہونی چاہیے ،صوبہ کوئی الگ ملک یا ریاست نہیں ہوتا۔
صوبہ پاکستان کی وفاقی ریاست کے اندر ایک آئینی اکائی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے اندر نئے صوبے بننے کا مطلب پاکستان سے علیحدگی نہیں، بلکہ وفاقی انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل ہے، تاریخی اعتبار سے،برطانوی قبضے سے قبل تالپور دور میں سندھ موجودہ معنوں میں ایک مرکزی صوبائی انتظامی اکائی نہیں تھا۔ 1783ء کے بعد تالپور اقتدار قائم ہوا تو خاندان کی مختلف شاخوں نے حیدرآباد، خیرپور اور میرپور میں الگ الگ علاقائی حکمرانی کے مراکز قائم کیے۔
حیدرآباد میں شاہدادانی، خیرپور میں سہرابانی اور میرپور میں منکانی شاخ کا سیاسی اثر و رسوخ تھا۔یہ کہنا درست نہیں کہ یہ تین جدید قومی ریاستیں تھیں، لیکن یہ تاریخی حقیقت ضرور ہے کہ تالپور دور کے سندھ میں متعدد علاقائی سیاسی مراکز موجود تھے۔خیرپور کی ریاست تو 1843ء میں برطانوی فتح کے بعد بھی اپنی الگ حیثیت میں برقرار رہی اور برطانوی ہندوستان کی ایک باقاعدہ ریاستی اکائی کے طور پر موجود رہی۔لہٰذا اگر آج کوئی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ سندھ کو انتظامی بنیادوں پر ایک سے زیادہ صوبائی اکائیوں میں کیوں تقسیم نہیں کیا جاسکتا تو اسے محض ’’سندھ دشمنی‘‘ قرار دینا تاریخی اور سیاسی بحث کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ ایک جغرافیائی اور تہذیبی سندھ کے اندر مختلف انتظامی اور سیاسی مراکز کا وجود کوئی نئی بات نہیں۔
برطانوی دور اور سندھ کی انتظامی تشکیل،1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے تالپور حکمرانوں کو شکست دے کر سندھ پر قبضہ کیا۔ حیدرآباد اور میرپور کی تالپور حکومتیں ختم ہوگئیں، جبکہ خیرپور ریاست ایک مختلف سیاسی و انتظامی حیثیت کے ساتھ برقرار رہی۔
بعد ازاں برطانوی حکمرانوں نے اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق سندھ کی حدود اور حیثیت میں تبدیلیاں کیں۔ سندھ کو ایک عرصے تک بمبئی پریزیڈنسی میں شامل رکھا گیا اور پھر 1936ء میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت دی گئی۔اس تاریخی تسلسل سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے:
سندھ کی موجودہ انتظامی حدود ازل سے قائم نہیں رہیں بلکہ مختلف تاریخی ادوار میں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ لہٰذا انتظامی حدود میں تبدیلی کو بذاتِ خود سندھ کی شناخت کے خاتمے کے مترادف قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔2023ء کی مردم شماری کے مطابق سندھ کی آبادی تقریباً پانچ کروڑ 57 لاکھ ہے، جبکہ شہری آبادی تین کروڑ سے زیادہ ہے۔
کراچی ڈویژن کی آبادی بھی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یعنی سندھ کی ایک بہت بڑی آبادی صرف ایک شہری ڈویژن میں مرکوز ہے۔دوسری طرف حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیرآباد اور میرپورخاص سمیت سندھ کے مختلف علاقے اپنی الگ معاشی، زرعی، شہری اور جغرافیائی ضروریات رکھتے ہیں۔
سوال یہ ہے، کیا ایک ہی صوبائی انتظامی ڈھانچہ سندھ کی پوری متنوع آبادی کی ضروریات مؤثر طور پر پوری کررہا ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو تقسیم کی ضرورت نہیں۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھرانتظامی اصلاحات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
تین صوبوں کا تصور کیا ہوسکتا ہے؟
تین صوبوں کی بات کا مطلب یہ نہیں کہ سندھ کو سندھی اور اردو بولنے والوں میں تقسیم کردیا جائے۔
ایک ممکنہ انتظامی تصور یہ ہوسکتا ہے کہ سندھ کو تین بڑے جغرافیائی اور معاشی خطوں میں تقسیم کیا جائے،جنوبی یا ساحلی سندھ، وسطی سندھ اور بالائی یا مشرقی سندھ۔تاہم ان کی حتمی حدود محض سیاسی مذاکرات کے ذریعے نہیں بلکہ آبادی، رقبے، جغرافیہ، دریائی نظام، سڑکوں، ریلوے، زرعی پیداوار، صنعت، بندرگاہ، شہری مراکز اور معاشی روابط کے سائنسی جائزے کے بعد طے ہونی چاہئیں۔
اصول واضح ہونا چاہیے، نئے صوبے زبان کے نقشے پر نہیں، انتظامی ضرورت کے نقشے پر بنیں۔کراچی میں سندھی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی اور دیگر زبانیں بولنے والے شہری آباد ہیں۔ اندرونِ سندھ بھی مختلف زبانیں بولنے والی برادریاں آباد ہیں۔
اس لیے کسی نئے صوبے کو ’’سندھی صوبہ‘‘ یا ’’اردو صوبہ‘‘ قرار دینا ہی بنیادی غلطی ہوگی۔
اصول یہ ہونا چاہیے،
تین صوبے، ایک سندھ، ایک پاکستان۔
پاکستان پیپلز پارٹی اس بحث کی اہم سیاسی رکاوٹوں میں سے ایک ہے، کیونکہ آئینی طور پر نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مخصوص اکثریت اور اس کے بعد پارلیمانی آئینی عمل درکار ہوگا۔پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت کو اپنی سیاسی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتی رہی ہے اور سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تجاویز کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی کی مخالفت صرف اقتدار بچانے کے لیے ہے، سیاسی تجزیے کو یک طرفہ کردے گا۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ بھی ہے کہ سندھ ایک تاریخی، ثقافتی اور سیاسی وحدت ہے اور اس کی تقسیم صوبائی خودمختاری کو کمزور کرسکتی ہے۔
یہ مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایک سیاسی سوال بہرحال برقرار رہتا ہے،کیا سندھ کی وحدت کا دفاع اور موجودہ صوبائی سیاسی اقتدار کا تحفظ ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ معاملات ہیں؟یہ سوال تحقیق کا متقاضی ہے، الزام کا نہیں۔
اگر تین صوبے بن گئے تو کیا پیپلز پارٹی ختم ہوجائے گی؟ہرگز نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی تینوں صوبوں میں انتخابات لڑے، حکومتیں بنائے اور اپنی سیاسی طاقت برقرار رکھے۔
فرق صرف یہ ہوگا کہ آج جو صوبائی طاقت ایک مرکز میں مرتکز ہے، وہ تین مراکز میں تقسیم ہوجائے گی۔
تین صوبائی اسمبلیاں، تین وزرائے اعلیٰ، تین بجٹ، تین انتظامی ڈھانچے اور تین سیاسی مراکز وجود میں آسکتے ہیں۔
یہ تبدیلی کسی ایک جماعت کے خلاف اقدام نہیں بلکہ پورے سیاسی اور انتظامی نظام کی تنظیمِ نو ہوگی۔اصل خطرات کو بھی سمجھنا ہوگا
نئے صوبے بنانا کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔
اگر سندھ تین صوبوں میں تقسیم ہوجائے تو پانی کا مسئلہ، کرپشن، زمینوں پر قبضہ، کمزور بلدیاتی نظام، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل خود بخود ختم نہیں ہوں گے۔بلکہ نئے سوالات بھی پیدا ہوں گے،کراچی کی آمدنی کس طرح تقسیم ہوگی؟دریائے سندھ کے پانی پر کس صوبے کا کتنا حق ہوگا؟بندرگاہ اور صنعتی علاقوں سے حاصل ہونے والے محصولات کیسے تقسیم ہوں گے؟
سرکاری ملازمین کس صوبے میں جائیں گے؟
قرض اور اثاثے کس تناسب سے تقسیم ہوں گے؟نئی صوبائی حکومتوں کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے؟
اگر ان سوالات کے جواب پہلے سے تیار نہ ہوں تو صوبوں کی تعداد بڑھانے سے انتظامی مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
شاید اصل مسئلہ صوبوں سے زیادہ بلدیات کا ہے
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A اس بحث میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آئین صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیار منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔اگر کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور دوسرے بڑے شہروں کو حقیقی مالی اور انتظامی اختیار مل جائے تو ممکن ہے نئے صوبوں کا مطالبہ کسی حد تک کمزور ہوجائے۔
لیکن اگر بلدیاتی حکومتیں صرف نام کی رہ جائیں اور تمام اہم اختیارات صوبائی دارالحکومت میں مرتکز رہیں تو بڑے صوبے کا انتظامی مسئلہ برقرار رہے گا۔
اسی لیے سندھ کے مستقبل کی بحث میں ایک بنیادی سوال ضرور شامل ہونا چاہیے، کیا ہمیں نئے صوبے چاہئیں یا پہلے بااختیار بلدیاتی حکومتیں؟
اگر سندھ کے تین صوبوں کی بحث واقعی سنجیدگی سے شروع کی جائے تو اس کے لیے ایک غیر لسانی اور غیر امتیازی چارٹر بنایا جاسکتا ہے۔
پہلا اصول: صوبے زبان کی بنیاد پر نہیں بنیں گے۔دوسرا اصول ، ہر صوبے میں تمام زبانیں بولنے والے شہری برابر آئینی حقوق رکھتے ہوں گے۔تیسرا اصول، ہر مجوزہ صوبے کی معاشی استعداد کا آزادانہ جائزہ لیا جائے گا۔چوتھا اصول، پانی، بجلی، بندرگاہ، ٹیکس اور قدرتی وسائل کی تقسیم کا آئینی فارمولا پہلے طے کیا جائے گا۔پانچواں اصول ، ہر صوبے میں مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام لازمی ہوگا۔چھٹا اصول، نئی حدود کا تعین آزاد ماہرین، جغرافیہ دانوں، معاشی ماہرین، انتظامی ماہرین اور مقامی نمائندوں کی مشترکہ کمیٹی کرے گی۔ساتواں اصول، عوامی مشاورت کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایک سوال
اگر پیپلز پارٹی واقعی سمجھتی ہے کہ موجودہ صوبائی وحدت ہی سندھ کے لیے بہترین انتظامی ماڈل ہے تو اسے صرف تقسیم کی مخالفت کرنے کے بجائے ایک جامع متبادل انتظامی منصوبہ بھی پیش کرنا چاہیے۔مثلاً:کراچی کو مکمل بااختیار میٹروپولیٹن حکومت دی جائے۔حیدرآباد کے لیے مؤثر میٹروپولیٹن نظام قائم کیا جائے۔
سکھر اور لاڑکانہ کو علاقائی انتظامی مراکز بنایا جائے۔
مقامی حکومتوں کو براہِ راست مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔صوبائی اور بلدیاتی اختیارات کی واضح آئینی تقسیم کی جائے۔اگر ایسا نظام سندھ کے پانچ کروڑ سے زائد عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرسکتا ہے تو تین صوبوں کی ضرورت واقعی کم ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر یہ انتظامی ماڈل بھی مؤثر ثابت نہ ہو تو نئے صوبوں کی بحث کو ہمیشہ کے لیے دبانا مشکل ہوگا۔
اصل فیصلہ سندھ کے عوام کا ہونا چاہیے
سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہ صرف پیپلز پارٹی کرے، نہ ایم کیو ایم پاکستان، نہ قوم پرست جماعتیں اور نہ وفاقی حکومت۔
یہ مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ اس پر سندھ کے عوام کو مکمل معلومات کے ساتھ اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے۔
عوام کو بتایا جائے کہ تین صوبے بننے سے کیا فوائد حاصل ہوں گے اور کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟ کون سے اضلاع کس صوبے میں شامل ہوں گے؟ پانی کیسے تقسیم ہوگا؟ کراچی کی آمدنی کا کیا ہوگا؟ نئے صوبوں کے اخراجات کتنے ہوں گے؟ اور مقامی حکومتوں کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟اس کے بعد فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعداد و شمار، آئین، معیشت اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
آخری بات سندھ کو تین انتظامی صوبوں میں تقسیم کرنے کی بحث کو ’’سندھ توڑنے‘‘ اور ’’سندھ بچانے‘‘ کی دو انتہاؤں میں قید کردینا مسئلے کا حل نہیں۔ایک طرف سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی شناخت کا احترام ضروری ہے۔
دوسری طرف کروڑوں شہریوں کو مؤثر حکومت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، پانی، ٹرانسپورٹ اور محفوظ شہری زندگی فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اگر ایک صوبہ یہ ذمہ داری بہتر طور پر پوری کرسکتا ہے تو سندھ ایک صوبہ ہی رہے۔اگر انتظامی طور پر دو یا تین صوبائی اکائیاں بہتر حکمرانی فراہم کرسکتی ہیں تو اس امکان پر آئینی، جمہوری اور غیر لسانی بنیادوں پر بحث ہونی چاہیے۔سندھ کی شناخت صرف زمین کے نقشے سے نہیں بنتی؛ اس کی شناخت اس کے لوگوں، تاریخ، تہذیب، زبانوں، ثقافت اور مشترکہ ورثے سے بنتی ہے۔لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے:’’سندھ تقسیم ہوگا یا نہیں؟‘‘اصل سوال یہ ہونا چاہیے:
’’سندھ کے پانچ کروڑ سے زائد انسانوں کو بہتر، منصفانہ، مؤثر اور جواب دہ حکومت کس انتظامی نظام میں مل سکتی ہے؟‘‘
اور شاید اس پوری بحث کا سب سے متوازن جملہ یہی ہے،
ایک سندھ، ایک شناخت، ایک پاکستان لیکن بہتر حکمرانی کے لیے ایک سے زیادہ صوبائی انتظامی اکائیوں پر غور کیوں نہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *