فلسفہ ہائے صحت وعلاج

دنیامیں ہرچیزکے لیے مختلف فلسفے اورنظریات پائے جاتے ہیں۔اسی طرح صحت وعلاج کے بھی مختلف فلسفے اورنظریے ہیں،آج بھی دنیا کی کچھ اقوام بیماری کوجنات وآتماوں کے اثرات مانتی ہیں اوروہ اس کا علاج اپنے فلسفے اورنظرئیے کے تحت کرکے صحت وتندرستی پالیتے ہیں،ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق ہرمرض کی بنیادسوراہے،اوربالا خرڈاکٹرہنی مین یہ کہنے پرمجبورہوگیے کہ سوراشیطان ہے،اسی طرح آسمانی مذاہب بیماری کوگناہوں یا غفلت کااثرسمجھتے ہیں،اسی لیے اسلام میں اہلِ تقویٰ اپنی بیماری کاعلاج صدقہ سے کرتے ہیں،نبی پاک ﷺنے فرمایا نمازمیں شفاء ہے یعنی عبادت گناہوں کا کفارہ اورغفلت کودور کرتی ہے۔اس لیے اسلام اورتمام آسمانی مذاہب میں بلکہ پوری انسانیت روحانی علاج کواولیت دیتی ہے،روحانیت نظرسے یامسح سے ہرمرض کاعلاج کردیتی ہے،جیسے عیسیٰ علیہ السلام ہاتھ پھیرکریا پھونک مارکرہرمرض بلکہ مردوں تک کوزندہ کردیتے تھے،اوردم بھی مسح یعنی چھونے میں آتا ہے۔اسی طرح دجال جومسیح کہلاتا ہے وہ بھی کرسکے گا،اس کا مطلب ہوا کہ جوکام مومن کی روحانیت کرسکتی ہے وہ کافرکی نفسی طاقت بھی ایسا کرسکتی ہے،لہذاہندو،عیسائی،یہودی یاکسی بھی قسم کے کفریہ مذاہب جودم درود اورنظرسے علاج معالجہ کرتے ہیں،وہ علاج کابرترطریقہ ہے،نظرسے علاج میں ہمارے کچھ مسلمان بھی بے یقینی میں مبتلاہیں،جبکہ نبی کریم ﷺنے نظرلگ جانے کوحق فرمایا ہے،یعنی نظرسے کسی جاندار کا بیمارپڑجانایامرجاناہوسکتا ہے،اورباقاعدہ اس کاعلاج دم دعااورٹوٹکہ کے ذریعے بتایا ہے۔لہذاجب نظرسے کوئی بیمار ہو سکتا ہے توپھرنظرسے کسی کی بیماری کودورکیوں نہیں کیا جاسکتا؟نظراور دم درود کے بعد میرے نزدیک سب سے برتر طریقہ ِ علاج ریفلیکسولوجی یعنی انسانی جسم کے ایسے پوائنٹس کا علم جن کے دبانے سے انسان کی جسمانی امراض ختم ہوجاتی ہیں،اس کے بعد چائنہ کاطریقہ علاج سوئیوں سے پوائنٹس کو متحرک کرکے جسم سے امراض کوختم کرناہے،اس کے بعدادویات سے علاج ہے،جس میں سب سے پہلے علاجِ بالغذا ہے، یعنی عام کھانے پینے والی اشیاء سے علاج،اس کے بعد مفردادویات طبعی سے علاج،اس میں طبِ نبوی کی ادویات اورغذائیں باقی سارے علاجوں سے افضل واعلیٰ ہیں۔اس کے بعد فطری علاج میں طبِ یونانی،آیورویدک،چائینی ادویات،یہ تقریباطبعی ادویات کے مرکبات ہوتے ہیں جوجسمِ انسانی سے مطابقت رکھتے ہیں،اس کے بعدعلاجِ بالمثل ہے،جومرض کے مثل علامات پیداکرنے والی اشیائے دوائیہ سے کیا جاتا ہے۔جسے ہومیوپیتھک طریقہ علاج کہتے ہیں،اوراس کے بعد ایلوپیتھک طریقہ علاج ہے،جوآج کل مروج سائنٹفک علاج ماناجاتا ہے،اس میں کیمیکل اشیاء سے علاج کیا جاتا ہے،اوراس کادار ومدار اینٹی بائیوٹک ادویات اورپین کلر ادویات یا کیمیکلزپرہے،اس علاج کوعالمی سرپرستی حاصل ہے،جس کی وجہ سے یہ پوری دنیا میں سرکاری علاج مانا جاتا ہے،اورپوری دنیا کی حکومتیں اس پررقم خرچ کرکے اس کی تحقیق وتشہیرکی پابندہیں،اس میں امراض کی تشخیص لیبارٹریز کے ذریعے ہوتی ہے،ڈاکٹرخودکسی مریض کودیکھ کرکچھ سمجھ نہیں سکتا،اس علمی سامراج میں ڈاکٹرلیبارٹریزکی تشخیص کوپڑھ کرمرض کی نشاندہی کرسکتا ہے،اورپھراس مرض کاعلاج فارماسسٹ ڈ اکٹرلکھ سکتا ہے،اب اس لکھے کومیڈیکل اسٹوروالا بیچ سکتا ہے۔علاہ اس کے اس طریقہ علاج میں تقریباہرمرض کا علاج آپریشن ہی ہے،ٹی بی ہو جائے پھیپھڑانکال دو،گردہ میں پتھری ہوآپریشن،گردہ خراب ہوجائے،نکال دویا آپریشن سے بدل دو،خون میں خرابی ہو،خون بدل دو،کسی مریض میں خون کم ہواسے خون لگاو،جسم کے کسی بھی حصے کابے دریغ آپریشن ہوجاتا ہے،دل ودماغ پھیپھڑے،جگرگردے،گھٹنے جوڑ جسم کا کوئی پرزہ نہیں جواس طریقہ کے آپریشن سے بچ سکتا ہے،لیکن علاج کسی مرض کا بھی نہیں،امراض کوروکنے والی ادویات کاچلن ایساہے کہ بندہ اگرایک بارمریض ہوگیا پھرمرتے دم تک ادویات کالینا ضروری ہے۔ اورپھرعالمِ انسانیت اس جبرکوتسلیم کرنے کے لیے مجبوربھی ہے،کہ حکومتیں اس سائنٹفک علاج کوزبردستی لوگوں پرمسلط کرتی ہیں،جس کے لیے عالمی ادارے بعض امراض کووبائی تحقیق کرکے ان کے علاج کے لیے مفت امداد مہیا کرتے ہیں جیسے ابھی کوروناوائرس کاواویلا ہواتھا،توبلاتحقیق علاج سے فیضیاب ہونے کے خواہشمند ممالک جیسے پاکستان ہے،کہ ایک بارڈینگی کا حملہ ہوا وہ صرف پنجاب پرتھا،کیوں باقی ملک میں کیا ڈینگی مچھرکوممانعت تھی،لیکن ہماری پنجاب حکومت نے دن رات ایک کرکے کہیں سال بھرمیں ڈینگی کاعلاج سری لنکن ڈ اکٹرزکی تگ ودوکے بعدیہ نکالا کہ گنے کے رس میں لیمن ملا کرپینے سے ڈینگی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے،توکیا پاکستان کی حکومت نے اپنے طبِ یونانی کے حکماء سے پوچھا تھا کہ ڈینگی کاکوئی علاج تمہارے طریقہ میں ہے کہ نہیں،اور نہ طب ِیونانی کے اداروں نے حکومت سے اپیل کی کہ آپ ہمارے طریقہِ علاج کو بھی موقع دیں،کہ وہ اس مرض کا علاج کرسکیں،اگرایلوپیتھک والے مریضوں پرتجربات کرسکتے ہیں،اوران کے تجربات میں مرنے والے شہیدہوں گے تواگردیسی طب کے علااج سے خدانخواستہ کوئی مرگیا توکیا وہ جہنمی ہوجاے گا۔لیکن اس ملک وقوم کا المیہ یہ ہے کہ حکومتوں نے بیرونی آقاوں کوخوش کرکے اپنے حکومتی کارو بار کوچلانا اہوتا ہے،اورآلٹرنیٹوطریقہ علاج والوں نے حکومتی لوگوں کو خوش رکھ کراپنا کاروبارچلانا ہوتا ہے،یہ ملک اورقوم توسب کے لیے ایک ذریعہ کاروبار ہے،اورہرکوئی اپنے کاروبارکومندی میں نہیں پڑنے دیتا۔علامہ اقبال نے کہاہے”حلقہ شوق میں وہ جراتِ اندیشہ کہاں،آہ محکومی وتقلیدوزوالِ تحقیق!“ اللہ اس قوم کو تحقیق وتدبردے کرتقلید کی کاسہ لیسی سے نجات عطافرمائے آمین،وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *