تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
بعض نسبتیں ایسی ہوتی ہیں جو محض خونی رشتوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عقیدت، احترام اور محبت کی دائمی علامت بن جاتی ہیں۔ جب کسی شخصیت کا تعلق محسن انسانیت، خاتم النبیین محمد صلى الله عليه واله وسلم سے ہو تو اس نسبت کی عظمت کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں رہتا۔ آپ صلى الله عليه واله وسلم سے وابستہ ہر چیز مسلمان کے دل میں محبت اور احترام کا مقام رکھتی ہے۔ اہل بیت تو وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلى الله عليه وسلم کے گھرانے سے نسبت عطا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل بیت کی محبت ہر صاحب ایمان کے دل کی دھڑکن اور اس کے عقیدے کا ایک روشن باب ہے۔
اہل بیت سے محبت کا موضوع امت مسلمہ کے ان متفقہ عقائد میں سے ہے جن پر تمام مسلمان یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے اہل بیت کے مقام و مرتبہ کو بیان کیا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو ان کے احترام اور محبت کی تلقین فرمائی ہے۔ اس محبت کا سرچشمہ نہ کسی تعصب میں ہے اور نہ کسی گروہی وابستگی میں، بلکہ اس کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات پر ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل بیت رضی اللہ عنھم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
“اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف رکھے۔”
یہ آیت مبارکہ ہمیں اہل بیت کی عظمت، شرف اور خصوصی فضیلت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اسی طرح رسول پاک صلى الله عليه وسلم نے متعدد مواقع پر اپنے اہل بیت کے حقوق اور ان سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔
حدیث پاک میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
“میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔”
یہ الفاظ بھی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اہل بیت کی محبت اور ان کا احترام ایک دینی فریضہ اور ایمانی تقاضا ہے۔
اہل بیت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات، آپ کی اولاد مبارک اور آپ کے وہ قریبی رشتہ دار شامل ہیں جنہیں شریعت نے اہل بیت کا مقام عطا فرمایا ہے۔ ان تمام مبارک ہستیوں سے محبت دراصل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے محبت کا ایک حسین اظہار ہے۔ جو دل رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی محبت سے معمور ہو، وہ اہل بیت کے احترام اور عقیدت سے خالی نہیں ہو سکتا۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام محبت کے ساتھ اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ اہل بیت سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان غلو اور مبالغے کا شکار ہو جائے یا ایسے عقائد اختیار کر لے جن کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ جس طرح اہل بیت کے حقوق کو نظر انداز کرنا غلط ہے، اسی طرح ان کے بارے میں حد سے تجاوز کرنا بھی درست نہیں۔ اسلام نے ہمیشہ میانہ روی اور توازن کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اس سلسلے میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ وہ اہل بیت سے بے حد محبت کرتے تھے، ان کا احترام کرتے تھے، ان کے فضائل کا اعتراف کرتے تھے اور انہیں رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی نسبت کی وجہ سے خصوصی عزت دیتے تھے۔ لیکن ان کی محبت ہمیشہ کتاب و سنت کے دائرے میں رہی۔ یہی طرز عمل امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اہل بیت کی زندگیاں ہمیں عقیدہ توحید، صبر، استقامت، تقویٰ، علم، عبادت، شجاعت، سخاوت اور حق گوئی کا درس دیتی ہیں۔ ان کی سیرت کا مطالعہ انسان کے کردار کو سنوارتا اور اس کے ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔ اگر ہم واقعی اہل بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے اخلاق، کردار اور دینی غیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔
بدقسمتی سے بعض اوقات اہل بیت کی محبت کے نام پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، حالانکہ یہ محبت اہل بیت امت کو جوڑنے کا ذریعہ ہونی چاہیے۔ اہل بیت سب مسلمانوں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان کی محبت کسی خاص طبقے یا گروہ کی میراث نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا اعزاز ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے ذکر کو اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔
اہل بیت کی سیرت ہمارے لیے امید اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ ان کی تعلیمات ہمیں دین پر ثابت قدم رہنے، اخلاق حسنہ اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا درس دیتی ہیں۔
حقیقی محبت وہی ہے جو محبوب کی تعلیمات کی پیروی پر آمادہ کرے۔ اگر اہل بیت سے ہماری محبت ہمیں نماز، تقویٰ، سچائی، عدل، صبر اور نیکی کی طرف لے جا رہی ہے تو یہ محبت اپنے صحیح راستے پر ہے۔ لیکن اگر محبت صرف دعووں اور نعروں تک محدود ہو جائے تو وہ اپنے مطلوبہ مقصد کو حاصل نہیں کر پاتی۔
لہٰذا ہر مسلمان کے دل میں اہل بیت رسول کے لیے احترام، عقیدت اور محبت ہونی چاہیے۔ یہ محبت قرآن و سنت کی روشنی میں ہو، اعتدال اور توازن کے ساتھ ہو اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے جذبے سے بھرپور ہو۔ یہی محبت ایمان کو مضبوط کرتی اور امت کو جوڑتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت رضی اللہ عنھم سے سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی پاکیزہ سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے والا بنائے۔ آمین۔
عقیدت اہل بیت رضی اللہ عنھم
