زمانے کے چلن نرالے ہیں،کہیں ریت ورواج انسان کی زندگی کھاجاتے ہیں،کہیں قانون وآئین بھی مصلحت کی نظر ہوجاتے ہیں،آزادکشمیرکاخطہ جوکہ آزادی کا بیس کیمپ ہے،کہ کشمیری قوم اپنے کشمیر کی ایکتا کے لیے تقریباًاَسّی سالوں سے مقبوضہ کشمیرکی آزادی کی جدوجہدمیں کسی ناکسی طرح سے مصروف ہے۔عالمی منظرنامے میں گوکہ ریاست جموں وکشمیر پاکستان وہندوستان کے درمیان ایک تنازع ہے،اوراقوامِ متحدہ میں یہ مسئلہ اسی سالوں سے پڑاہے،آج دن تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،لیکن پاکستان وہندوستان اس کی وجہ سے ہروقت حالتِ جنگ میں ہیں،مقبوضہ کشمیرکوہندوستان نے دوہزار انیس میں اپنا صوبہ بنالیا جوکہ غیرقانونی اوراقوامِ متحدہ میں پڑی قراردادکے بھی خلاف ہے،لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مقولہ کے تحت امریکی آشئیر بادکے ساتھ ہندوستان نے عوام پر جبرکرکے ان پراپنا فیصلہ تھونپ دیا،پاکستان کی طرف سے بھی احتجاج توکیا گیا لیکن اقوام متحدہ کادروازہ نہ کھٹکھٹایا گیا۔البتہ امریکی صدرنے وزیرِ اعظم پاکستان سے کہا تھاکہ میں مسئلہ کشمیرحل کرادوں گا،اورہمارے وہ وزیراعظم کرکٹ کے ورلڈکپ اونرتھے،لہذاانہوں نے بھی قوم کا مژدہ سنایا کہ میں نے اب پھر ورلڈ کپ جیت لیا ہے،اس کے بعدآزادکشمیرمیں الیکشن ہوے،تواس پارٹی نے واقعیآزاد کشمیرکی حکومت جیت لی،اور پھرچار وزرائے اعظم آزادکشمیر ایک پانچ سالہ دورپوراکرسکے،اوراسی دوران آزادکشمیر میں عوامی حقوق کے نام پرایک نیامعاملہ چل نکلاجوسیاست کے بجائے طاقت سے بات منوانے کی راہ پرچل نکلے ،اور آزاد کشمیر میں انارکی کاعالم بن گیا،تین مہینوں سے کشمیری عوام جوپہلے ہی کچھ اچھے حالات میں نہیں تھے،وہ انٹرنیٹ کی بندش سے مفلوج زندگی گزارنے پرمجبورہیں،کہ انٹرنیٹ کی بندش سے بینک اوراس طرح کے دوسرے کاروباری ادارے بھی بندپڑے رہے،اسی دوران الیکشن کا انعقاد ہوا،عوام نے کم وبیش انتخابات میں بھرپورحصہ لیا،ٹرن آوٹ بھی اچھاخاصہ رہا،لیکن دواضلاع میں ابھی سات نشستوں پرالیکشن ہونے باقی ہیں۔مسلم لیگ ن نے الیکشن میں پچیس سیٹیں جیت کرپہلے نمبرپراوردوسرے نمبرپرپیپلزپارٹی نے بارہ سیٹیں جیتیں جبکہ ایک نئی پارٹی کے ممبرنے سیٹ جیتی اورپاکستان ن لیگ کااتحادی بنا،،یعنی پاکستان میں جن پارٹیوں کی حکومت تھی انہوں نے ہی آزادکشمیرمیں بھی میدان مارا۔ اب حکومت سازی سے پہلے پاکستان کی مسلم لیگ ن کی منجھی ہوئی قیادت جوبقول”سیانیاں ہرٹھنڈے تتے“ سے گزری ہوئی ہے،اس نے کئی روزمغزماری کی،ایک باربھی اعلان ہوا،کہ دستورکے مطابق صدرِ جماعت ہی قائدِ ایوان ہوں گے،بلکہ سولہ اگست کوبتایا گیا کہ میاں نواز شریف صاحب نے شاہ غلام قادر صاحب کووزیرِ اعظم نامزدکردیا ہے،پھر چنداور لوگوں کے نام ذرائع کے مطابق چلنے لگے،پھرجس دن اسپیکرکاانتخاب ہوا اس دن بھی کہا گیا کہ اسپیکرچوہدری طارق فاروق صاحب اوروزیرِ اعظم جناب شاہ غلام قادر ہوں گے،اورجناب طارق فاروق ا سپیکرتومنتخب ہوگئے،لیکن جب وزیرِ اعظم کی باری آئی توقرعہ جناب افتخارگیلانی صاحب کے نام نکلا،اس کوکہتے ہیں کہ ہماجس کے سرپربیٹھے۔آزادکشمیرمیں ایک سناٹاچھا گیاکہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی نے صدرِ جماعت کے علاوہ وزیرِ اعظم بنایا،یایہ رویہ تحریکِ انصاف کا تھا،لیکن اب مسلم لیگ ن بھی اسی راہ پرچل نکلی ہے۔حالانکہ میاں نواز شریف صاحب اپنی بات کے پکے اوردستورکی پاس داری کرنے میں مشہورہیں،ادھر شاہ غلام قادر صاحب بھی آزادکشمیرکے پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنے حق کے لیے قیادت کے سامنے احتجاج کیا اور اسمبلی اجلاس میں نہ جاکرووٹ کاسٹ نہ کیا، اس کے باوجود شاہ صاحب اپنی پارٹی کے ساتھ مخلص ہیں کہ کسی اور ممبرکواپنے ساتھ ووٹ نہ دینے کے لیے نہیں کہا۔پاکستان کی دوراندیش سیاسی قیادت نے شاید کچھ بہتر جان کرہی ایسا کیا ہوگا، جو وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آجائے گا،لیکن میراتجزیہ یہ ہے کہ دھرنے میں بیٹھے لوگوں میں سے کچھ عناصر جوعوام کوپاکستان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپراپنی مرضی مسلط کرتے ہیں،ان کے بیانیہ کوتقویت ملے گی،دوسرے نمبرپر ابھی جن نشستوں پرالیکشن ہونا باقی ہیں،کیا ان پراثرنہیں پڑے گا،ہوسکتا ہے کہ اب وہ نشستیں مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل جائیں اوراس طرح اپوزیشن اس مضبوط پوزیشن میں ہوگی کہ آزادکشمیرکی حکومت کووہ کچھ کرنے میں مشکلات پیداکرے گی،لہذاایسے حالات میں آزاد کشمیرمیں استحکام آنا مشکل ہوگا۔اللہ کرے موجودہ حکومت پرجس طرح مرکزی حکومت نے اعتمادکیا ہے،اورجوان کوٹارگٹ دیا ہے وہ اس کوپوراکرنے میں کامیاب رہیں،ہماری دعائیں قوم وملک کے ہربھلے کے لیے ان کے ساتھ ہیں۔ ہم بقولِ حافظ شیرازی”رموز مصلحتِ ملک خسرواں دانند۔گدای گوشہ نشینی توحافظامخروش“اللہ تعالیٰ پاکستان وآزادکشمیرکواپنے حفظ آمان میں رکھے آمین۔وماعلی الاالبلاغ۔
رموزِ مملکت خویش خسرواں دانند
