عظمت خلیفہ ثالث رضی اللہ عنہ

تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
تاریخ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ پوری امت کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کردار، تقوی، حیا، سخاوت اور بے مثال خدمات کے ذریعے اسلامی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا جو قیامت تک روشن رہے گا۔ آپ رسول صلى الله عليه واله وسلم کے جلیل القدر صحابی، داماد، کاتب وحی، عشرہ مبشرہ کے رکن اور اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے۔ امت مسلمہ آپ کو محبت و عقیدت سے “ذوالنورین” کے لقب سے یاد کرتی ہے، کیونکہ آپ کو رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کا منفرد شرف حاصل ہوا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں دعوت حق کو قبول کیا۔ آپ نہ صرف مالدار تاجر تھے بلکہ اعلی اخلاق، نرم مزاجی اور پاکیزہ کردار کے مالک بھی تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے ہر مرحلے پر دین کی نصرت اور مسلمانوں کی مدد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ مکہ مکرمہ میں کفار کے مظالم ہوں یا مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی تعمیر، حضرت عثمان ہر جگہ صف اول میں دکھائی دیتے ہیں۔
نبی صلى الله عليه واله وسلم آپ سے بہت محبت تھی۔ آپ کی حیا اور پاکیزگی اس قدر نمایاں تھی کہ نبی کریم صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔یہ اعزاز کسی عام شخصیت کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت حضرت عثمان کی زندگی اس بات کا عملی نمونہ تھی کہ حیا ایمان کا زیور ہے اور یہی صفت انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں بہت صحیح احادیث موجود ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے ان کی حیا، سخاوت اور بلند مقام کی تعریف فرمائی۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے جبل احد پر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھڑے ہو کر فرمایا: احد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔اسی طرح رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے ان پر آنے والی آزمائش کی خبر دی۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بے مثال مالی قربانی دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا: آج کے بعد عثمان جو عمل کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہ تمام احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں نہایت محبوب اور بلند مرتبہ صحابی تھے۔
اگر سخاوت کی بات کی جائے تو حضرت عثمان کا نام سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ جب بھی اسلام کو مالی قربانی کی ضرورت پیش آئی، آپ نے دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ کی عظیم مالی معاونت نے اسلامی لشکر کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مدینہ منورہ کے مشہور کنویں بئر رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرنا بھی آپ ہی کا کارنامہ تھا۔ یہ صرف مالی تعاون نہیں تھا بلکہ انسانیت کی خدمت اور امت کی خیر خواہی کا ایک عظیم نمونہ تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب خلافت کی ذمہ داری حضرت عثمان کے سپرد ہوئی تو اسلامی ریاست ترقی اور استحکام کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی سرحدیں مزید وسیع ہوئیں، بحری قوت کو منظم کیا گیا اور مختلف علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچا۔ لیکن آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی حفاظت اور اس کی اشاعت ہے۔ جب مختلف علاقوں میں قراءت کے اختلافات سامنے آئے تو آپ نے صحابہ کرام کی مشاورت سے قرآن کریم کے مستند نسخے تیار کروا کر اسلامی مراکز میں روانہ کیے۔ آج دنیا بھر کے مسلمان جس قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، اس کی وحدت اور حفاظت میں یہ خدمت ناقابل فراموش ہے۔
آپ کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو حلم و بردباری تھا۔ اقتدار کے باوجود آپ کے اندر تکبر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ آپ مخالفین کے لیے بھی خیر خواہی کا جذبہ رکھتے تھے۔ خلافت کے آخری دور میں جب فتنہ پرداز عناصر نے شورش برپا کی اور آپ کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع کیا تو آپ نے طاقت کے استعمال کے بجائے صبر اور تحمل کا راستہ اختیار کیا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ اگر صحابہ کرام کو لڑنے کی اجازت دے دی جائے تو فتنہ دبایا جا سکتا ہے، لیکن آپ نے مسلمانوں کے خون کو اپنی جان سے زیادہ قیمتی سمجھا۔
بالآخر وہ المناک وقت آ پہنچا جب باغیوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ آپ روزے کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے کہ ظالموں نے آپ کو شہید کر دیا۔ یوں خلیفہ ثالث نے اپنی جان تو قربان کر دی مگر امت مسلمہ کو خانہ جنگی کی ایک بڑی آگ سے بچانے کی کوشش کی۔ آپ کی شہادت صبر، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کی ایک بے مثال مثال ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عظمت اقتدار، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم کی محبت اور مخلوق خدا کی خدمت میں ہے۔ حیا، سخاوت، اخلاص، صبر اور قرآن سے وابستگی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تاریخ انسانیت کی عظیم ترین شخصیات میں شامل کر دیا۔ آج جب امت مسلمہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت ہمارے لیے اتحاد، اعتدال، قربانی اور خیر خواہی کا ایک روشن پیغام رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ ثالث کی عظمت صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ایک زندہ درس ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *