اردو کے تحفظ، فروغ اور نئی نسل تک منتقلی کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے، قومی زبان کو نظرانداز کرکے قومیں اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتیں_ حامد انوار
لاہور: (پریس ریلیز )مرکز قومی زبان پاکستان کے نائب صدر محمد شاہ شاہد کی رہائش گاہ پر کراچی سے محترمہ گلناز اختر کی قیادت میں آنے والے مرکز قومی زبان کے سرکردہ وفد کے اعزاز میں ایک
؛؛؛؛ خصوصی نشست منعقد کی گئی۔ نشست کی صدارت نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ذکراللہ مجاہد نے کی۔ تقریب میں اہلِ قلم، شعراء، ادیبوں اور مرکز قومی زبان کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذکراللہ مجاہد نے کہا کہ قومی زبان کسی قوم کے الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی تاریخ، تہذیب، فکری آزادی اور اجتماعی شناخت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اردو ہماری قومی وحدت کی علامت ہے، اسے محض ایک زبان سمجھ کر نظرانداز کرنا دراصل اپنی تہذیبی شناخت سے دوری اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہمیں حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ معاشرے، تعلیمی اداروں، اہلِ قلم اور خصوصاً نئی نسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اردو کو گھروں، تعلیمی اداروں، دفتری معاملات اور جدید ذرائع ابلاغ میں باوقار مقام دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدر مرکز قومی زبان پاکستان حامد انوار نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبانیں صرف بولی نہیں جاتیں، نسلوں کو منتقل کی جاتی ہیں؛ اگر ہم نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں اپنی تاریخ اور تہذیبی ورثے سے بتدریج دور ہوتی چلی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے اہلِ علم و ادب کو مل کر عملی جدوجہد کرنا ہوگی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی نسل کے لیے مزید قابلِ قبول اور مؤثر بنانا ہوگا۔
نشست کا آغاز حافظ اسامہ سعود کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جبکہ محترم امیر احمد خان نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
تقریب میں بزرگ شاعر محمد شبیر احمد شائق سمیت دیگر شعرائے کرام نے اپنا تازہ کلام پیش کرکے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ یاسین رضا اور دیگر شعراء نے بھی اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔
یہ خصوصی نشست کراچی سے آنے والی خواتین ادیب و شعراء کے اعزاز میں منعقد رکھی گئی تھی، تاہم محترمہ گلناز کے شوہر محترم کی اچانک طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں ہنگامی طور پر کراچی واپس جانا پڑا ، جس کی وجہ سے وہ تقریب میں شرکت نہ کرسکیں۔
تقریب میں ڈاکٹر محمد انور گوندل نائب صدر ، معروف کالم نگار اور مصنف جناب ظفر اقبال ظفر (مہمانِ اعزاز)، عالیہ عثمانی، عائشہ سردار، شہناز عاصمہ، مفتی عبدالرحیم، سعود احمد، عالیہ مسعود، غفار احمد، معروف صحافی اشفاق انجم اور دیگر معززین و اہلِ قلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکاء نے نشست میں اپنا اپنا تعارف پیش کیا اور تقریب ہڈا کے متعلق ، مرکز قومی زبان کے کام میں پیش رفت اور بہتری کے لیے اپنی اپنی قیمتی آرا سے نوازا ۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اردو کے تحفظ، فروغ اور قومی زندگی میں اس کے باوقار مقام کی بحالی کے لیے اہلِ قلم اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔





