افسانہ: تعفن

رانا اسد علی _اوچ شریف

پروفیسر وقار کو پسینے کی بو سے سخت چڑ تھی۔ وہ دن میں دو بار غسل کرتا، قیمتی صابن سے اپنا گداز جسم رگڑتا اور کپڑوں پر فرانسیسی عطر چھڑکتا تھا۔ اس کی استری شدہ قمیص کی کریزوں اور بھاری بھرکم آواز میں ایک ایسا وقار تھا جو یونیورسٹی کی راہداریوں میں چلتے ہوئے طلبہ کے دلوں پر ہیبت طاری کر دیتا تھا۔ لیکن شعبۂ ادب کے اس عالیشان کیبن کی بند کھڑکیوں کے پیچھے ایک اور ہی بو بسی رہتی تھی—ایک عجیب، متلی پیدا کر دینے والی بو، جو نہ پسینے کی تھی، نہ عطر کی، بلکہ بے بسی اور خوف کی بو تھی۔
یہ بو ان جوان، کانپتے ہوئے جسموں سے اٹھتی تھی جو سیشنل مارکس اور ڈگری چھن جانے کے خوف سے اس چمڑے کی کرسی کے آگے ڈھیر ہو جاتے تھے۔ پروفیسر وقار کے ہاتھ میں سرخ روشنائی والا قلم کسی قصائی کے ٹوکے کی طرح چلتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ متوسط طبقے کی لڑکیوں کے لیے فیل ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہ سہمے ہوئے، پسینے میں شرابور، سستے ٹیلکم پاؤڈر میں بسے وجود جب اس کے چوڑے اور خوشبودار سینے کے نیچے دبتے، تو وقار کو ان کی بے بسی میں ایک وحشیانہ لذت محسوس ہوتی۔
موسمِ گرما کی ایک دوپہر، جب اے سی کی ٹھنڈک بھی کیبن کی حبس کو کم نہیں کر پا رہی تھی، نمل وہاں موجود تھی۔ اس کے گھسے ہوئے جوتے اور دھلی ہوئی سوتی قمیص اس کی سفید پوشی کا ماتم کر رہے تھے۔ اس دن نمل روئی نہیں تھی، بس اس کے ماتھے پر سرد پسینے کے قطرے ابھر آئے تھے اور اس کے جسم سے ایک عجیب سی سرد، برف جیسی بو اٹھ رہی تھی—موت جیسی بو، جو عزت کے مرنے پر پیدا ہوتی ہے۔ پروفیسر وقار نے اس بو کو اپنے نتھنوں میں بھرا، سرخ قلم سے پورے نمبر لگائے اور اسے کیبن سے نکال دیا۔
وقت گزرتا رہا۔ وقار کا بیٹا عثمان، جو یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھتا تھا اور شعبۂ ادب کی اس سیاہی سے بالکل بے خبر تھا، جوان ہوا۔ وہ نمل کو یونیورسٹی کی لائبریری اور سوسائٹی کے ایونٹس کی وجہ سے جانتا تھا۔ ان کی آپس میں اچھی دوستی تھی اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔
ایک رات عثمان نے اپنے باپ کے سامنے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔
“بابا، میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں، ہم دونوں یونیورسٹی کی سوسائٹیز میں ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ بہت سلجھی ہوئی اور باحیا لڑکی ہے۔ اگر آپ کہیں تو اس کے گھر چلیں؟”
پروفیسر وقار نے اپنے شاندار اور معزز لبوں پر مسکراہٹ سجائی اور خوش دلی سے حامی بھر لی۔
لڑکی کا گھر ایک تنگ گلی میں تھا۔ ڈرائنگ روم میں سستی سی فینائل اور پرانے صوفوں کی دھول ملی بو تھی۔ وقار اپنی استری شدہ پتلون کی کریز بچاتے ہوئے بیٹھا ہی تھا کہ اندرونی دروازے کا پردہ ہٹا۔ چھن چھن کرتی چوڑیوں کے ساتھ ایک لڑکی چائے کی ٹرے تھامے داخل ہوئی۔
پروفیسر وقار کی نظریں اٹھیں۔ سامنے نمل کھڑی تھی!
اس لمحے وقار کے وجود میں ایک عجیب سی بے چینی اور کٹھن خلش پیدا ہو گئی، جیسے روح کے اندر کچھ چبھنے لگا ہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ وہیں اپنی کرسی پر جم کر بیٹھا رہا۔ اس کے چہرے کی اندرونی بے چینی، ماتھے پر ابھرتا ہوا ہلکا سا پسینہ اور ہاتھوں کی لرزش—اس کا بیٹا عثمان خاموشی سے نوٹ کر رہا تھا۔
دوسری طرف لڑکی کے گھر والے بے حد خوش اخلاقی اور خلوص سے پیش آ رہے تھے۔ انہوں نے بڑی عزت و تکریم سے چائے پانی پیش کیا، باتیں کیں اور رشتہ پکا ہونے کی خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔
جب دونوں باپ بیٹا گھر واپس لوٹے، تو گاڑی سے اترتے ہی عثمان نے مسکراتے ہوئے اپنے باپ سے پوچھا:
“بابا! آپ کو ان کا گھر اور گھر والے کیسے لگے؟ کتنے اچھے، سمجھدار اور پیارے لوگ تھے نا؟ اور نمل بھی ماشاءاللہ کتنی سلیقہ مند اور پیاری ہے! یقیناً آپ کو بھی بہت پسند آئی ہوگی؟”
پروفیسر وقار نے قدم روک لیے۔ اس نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا، ایک گہری سانس لی اور نہایت سرد و سنجیدہ لہجے میں بولا:
“جی بیٹا! بالکل ٹھیک ہے… وہ لوگ بہت اچھے ہیں، سمجھدار بھی ہیں، سلجھے ہوئے اور پڑھے لکھے بھی ہیں۔ اور لڑکی بھی بہت پیاری ہے… لیکن یہ رشتہ نہیں ہو سکتا!”
عثمان کا ہنستا ہوا چہرہ یکلخت سکتہ میں آ گیا۔
“یہ… یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بابا؟” عثمان حیرت اور صدمے سے تڑپ اٹھا۔ “آخر کیوں نہیں ہو سکتا یہ رشتہ؟ وجہ کیا ہے؟ ابھی کچھ دیر پہلے آپ وہاں بیٹھ کر ہر بات پر ہاں ملا رہے تھے، اب اچانک ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ مجھے اس کی وجہ چاہیے!”
پروفیسر وقار کے پاس اس ’چاہیے‘ کا کوئی منطقی جواب نہیں تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے سوالوں کے سامنے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ اس کے اندر کا خوف، پرانا گناہ اور بو کا تعفن سب ایک ساتھ اس کا دم گھوٹنے لگے تھے۔ جب عثمان کی اصرار کرتی نظریں اس کے چہرے پر گڑ گئیں اور اسے اپنے گناہ کو چھپانے کا کوئی راستہ نہ سوجھا… تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا:
“اس کے بھی نمبر میں نے لگائے تھے!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *