کیا انسانی شکل میں کبھی خدا آپ کے پاس آیا ہے؟

تحریر: ظفر اقبال ظفر
روشن باطن کاانسان سچا،شریف،مخلص ہوتا ہے جو اپنی تکلیفوں اور دُکھوں کی شکایت کرکے دوسروں کو رنجیدہ نہیں کرتااور نہ ہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔خود غرض نفس کے امراض میں مبتلاانسان کے علاج کا علم جاننے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ انسان جلد ہی صحت یاب ہو سکتا ہے اگر وہ روز یہ سوچے کہ دوسروں کو خوشی کیسے پہنچائی جا سکتی ہے۔اکثر لوگ سوچتے ہیں جب مجھے کوئی خوشی نہیں دیتا تو میں کیوں کسی کو خوشی دینے کی کوشش کروں؟اس کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنی قلبی صحت کا خیال صرف ایسے ہی رکھ سکتے ہیں کہ آپ دوسروں کی خوشی چاہیں یہ چاہنا خود اپنے آپ میں شفا بخش دواہے جو نفس کی تکلیفوں میں سکون بخشتا ہے کسی میں سماجی خدمت کا شعور اُجاگرکرنا آپس میں نیکی کی لذت بانٹنا ہے معاشرے میں انسانی حسن سلوک کی خوشگوار فضا پھیلائی جائے تو آپ کا اپنا وجود بھی تسکین بخش احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔مذہبی فریضہ بھی یہی عائد ہو تا ہے کہ انسانیت سے محبت و خیال کا بھرتاؤ رکھا جائے دوسروں کی آسانی کے کاموں میں دلچسپی نہ رکھنے والے خود عظیم ترین مشکلوں میں مبتلا رہتے ہیں ایسے انسانوں میں ہی ناکامیوں کے سوتے پھوٹتے ہیں ہمارے اندر کا اچھا انسان دوسروں سے یہی مطالبہ و گمان رکھتا ہے کہ وہ اچھے شریک کار ہو ں حسن سلوک اور محبت میں سچے رفیق ہوں۔ہمارے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نیک کام وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ پیدا کر دے۔
میرے ساتھ بھاری رقم پر مبنی سائبر کرائم ہو گیا انصاف کی فراہمی ومجرموں کی گرفتاری کے لیے سرکاری ادارے میں گیا مگر وہاں سرکاری ملازمین عام شہری کو مفت انصاف دینا خسارے کی نوکری سمجھتے ہیں لہذا ناکامی و مایوسی پر مبنی نتیجہ مدعی کو تکلیف ملزم کو ریلیف نکلا۔
خدائی امتحان پر مبنی مشکل کی گھڑی سے گزرے تلخ اوقات کی کارگزاری میں مشکل کا دوسرا چہرہ دیکھانا چا ہوں گاہر انسانی وجود پر مشکلات ضرورآتی ہیں اور انسان مشکل وقت کو آسان بنانے والے رشتے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے میرے پاس بھی چند احباب تھے جنہیں میں نے ہیرے موتی جواہرات سمجھ کر اپنے دامن حیات میں سنبھال رکھا تھا مگر جب ضرورت پڑی اور مشکل زدہ آنکھوں سے دامن حیات میں رکھے ہیرے موتی جواہرات جیسے لوگوں کی طرف دیکھا تو وہ کنکر پتھر روڑے نکلے۔
واردات کے درد میں جب یہ زخم ملا تو رُوح کی چیخوں نے نیند میں سوراخ کر دئیے کئی راتیں سو نہ سکااور خدا کے قریب آنے والے وقت تہجد میں خدا سے کہا کہ اے رب جو بندہ ساری زندگی تیری دی ہوئی خودادری میں تیرے سوا کسی سے حاجت پوری کروانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ اب کسی انسان کے در پہ سوال کرئے گا تو مر جائے گا۔کیا تجھے نا گوارا نہیں گزرے گا کہ تیرے در کا سوالی دنیاداروں کے سامنے سوال کرئے؟ یہ ازیت کم تو نہیں کوئی سفید پوش خوددارانسان کسی کم ظرف کا محتاج ہو جائے؟پھر مال کی محبت میں گرفتار انسان تو انکار ہی کرتا ہے اوراس انکار کی شرمندگی بھی ساری زندگی جھیلنا پڑتی ہے۔اے خدا مجھے اپنے تک رہنے والی آزمائش کے ذریعے بھلے آزما لے مگر انسانوں کے زریعے مت آزما۔۔اب خدا نے ایک لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے والے عبادت گزار شخص کے پاس بھیجا اسے جاکر مشکل بیان کی تو اس نے مدد کرنے کی بجائے دورکعت نماز برائے حاجت کا مشورہ دے کر اُسی خدا کے پاس بھیج دیا جس نے مجھے اس کے پاس بھیجا تھا۔میں سوچنے لگا کہ یہ دنیا کا مال خداکے نام پر خدا کے بندوں میں تقسیم نہ کرنے والوں سے خدا اپنی جنت کیسے تقسیم کرواسکتا ہے؟میں نے پھر خداسے کہا کہ مجھ سے وہ سوال کسی انسان سے نہیں ہوپائے جو میں صرف اے خداتجھ سے کرتا ہوں۔پھر خدا نے مجھ پہ ترس کھاتے ہوئے میری آدھائی مشکل ایک احساس زدہ دل کے زریعے پوری کی اور آدھائی اُسے صبر دے کر جس کا مجھ سے نقصان ہوا تھا۔نقصان ذدہ حادثے سب کے ساتھ ہوتے ہیں سب نوعیت مختلف ہوتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ ہم خدا کو کہاں تلاش کریں تو آپ ؑ نے اک لمحہ سوچے بغیر کہا کہ اُس کے بندوں میں۔مولانا جلال الدین رومیؒ مثنوی روم میں لکھتے ہیں کہ ایک صاحب حیثیت شخص نے خدا سے سوال کیا کہ اے رب میں تجھ سے ملنا چاہتا ہوں بات کرنا چاہتا ہوں تو خدا نے جواب دیا یاد کر سردیوں کی وہ رات جب ایک مصبت زدہ پریشان حال انسان سردی میں ٹھرٹھراتا تیرے دروازے پر آیا تھا اور تو اپنے نرم و گرم بستر سے اُٹھ کر اُس تک جا نہ سکا وہ تو میں تھا۔
یہ جو مشکل و مصیبت ذدہ سوالی کی مدد کرنے کی بجائے مال بچاؤ عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں ناں دراصل یہ پا س آنے والے خدا کو دُورکر دینے کی بدقسمتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔خداپریشان حال کے زریعے خوش حال کو آزماتا ہے۔جب آپ دوسروں کو خوشی دینے کی نیکی میں محنت کرتے ہیں تو اپنے متعلق بھول جاتے ہیں پریشانی خوف ناکامی کی بڑی وجہ اپنے متعلق سوچتے رہنا ہے ایسی ازیت میں مبتلا مریض نے یتیم کو خوش کرنے کی کوشش کی اور اپنی گم شدہ خوشی پالی جیسے بندہ خدا سے اپنی خوشی کے لیے جائے اور پیغمبرانہ زمہ داری میں دوسروں کی خوشی پر ڈیوٹی لے کر لوٹ آئے اور پھر تاحیات خدا کے دھیان میں رہے یہ احساس مل جائے تو بندہ اپنا آپ قربان کردینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔دوسروں کے لیے مدد، عزت، اہمیت،محبت،ایسا طاقتور جذبہ ہے جو اپنی پریشانی غم اُداسی او ر پژمردگی ہی غالب آ جاتا ہے اور اپنے آپ کو ایک نئے انسان کے ا حساس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ آفاقی جذبہ لاشعوری طور پر قوت خودارادی فنا کر لینے والے انسان کو خود غرضی کے خول سے نکال کر حقیقی خوشی سے لطف اندوز کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *