تین طاقتیں، ایک عزم زندہ باد

تحریر: حافظ امیرحمزہ حیدری
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان گزشتہ روز ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک انتہاٸی اہم فیصلہ ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے مختلف خطے مسلسل بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی پیغام واضح ہے۔ امن کی خواہش اپنی جگہ لیکن اپنی سلامتی کے لیے مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔
اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ گویا کہ کسی ایک ملک کی سرحد، خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کرنا صرف ایک ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہوگا بلکہ ایک مشترکہ دفاعی عزم کو آزمانا ہوگا۔
اس موقع پر پاکستان کی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس نے اپنی تاریخ میں کئی جنگی اور دفاعی چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ اس کی مسلح افواج نے نہ صرف روایتی جنگوں میں اپنی صلاحیت ثابت کی بلکہ دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ میں بھی غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کی دفاعی طاقت کا ایک بڑا پہلو اس کا جوہری دفاعی پروگرام، میزائل صلاحیت، فضائی قوت، بحری استعداد اور جنگی تجربہ ہے۔ اس لیے پاکستان اس دفاعی شراکت داری میں صرف ایک فریق نہیں بلکہ ایک تجربہ کار عسکری طاقت کے طور پر شامل ہے۔
ترکیہ بھی جدید دفاعی دنیا میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ اس نے گزشتہ برسوں میں دفاعی صنعت میں بہت ترقی کی ہے اور ڈرونز، جنگی ٹیکنالوجی، بحری نظام، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر دفاعی شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھائی ہے۔ ترکیہ کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار نہیں بلکہ دفاعی خود انحصاری کی وہ سوچ ہے جس کے تحت ایک ملک اپنی ضروریات کے لیے دوسروں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی ٹیکنالوجی اور صنعت کو مضبوط بناتا ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب خطے کا ایک اہم معاشی طاقت ور ملک ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت، معاشی وسائل، جدید دفاعی نظام اور خطے میں سیاسی اثر و رسوخ اسے اس شراکت داری کا اہم ستون بناتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو تینوں ممالک کی طاقت کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہے۔ پاکستان تجربہ اور عسکری قوت رکھتا ہے، ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب معاشی طاقت کا اہم مرکز ہے۔
یہی امتزاج اس معاہدے کو اہم بناتا ہے۔
تاہم اس اتحاد کو صرف ہتھیاروں یا فوجی تعداد کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ حقیقی دفاعی طاقت صرف ٹینک، میزائل، جنگی طیارے یا فوجی دستے نہیں ہوتے۔ حقیقی طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قوم کے پاس مضبوط ارادہ، سیاسی استحکام، جدید ٹیکنالوجی، معاشی قوت، تربیت یافتہ افواج اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم موجود ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ کمزور دفاع ہمیشہ دوسروں کو مداخلت کا موقع دیتا ہے، جبکہ مضبوط دفاع جنگ کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایک طاقتور فوج کا سب سے بڑا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ دشمن کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ جارحیت کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔ یہی دفاعی بازداریت کا بنیادی فلسفہ ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے موجودہ معاہدے کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ جنگ کا اعلان نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کا عزم ہے۔ تینوں ممالک نے اسے دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیا ہے۔ جس کا مقصد مشترکہ سلامتی اور علاقائی استحکام کو تقویت دینا ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات پہلے ہی کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا، جس میں ایک پر جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول شامل تھا۔
اب ترکیہ کی شمولیت نے اس دفاعی تعاون کو ایک وسیع تر جغرافیائی دائرہ دے دیا ہے۔
اس اتحاد کی اصل آزمائش بھی یہی ہوگی کہ اسے صرف ایک معاہدے تک محدود نہ رکھا جائے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سکیورٹی، دفاعی پیداوار اور تربیتی پروگرام اس شراکت داری کو حقیقی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ صرف کاغذ پر لکھی ہوئی ضمانتیں طاقت نہیں بنتیں بلکہ اصل طاقت اس وقت بنتی ہے جب ارادہ، صلاحیت اور عملی تیاری ایک ساتھ موجود ہوں۔
آج کی دنیا میں جنگ کا میدان بھی بدل چکا ہے۔ اب جنگ صرف سرحدوں پر فوجوں کے ٹکرانے کا نام نہیں۔ سائبر حملے، ڈرونز، مصنوعی ذہانت، میزائل ٹیکنالوجی، اطلاعاتی جنگ اور معاشی دباؤ بھی جدید تنازعات کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے لیے مستقبل کی دفاعی شراکت داری کا سب سے بڑا میدان جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی خود انحصاری ہونا چاہیے۔
تینوں ممالک اگر اپنی دفاعی، معاشی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مشترکہ مفاد کے تحت بروئے کار لائیں تو عالمی سیاست میں ان کی آواز زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے جذبات سے زیادہ حکمت، نعروں سے زیادہ تیاری اور دعووں سے زیادہ عملی صلاحیت درکار ہے۔
جرأت اور بہادری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت جنگ کی بات کرے۔ حقیقی بہادری یہ ہے کہ دشمن کو جنگ مسلط کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے۔ حقیقی طاقت یہ ہے کہ قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ یہ دفاعی معاہدہ
اگر اس عزم کو جدید ٹیکنالوجی، مضبوط معیشت، دفاعی خود انحصاری، بہترین تربیت اور باہمی اعتماد کا ساتھ مل جائے تو یہ شراکت داری محض ایک معاہدہ نہیں رہے گی بلکہ ایک مؤثر دفاعی قوت بن سکتی ہے۔
یہ مشترکہ عزم اسی پیغام کی ترجمانی کرتا ہے کہ امن ہماری ترجیح ہے مگر دفاع ہماری ذمہ داری ۔دوستی ہماری طاقت ہے، مگر خود اعتمادی ہماری پہچان۔ اور اگر کسی نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو جواب دینے کے لیے عزم بھی موجود ہے اور صلاحیت بھی۔ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *