(خصوصی رپورٹ)
(نظام الدین)
سرکاری فائلوں میں چھپی کرپشن اور ناپید ریکارڈ کے جال کو تار تار کرتے ہوئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کی کیس انٹیگریشن ٹیم نے اسسٹنٹ مختیار کار حامد کے خلاف انکوائری کو اس کے حتمی اور انجامِ کار مراحل تک پہنچا دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایسٹ کے اعلیٰ انتظامی حلقوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب تفتیشی ٹیم نے تمام تر دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کے ساتھ فائل چیف سیکریٹری سندھ اور محکمہ داخلہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی۔
چونکہ حامد محکمہ ریونیو سندھ سول سروسز کے ایک باقاعدہ افسر ہیں، اس لیے اینٹی کرپشن نے کسی بھی بیرونی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی فوری معطلی، باقاعدہ محکمانہ کارروائی اور فوجداری مقدمات کے اندراج کی حتمی منظوری مانگ لی ہے۔
تفتیش کے دوران اس وقت سنسنی خیز موڑ آیا جب انٹیگریشن ٹیم نے حامد کے دورِ چارج میں کی جانے والی ڈیجیٹل انٹریز کا نادرا کے مرکزی ریکارڈ سے موازنہ کیا۔ نتائج حیران کن تھے!
تحقیقات میں ثابت ہوا کہ حامد کے لاگ ان اور دستخطوں سے منظور ہونے والے متعدد اسلحہ لائسنسوں کا سرے سے کوئی مینوئل ریکارڈ ڈی سی آفس ایسٹ کے سرکشی خانے میں موجود ہی نہیں تھا۔ یعنی کاغذات غائب، مگر سسٹم میں لائسنس فعال! اس چونکا دینے والے انکشاف کے بعد اینٹی کرپشن نے نہ صرف فوجداری مقدمات درج کرنے کی سخت سفارش کی ہے، بلکہ ان کے دستخطوں سے جاری تمام مشکوک لائسنسوں کی فہرست نادرا کو بھیج کر انہیں فوری بلاک (منسوخ) کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔
کھیل یہی ختم نہیں ہوتا۔ انٹیگریشن سیل نے حامد اور ان کے گرد گھومنے والے ‘فرنٹ مین’ کچھ خاص کلرکوں کا کالا دھن تلاش کرنے کے لیے نظریں اب ان کے بینک اکاؤنٹس پر جما دی ہیں۔ رشوت اور غیر قانونی ذرائع سے بنائے گئے نامعلوم اثاثوں اور خفیہ کھاتوں کا سراغ لگانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو باقاعدہ خط لکھ دیا گیا ہے، جس کے بعد متعلقہ افراد کے گرد معاشی گھیرا بھی سخت ہو چکا ہے۔
معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی کرپشن کی لیگل برانچ نے اسپیشل کورٹ اینٹی کرپشن (کراچی ایسٹ) میں چالان جمع کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ تمام تر ٹھوس شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور گواہوں کی روشنی میں ملزم افسر کو اب عدالت کے کٹھہرے میں سخت ‘جوڈیشل ٹرائل’ کا سامنا کرنا ہوگا, جہاں ان کے تمام داؤ پیچ اور ‘انکاری’ کے دعوؤں کا حتمی عدالتی فیصلہ سامنے آئے گا۔
اینٹی کرپشن کا بڑا کریک ڈاؤن: اسسٹنٹ مختیار کار حامد کے گرد گھیرا تنگ، جعلی اسلحہ لائسنس اسکینڈل کا ڈراپ سین قریب
