دوائی اصلی ہے یا جعلی؟ شہریوں کے لیے تصدیق کا آسان طریقہ سامنے آگیا

کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ادویات کی نگرانی کے لیے ‘بار کوڈ اور کیو آر کوڈ سسٹم’ متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہر شہری میڈیکل اسٹور پر ادویات کی تصدیق کر سکے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر اور وائس چیئرمین اطہر نذیر شیخ نے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ملک میں جعلی ادویات کے خاتمے اور صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کا اعلان کیا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب دوائی اصلی ہے یا جعلی، اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے ملک بھر میں ادویات کی نگرانی کے لیے ‘بار کوڈ اور کیو آر کوڈ سسٹم’ متعارف کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے سسٹم کے تحت کیمرے سے لیس موبائل فون رکھنے والا ہر شہری میڈیکل سٹور پر ہی میڈیسن باکس پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرکے دوائی کی صداقت کی تصدیق کر سکے گا۔ اس انقلابی منصوبے کا شاندار آغاز اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی باقاعدہ اور نئی ویکسین پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

کراچی کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی 80 فیصد فارما انڈسٹری میں اکیلا کراچی لیڈ کرتا ہے اور جلد ہی ملک میں اہم B2B کانفرنسیں ہونے جا رہی ہیں۔

وزیر صحت نے ملکی حالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی گلیاں اور ماحول لوگوں کو بیمار کرنے کی فیکٹریاں ہیں اور بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ آلودہ پانی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں ہر سال 11 ہزار مائیں بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر جاتی ہیں جنہیں صحت کی بہتر سہولیات سے کنٹرول کرنا ہو گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک کی 30 فیصد آبادی مکمل طور پر غیر منصوبہ بند ہے، اس لیے بڑھتی ہوئی آبادی پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے این ایف سی فارمولے کو تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں صرف 17 فیصد جبکہ پاکستان میں 82 فیصد فنڈز آبادی کی شرح کی بنیاد پر ملتے ہیں جو کہ درست نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *