عوام کو عالمی منڈی میں گرتی قیمتوں کا ریلیف دینے کی بجائے پٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ

مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے، لائٹ ڈیزل آئل پر بھی لیوی کی شرح بغیر کسی تبدیلی کے 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی


اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2026ء) بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اور نمایاں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے پٹرولیم لیوی میں مزید اضافہ کردیا اور عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے فائدے کو ٹیکس بڑھا کر خود ایڈجسٹ کرلیا، جس کے باعث ملکی سطح پر قیمتیں کم نہیں ہو سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر عائد لیوی کی شرح بڑھا دی ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں 6 روپے 57 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 72 روپے 97 پیسے سے بڑھ کر 79 روپے 54 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی جب کہ پٹرول پر عائد لیوی میں 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول پر ٹیکس 66 روپے 25 پیسے سے بڑھا کر 66 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے، لائٹ ڈیزل آئل پر بھی لیوی کی شرح بغیر کسی تبدیلی کے 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی، جب کہ دوسری طرف 22 جون کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 98.35 ڈالر فی بیرل تھی، جو 4 روز کے اندر 6.67 ڈالر کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 26 جون کو 91.68 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 22 جون کو 109.09 ڈالر فی بیرل سے واضح طور پر کم ہو کر 26 جون کو 104.79 ڈالر فی بیرل پر آ گئی تھی، عوامی اور معاشی حلقوں نے کہا ہے کہ عالمی منڈی کے ان اعداد و شمار کی روشنی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو ملنا چاہیے تھا لیکن حکومت نے لیوی بڑھا کر یہ پورا ریلیف خود ہی ہضم کرلیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *