محمد اشرف آرائیں کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ سے
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جسے مزید کارروائی کے لیے سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔
ترمیمی بل کے مطابق ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع کے لیے لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو فائبر آپٹک کیبل بچھانے اور متعلقہ تنصیبات قائم کرنے کے لیے قانونی سہولت فراہم کی جائے گی۔
بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ نجی جائیداد کے مالکان، کرایہ داروں اور سرکاری و نجی اداروں کو ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت تعاون کرنا ہوگا اور بلاجواز رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بل کے مطابق اگر کوئی نجی مالک، کرایہ دار، عوامی یا نجی ادارہ قانونی تقاضوں کے باوجود فائبر آپٹک کیبل بچھانے یا ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور نصب کرنے میں رکاوٹ ڈالے تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس ترمیم کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں کسی بھی نجی جائیداد پر مالک کی رضامندی یا قانونی طریقہ کار کے بغیر قبضہ کر سکیں گی، بلکہ تمام اقدامات متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت کیے جائیں گے۔
