بغداد میں امریکی سفارت خانے پر میزائل حملہ، ایران کو تیل کے مرکز پر حملے کی دھمکی

بغداد میں امریکی سفارت خانے پر میزائل حملہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے پر کئی میزائل داغے گئے۔ حملے کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، تاہم نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اس حملے سے سفارت خانے کے فضائی دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اسی دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے جاری رہے تو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر کچھ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، لیکن تیل کی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی کشیدگی سے عالمی منڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ایران کی مسلح افواج نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے تیل یا توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ امریکی حملوں کے دوران خارگ جزیرے میں پندرہ سے زیادہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق فضائی دفاعی نظام، بحری اڈے اور ہوائی اڈے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں پانچ ڈرون مار گرائے ہیں۔

خطے میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل کی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خارگ جزیرے کی تیل تنصیبات متاثر ہوئیں تو عالمی سپلائی پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ تنازع تقریباً دو ہفتوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی طاقتیں اب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *