بندوں کوگناکرتے ہیں تولانہیں کرتے

پاکستان معرضِ وجودمیں آنے سے لے کرآج تک بکھیڑوں میں پھنساہواہے،اس قوم کے لوگوں کویہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ آزاد ہوے ہیں کہ غلام۔اسلام کے بجائے جمہوریت کواپنی آزادی کاسہراپہنانے والوں کو یہ نہیں سوجھتا کہ پاکستان جمہوریت کے نام پرنہیں بلکہ اسلام کے نام پربنایا گیا تھا،لیکن بنانے والے توگزرگئے،پیچھے جنہیں بنابنایا ملا ہے،ان کوکیا پتہ کہ یہ کس قیمت پرپایا تھا،لہذانہوں نے ایک پہاڑی مقولے کے مطابق کہ”ٹکے لگے شاہاں نے تے سکھاں نی سراں“یعنی مال بادشاہوں کالگااور”سکھاں“کہتی ہے کہ یہ سرائے میری ہے،خون اورعزتیں اورمال جن کے لگے انہوں نے اسلام کے نام پرلگائے اور ”سکھاں“جمہوریت کی ”سراں“بنائے بیٹھی ہے۔اسلام ایک مذہب ہی نہیں،ایک دین ہے،جس میں زندگی کے ہرمسئلے کاحل ہرچیزکاقانون من جانب اللہ دیاگیا ہے، جس میں کسی کمی کوتاہی کی گنجائش نہیں،اسلام نے حکومت کے لیے ایک کڑااحتساب یعنی تقویٰ کاہوناضروری قراردیا ہے۔خلفائے راشدین کے بعد حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے یزید میں تقویٰ ہی کی کمی کی وجہ سے بیعت سے انکارکیا تھا، ناکہ کسی ذاتی مفاد کے خاطر۔لیکن جمہوریت کے رنگ دیکھیں،مال ودولت،برادری،طاقت کے ذریعے بس ووٹ حاصل کرلے۔کسی اخلاق وکردار،کسی عقلی صلاحیت، کسی مذہبی روش کونہیں دیکھا جاتا،بلکہ اس کے ووٹوں کودیکھا جاتا ہے۔اسی لیے قریباًاَسی سال ہونے کوہیں،پاکستان میں کسی بھی قسم کا استحکام نہیں ہے،حکمران پتے پرپانی اورعوام ریت کے ڈھیر۔ ملک سرسے لے کرپاوں تک کرپشن میں لتھڑاہواہے،اورقرضوں میں اسطرح ڈوباہواہے کہ اسے اگرکوئی ڈھونڈناچاہے توغوطہ خورلگانے پڑیں تب جاکے اس کاکچھ پتاچلے،لیکن سکھاں اس سرائے میں آج بھی موجیں ماررہی ہے،کچھ فکرہے ناغم،ہربارالیکشن ہوتا ہے،عوام کی رائے لی جاتی ہے،اوروہی ایک وقت ہوتا ہے جب عوام کوبھی سکھاں کی سرائے میں کچھ لہریں مارنے کا موقعہ ملتا ہے لہذاعوام بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس سرائے میں سے کچھ ناکچھ ضرورتوڑپھوڑیاچوری چکاری کرلیتے ہیں،کرپشن زیادہ نہیں تواتنی ضرورکرتے ہیں کہ کم ازکم ووٹ پیسے لے کردیتے ہیں،یاپھرکچھ ناکچھ امیدوارکاخرچہ کرواتے ہیں،چاہے بنی ہوئی گلی پرتھوڑاسیمنٹ ڈلوالیں۔ الیکشن کے لیے نامزد شکاری بھی ان دنوں دانے اورجال دونوں ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں کہ پہلے دانہ ڈالوپھرجال،برادریوں والے شرافت سے قابونہ آنے والوں کوبرادری کے ذریعے رام کرتے ہیں،بعض علاقوں میں لوگوں کے راستے بندکردئیے جاتے ہیں،اوربعض لوگوں سے قطعِ تعلق کرلیاجاتا ہے،اکثرمخالفین کے شناختی کارڈکسی طرح سے ہتھیا لیے جاتے ہیں تاکہ وہ ووٹ کاسٹ نہ کرسکیں، الیکشن کی ناراضیاں پانچ سالوں بعدجب کم ہونے لگتی ہیں توپھرالیکشن آجاتے ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا،”دیوِ استبداد جمہوری قبامیں پائے کوب، توسمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری“۔ ان تمام انسانی حقوق اورمذہبی رواداریوں کے ساتھ کامیاب ہوکر امیدوار آئین وقانون کی پاسداری کا حلف دیتا ہے،اورپھروہ پانچ سال یاجہاں تک خداچاہے قوم کاامین بن جاتا ہے،اربوں روپے قومی ترقیاتی فنڈزکے اپنے صوابدیدی اختیار سے خرچ کرتا ہے،اور جتنا اپناخرچہ ہوچکا ہوتا ہے اس سے کم ازکم دس گناخودوصول کرتا ہے، پاکستان کے ایک شریف النفس اسمبلی ممبرجووزیرِ ریلوے تھے،جب ان سے ریلوے میں کرپشن کاسوال ہواتووہ بولے میں کروڑوں روپے خرچ کرکے بناہوں تومیں وہ پورے توکروں گا۔اسی لیے ناکام ہوجانے والے کامیاب ہونے والے کو حسرت سے دیکھتے ہیں،کہ ہم کیوں کامیاب نہ ہوے، اور آئیندہ اس جوے میں کامیاب ہونے کے لیے کئی چالیں سوچتے ہیں،اورکسی ناکسی طرح سے عوام میں انتشارپھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،کبھی عوامی مسائل کولے کرعوام کو جمہوری حق کے تحت احتجااج پرابھارتے ہیں،اوروہی عوم جس نے چندمعمولی مفادات کے تحت ووٹ بیچے ہوتے ہیں وہ مہنگائی اورلاقانونیت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں،توحکومتیں قانونی حقوق کے بجائے احتجاجی حق کے تحت بعض مطالبات کوتسلیم کرلیتی ہیں کہ ان کوبھی آئیندہ ان کی ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا عوام کوکہا جاتا ہے کہ تم باشعور ہواپنی ہرضرورت کے لیے اپنااحتجاجی جمہوری حق استعمال کرواوراس میں اگردوسرے لوگوں کاجمہوری حق مارابھی جائے توکوئی بات نہیں اپناحق حاصل کرنے کے لیے کسی کا کچھ نقصان ہوتا ہے توکیا ہے،آج اسی جمہوری و آئینی حقوق کی وجہ سے عوام آزادکشمیر بلاوجہ مصیبت میں پڑی ہوئی ہے،لیکن اس کے باوجود الیکشن مہم خاموشی سے ہی سہی اطمینان سے چل رہی ہے،کیونکہ جمہوریت ہے توحکومتیں بھی بنیں گی،جمہوریت ہے تواحتجاج بھی چلیں گے۔اگراسلامی آئین وقانون ہوتونہ ایسے لوگ حکمران بن سکتے ہیں، نا اس طرح احتجاج چل سکتے ہیں،اس لیے بظاہریہ ایک دوسرے کے مخالف لوگ درپردہ ایک ہی کام کے لیے جدوجہدکررہے ہیں،علامہ اقبال نے کہا تھا،”جمہوریت ہے ایک طرزِ حکومت جس میں،بندوں کوگنا کرتے ہیں تولانہیں کرتے“۔اللہ تعالیٰ اس پاکستانی قوم کواسلام کی طرف لوٹنے اوراس کے لیے جدوجہدکرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔وماعلی الاالبلاغ۔
حکیم قاری محمدعبدالرحیم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *