ترتیب .نظام الدین
شاعر مشرق علامہ اقبال نے ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا؟
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
یہ اشعار مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت عقبہ بن نافعؓ سے منسوب کیے گئے جب وہ مراکش کے مغربی ساحل پر پہنچے تو آگے بحرِ اوقیانوس کا بے کنار سمندر تھا۔ آپ نے ایک ہاتھ میں اسلامی پرچم دوسرے میں گھوڑے کی لگام تھامی اور گھوڑے کو سمندر میں دور تک لے گئے۔ پھر آسمان کی طرف منہ کر کے یہ تاریخی جملہ فرمایا،
”اے اللہ! اگر یہ سمندر میری راہ میں حائل نہ ہوتا تو میں گھوڑا دوڑا کر تیری زمین کے آخری کونے تک جاتا، جب تک کہ تیری توحید کا بول بالا نہ ہو جاتا۔” قدیم عرب جغرافیہ دان، بحرِ اوقیانوس کی وسعت، تاریکی اور ہولناک موجوں کی وجہ سے اسے “بحرِ ظلمات” کہتے تھے۔ بحرِ اوقیانوس دنیا کا دوسرا بڑا سمندر ہے جو قطبِ شمالی سے لے کر جنوب میں براعظم انٹارکٹیکا تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا سب سے جنوبی حصہ انٹارکٹک خطے سے جا ملتا ہے، جو جغرافیائی اعتبار سے بحرِ منجمد جنوبی کا حصہ بن جاتا ہے۔بحرِ اوقیانوس کا گرم پانی جب جنوب کی طرف بڑھتا ہے تو یہ انٹارکٹک کے انتہائی ٹھنڈے پانی سے ٹکراتا ہے۔ اس ملاپ کے مقام کو انٹارکٹک کنورجنس کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی قدرتی سرحد ہے جو نہ صرف بحرِ اوقیانوس کے موسم کو متاثر کرتی ہے، بلکہ یہاں کے موسم اور لہریں بحرِ ہند اور بحرِ الکاہل کے پانی اور درجہ حرارت کی منتقلی کا بھی سب سے بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ راقم الحروف جب بھی پاکستان میری ٹائم میوزیم جاتا ہے، تو علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ کر رک جاتا ہے اور وہاں موجود انٹارکٹیکا ڈائراما کا خوبصورت 3D ماڈل دیکھتا ہے۔ انٹارکٹیکا کے برفیلے ماحول اور وہاں موجود پاکستان انٹارکٹک ریسرچ اسٹیشن میں سائنسی مہمات دیکھ کر ماضی کی ‘نیشنل جیوگرافک’ کی وہ پرانی ڈاکیومنٹری یاد آجاتی ہے جو میں نے بچپن میں دیکھی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اگر کراچی کے ساحل سے تقریباً 24٫8 ڈگری شمال سے جنوب کی جانب سیدھا سمندری سفر کرنے پر ہزاروں کلومیٹر تک کوئی خشکی یا براعظم سے حائل ہوئے بغیر بحریرہ عرب اور بحر ہند سے گزر کر انٹارکٹیکا پہنچا جا سکتا ہے۔ اس طویل اور براہ راست ابی گزر گاہ کو”اوپن اوشین” کہا جاتا ہے میں اکثر سوچتا تھا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ مگر یہ حقیقت 1990ء میں اس وقت سچ ثابت ہوئی جب کراچی کے ساحل سے ایک بحری جہاز “ایم وی کولمبیا لینڈ” 40 سائنسدانوں، ماہرین اور پاکستان نیوی کے اہلکاروں کو لے کر انٹارکٹیکا کے برفیلے براعظم کی طرف روانہ ہوا۔ جنوری 1991ء میں جب انٹارکٹیکا کی سرزمین پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا تو اس کارنامے نے نہ صرف سائنس کی دنیا کو حیران کر دیا، بلکہ پاکستان انٹارکٹیکا پر قدم رکھنے والا اسلامی دنیا کا پہلا اور عالمی سطح پر 28 واں ملک بن گیا۔
یہ مہم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف اوشینوگرافی (NIO) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایم ربانی کی قیادت میں روانہ ہوئی تھی۔ اس سفر کے لیے ایک خصوصاً تیار کردہ آئس بریکر (برف توڑنے والا) بحری جہاز ‘کولمبیا لینڈ’ کرائے پر حاصل کیا گیا تھا۔ اس ٹیم میں سائنسدان، ماہرینِ ارضیات، ماہرینِ بحریات اور پاکستان نیوی کے خصوصی کمانڈوز و انجینئرز شامل تھے۔
15 جنوری 1991ء کو اس ٹیم نے انٹارکٹیکا کی سرزمین پر قدم رکھا۔ پاکستان نے اس برفیلے براعظم کے ‘پنساکولا’ پہاڑی سلسلے کی وادی میں اپنا پہلا مستقل سائنسی تحقیقاتی مرکز قائم کیا، جسے “جناح انٹارکٹک اسٹیشن” کا نام دیا گیا۔ اس اسٹیشن کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے ایک خودکار مرکز بھی قائم کیا گیا جسے “اقبال آبزرویٹری” کا نام دیا گیا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا اتنے دور دراز اور سخت ترین برفانی خطے میں جا کر کامیابی سے اپنا تحقیقاتی اسٹیشن قائم کرنا عالمی سائنسی برادری کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ پاکستان پہلا مسلم ملک بنا جس نے انٹارکٹیکا کی سائنسی تحقیقاتی برادری میں اپنا لوہا منوایا۔ اس مہم کی کامیابی کی بدولت پاکستان کو انٹارکٹک معاہدے کے تحت خصوصی ‘ایسوسی ایٹ ممبر’ کا درجہ حاصل ہوا۔
اس تاریخی مہم کے دوران پاکستانی سائنسدانوں نے متعدد اہم سائنسی تجربات کیے، خطے کی ارضیات اور معدنیات کا جائزہ۔
سمندری حیات اور وہاں کے ماحولیاتی نظام کا تفصیلی مطالعہ۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور زمین کے مقناطیسی میدان کا ڈیٹا اکٹھا کرنا،
پاکستان کا یہ اقدام اس بات کا روشن ثبوت تھا کہ اگر جذبہ سچا ہو اور سائنسی مہارت موجود ہو تو کوئی بھی مشکل یا دور دراز مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
برف زاروں کو بھی تسخیر کیا اہلِ وطن نے
قطبِ یخ بستہ پہ پرچمِ پاکستان لہرایا اہلِ وطن نے
